چھوت یا نفسیاتی بیماری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آئے روز گٹر صاف کرنے والے سینٹری ورکرز کی ہلاکت کے واقعات معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔ پہلے عمر کوٹ تو اب ماڑی پور کراچی میں، گٹر کی صفائی کرتے ہوئے ایک ورکر کی جان چلی گئی جبکہ تین کی حالت تشویشناک ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی میونسپل کارپوریشن یا واٹر بورڈ جو ملک کا بنیادی اوراہم ترین محکمہ جانا جاتا ہے، جدید آلات سے آراستہ نہیں۔ ان لوئر کلاس سینٹیری ورکز کے بارے میں سنجیدگی سے کوئی لائحہ عمل اختیار نہ کرنا اور نہ ہی انہیں حفاظی کٹ فراہم کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔

شاید اس لئے کہ یہ حقیرکام کرنیوالے اوراس دوران مرنے والوں کا تعلق ایک غریب مسیحی کمیونٹی سے ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بند گٹر کو کھولنے کا یہ کام خطرناک ہے کیونکہ بندگٹر میں زہریلی گیس جمع ہو جاتی ہے جس سے ان کی جان بھی جا سکتی ہے۔ پھر بھی وہ اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے گریز کیوں نہیں کرتے اور بیچارے غریب اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کی خاطر زہریلی گیس سے بھرے گٹر وں کو صاف کر نے کے لئے موت کے منہ میں اترجاتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ اگر کسی کی کچھ سانسیں باقی ہوں اوراسے بروقت طبی امداد فراہم کی جائے تو اْس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے اْسے چھوت سمجھ کر مرنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ غریب کی ایف آئی آر تک نہیں کاٹی جاتی۔ احتجاج کرنے پر بھی انصاف نہیں ملتا۔ اس روشن خیال اور ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا ملک بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اور نہ ہی عوام اب تک طبقہ بندی اور چھوت چھات کے بندھنوں سے باہر نکل سکے ہیں۔

ہزاروں سال پہلے برصغیر پاک و ہند چھوت چھات اور ذات پات میں جھکڑا ہوا تھا۔ آریانہ، سکھ شاہی، مغل حتی کہ انگریز بھی اس طبقہ بندیوں کو بدل نہ سکا اور بیچاری چھوٹی ذاتیں استحصال کا شکارہوتی رہیں۔ انیسوی صدی میں بھی پنجابی دیہات سماجی وطبقاتی تفریق میں بٹا ہوا ہے۔ پہلے دور میں ایک زمیندار تھے اوردوسرے کمی کمین ہوا کرتے تھے جن میں لوہار، ترکھان، نائی، کمہار، چمار، مصلی، میراثی، نٹ، جولاہے اور ماچھی تھے۔

ذاتیں ان پیشہ ور لوگوں کی پیشہ ور صلاحیتوں کے حساب سے ترتیب دی گئی تھیں۔ جن کو شودروں کی حیثیت حاصل تھی۔ محمد بن قاسم کے سندھ میں آمد، ہندوستان میں تیمور، افغان حملہ آوروں اور عرب ممالک کے مبلغین کی تبلیغ سے اسلام پھیلا۔ اس کے ساتھ مختلف ادوار میں نسل کشی ہوتی رہی۔ انگریز راج سے قبل بہت سے لوگوں نے پیشہ بدل کر اپنی ذا ت بدل لی۔ مگر انگریز کے عہدنے کاغذی شناخت کا نظام رائج کر کے سماج میں ذاتوں کے مستقل ٹھپے لگا دیے، جو آج بھی جاری ہے۔ بہت سے مسلمان اپنا شجر نامہ عرب سے جوڑتے ہیں۔ مگر ملک میں رہنے والی اقلیتوں کے معاملے میں آج بھی طبقہ بندی اور امتیازی سلوک روا رکھا ہوا ہے۔

مسیحیت کی ابتدا دو ہزار سال پہلے برصغیر پاک و ہند خصوصاً ہندوستان میں یسوع المسیح کے شاگرد حضرت تھوما کی آمد سے ہوئی۔ مسیحیت کا آغاز توہوا مگر کچھ نا خوشگوارحالات کی وجہ سے مسیحیت اترپردیش تک محدود ہو کر رہ گئی۔ پھر شہنشاہ اکبر کے دور میں دو پادری ہندوستان میں آئے اور انہوں نے مسیحیت کی تبلیغ کی۔ اور پھرانگریز وں کے ساتھ پادری بھی آئے اور ہندوستان پر مکمل قبضے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان میں سکولز، ہسپتال اور چرچ بنائے اور تبلیغ کا عمل بھی جاری رہا۔

تاریخ کی گواہی دیکھیں۔ اعظم معراج جو ایک تاریخ دان بھی ہیں، کئی کتابیں لکھ چکے ہیں ان کے مطابق بڑی ذات کے ہندو، راجپوت، سکھ، مسلمان، پنجابی پٹھان، اور چھوٹی ذات نے مسیحیت کوقبول کیا۔ اس کے بعد پنجاب کی باری آئی۔ سب سے پہلے سیالکوٹ میں 1940 1931 میں مسیحیت کومختلف طبقہ کے لوگوں نے قبول کیا۔ 1931 میں سیالکوٹ کے قریب مرالی کا رہنے والا بنام د ت عرف دتہ، جوہندوؤں کی چھوٹی ذات چوہڑا کہلاتی تھی، سے تعلق رکھتا تھا اس نے تیس سال کی عمر میں مسیحیت کو قبول کیا۔

اور اس نے اپنے نچلی ذات برادری کے ہزاروں لوگوں میں مسیحیت کی تبلیغ کی اور انہیں مسیحی بنایا۔ اسی طرح نارووال اور اس کے گرد و نواح کے گاؤں کے نچلی ذات کے لوگوں نے مسیحیت کو قبول کیا۔ اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ مسیحیت قبول کرنے والوں میں صرف چھوٹی ہی ذات کے لوگ تھے۔ اس میں برہمن، سکھ، پٹھان اور مسلمان بھی شامل تھے۔ جنہوں نے بعد میں بڑا نام پیدا کیا۔ جب کوئی مسیحیت میں آتا گیا تو ان کی ذات سے پہچان ختم ہو کر مسیحی یا عیسائی لکھاگیا۔

مگر بدقسمتی ہے کہ ہندوستان ہو یا پاکستان جہاں پہلے ہی سے طبقہ بندیاں موجود تھیں۔ آج بھی دو ہزار سال گزر جانے کے باجود اس کی عملی مشق جاری رکھی ہوئی ہے۔ آج بھی جس کا رنگ کالا ہو اسے مسیحی سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ زیادہ تر مسیحیت کو قبول کرنے والے ان پڑھ اور چھوٹی ذات سے منسلک تھے۔ انگریز نے انہیں تعلیم، صحت جیسے شعبوں کی طرف راغب کیا۔ کچھ کو زمینیں الاٹ کیں جن میں کئی مسیحی چک کی مثالیں موجود ہیں۔ باقی غریب اور ان پڑھ ہونے کی وجہ مسیحی صفائی کے کام کی طرف ہی رہے۔

آج پاکستان میں ہر شعبہ میں مسیحی اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جیسے عہدوں تک بھی پہنچے۔ تعلیم و صحت میں نمایاں کارہائے سرانجام دیے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردارادا کر ر ہے ہیں۔ مگر پاکستان کو معرض وجود میں آئے 72 سال بیت گئے ہیں زمانہ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا سماجی، معاشرتی، معاشی طور پر ترقی یا فتہ ہو گیا ہے مگر ہندوستان اور پاکستان آج بھی سماجی و طبقاتی بندھنوں میں جکڑا ہوا ہے۔

دونوں ممالک میں اکثریت، اقلیت کے نام پر انسانی حقوق پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ اسمبلیوں میں مسیحی نمائندوں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اور انہیں چوہڑا جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔ میڈیا پر مسیحیوں کا رنگ کالا دکھایا جاتا ہے بلکہ کئی دفعہ تو ٹی وی چینلزکے مزاحیہ پروگراموں میں امریکی صدر ٹرمپ کے لئے بھی توہین آمیز اور ہتک آمیز لفظ ”چوہڑا“ کا استعمال کیا گیا ہے۔ افسوس کہ عام مسلمان بلکہ پڑھے لکھے طبقے نے بھی وہی سلوک روا رکھا ہوا ہے جس طرح برہمن مسلمانوں اور نچلی ذات سے روا رکھے ہوئے تھے۔

چوہڑا اب کوئی ذات نہیں یہ کھلاتعصب ہے بلکہ کسی کی تذلیل کرنے یا اسے اپنے سے گھٹیا ثابت کرنے کے لئے اسے چوہڑا کہا جاتا ہے۔ حقائق اپنی جگہ، مگر کچھ مسیحی خود دوسرے مسیحیوں کی تذلیل کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ و ہ اپنی محرومیوں یا احساس کمتری کا بدلا اپنے مسیحی بہن بھائیوں سے لیتے ہیں۔ انکواذیت میں مبتلا کرکے ذہنی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں مسیحیوں کی چوتھی نسل ہے۔ اگر کسی کا چھوٹی ذات سے تعلق تھا تو اس کی سزا یا تذلیل ان کی آل اولاد کی کیوں کی جارہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جوانسان خود اپنی عزت کرنا نہیں جانتا، غیر اس کی عزت کیا خاک کریں گے۔ (شکریہ آفتاب مغل صاحب کا، جن کے علم سے میں نے استفادہ حاصل کیا۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •