چلو چلو جنگل کو چلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میاں گیڈر، یہ تم کدھر کو آ رہے ہو؟“

”بی لومڑی! میں نے نہیں یہاں جنگل میں رہنا، شیر ظالم ہے، بادشاہت کے رعب میں ہم جانوروں پر ظلم کرتا ہے۔ نا یہاں پر کھانے کو کچھ خاص ہے، میں تو انسانوں کی بستی میں جا رہا ہوں۔ کیا اونچی اونچی عمارتیں ہیں وہاں۔ یہ بڑے بڑے گھر، وہ طرح طرح کے پکوان کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں۔ میں نے تو اب یہاں نہیں رہنا، پکا فیصلہ کر لیا ہے میں نے۔ اچھا بی لومڑی تم کہاں سے آ رہی ہو؟“

”ہائے کیسی باتیں کرتا ہے نگوڑے؛ توبہ کر توبہ، میں وہاں سے آ رہی ہوں، جہاں تو جا رہا ہے۔ پر پوچھ مت، گزری کیا۔ میں نے بھی سنا تھا بڑا، انسانوں کی شان و شوکت کا۔ اشتیاق اتنا بڑھا کہ سوچا، چلو بی! ذرا جا کر دیکھیں۔ انسان کمبخت کی شان و شوکت جس کی وجہ سے ہمارے جنگل بھی کٹ رہے ہیں۔ پر جو جا کر دیکھا کیا بتاؤں، توبہ توبہ جنتے بڑے گھر ہیں اتنے چھوٹے دل۔ یہ بڑے بڑے گھر، وہ لمبی لمبی کاریں، مال و دولت کی ہیر پھیر پر اندر سے جو انسان نکلے کمبخت اتنے کمینے دو آنے بھی کسی کو نہ دیں۔

”میاں! جانور تو تب شکار کرتا ہے جب بھوکا ہو، اتنا ہی کھاتا ہے جتنی بھوک ہو اور باقی دوسروں کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ لالچ نہیں کرتا اور نہ ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ رب پر پکا یقین رکھتا ہے کہ وہ آئندہ کے لیے کوئی سبب بنا دے۔ اور انسان! بڑا مذہبی بنتا ہے، اس کے تو من و من خزانے بھرے ہوئے ہوں گے پر لالچ نہیں جاتی، اس کا بس چلے تو وہ دوسروں کے منہ سے نوالے تک چھین لے۔ وہاں تو میاں وہ برادریاں ہیں، وہ ذات پات کی لڑائیاں ہیں کہ دیکھتے دیکھتے بندے مار دیے جاتے ہیں۔ نہ بڑے کی تمیز اور نہ چھوٹے کا لحاظ، جننے والی ماں کو ہی گھر سے نکال دیتے ہیں۔

”شیر کیا ظلم کرے گا وہ تو ایک ہی آن میں جان نکال کر دشمن کو ختم کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں تو ایسی کوئی دشمنی ہے ہی نہیں پر میاں انسان سے بڑا کوئی ظالم نہیں جو موت کے بھی سو طریقے ایجاد کرتا ہے اور ڈھونڈتا ہے کہ دشمن کے لیے زیادہ تکلیف دہ کون سا والا ہو گا۔ وہ تو دشمنیاں نسل در نسل چلاتا ہے۔ میاں وہاں قتل کی بھی کئی اقسام ہیں کوئی غیرت کے نام پر قتل کر رہا ہے تو کوئی مال و دولت کے لیے اپنے ہی خون کو سولی پر ٹانک رہا ہے تو کوئی تخت کے لیے لاشوں پہ لاش گرا رہا ہے اور کیا کیا بتاؤں۔

”بڑا افضل بنا پھرتا ہے یہ انسان کمبخت آزاد بھی نہیں ہے اپنی مرضی سے ہل جل بھی نہیں سکتا۔ حاکموں کا ماتحت ہے ہر وقت ان کی بجا بجا کرتا رہتا ہے۔ قانون کی وہ بڑی بڑی کتابیں ہیں، پڑھنے بیٹھو تو رات پڑ جائے پر صفحے ختم نہ ہو مگر اصل قانون تو جنگل کے قانون سے بھی گندا ہے۔ عدل و انصاف تو صرف دکھانے کے واسطے ہوتا ہے ویسے تو لاٹھی کا راج چلتا ہے۔

”ہم کم از کم آزادی سے پورا جنگل تو گھوم پھر سکتے ہیں اور وہ بے وقوف انسان یہ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ اس کا ملک تو وہ اس کا ملک۔ یہ ہی کھیل کھیلتے رہتے ہیں، وہ لوگ تو اور پتا ہے اس کھیل میں ملتا کسی کو کچھ نہیں بس بندے مر جاتے ہیں مگر اس بدبخت کو ذرا دکھ نہیں ہوتا۔ ساری عمر دوسروں پر قابض ہونے کے جتن کرتا رہتا ہے اور آخر کو کم بخت خالی ہاتھ مر جاتا ہے پچھلوں کو عذاب ڈال کر۔ کیا بتاؤں کیسے بچ بچا کر آئی ہوں اگر اس انسان کے ہتھے چڑھتی تو ہاتھ پاوں سب توڑ دیتا، کھال تک ادھیڑ دیتا ایسا ظالم ہے نگوڑا۔“

”بی لومڑی ؛ کیا تو سچ کہتی ہے؟“

”ہاں بے وقوف میں کیوں جھوٹ بولوں گی۔ تو تو بے عقل ہی رہے گا ہمیشہ، نہیں یقین تو خود جا کر دیکھ لے مجھے کیا۔“

”نا بی؛ توبہ کرو مجھے تو تم پر پورا یقین ہے۔ یہاں کیوں کھڑی ہو، چلو چلو جنگل کو چلیں۔ کہیں انسان نہ آ جائے اور ہمیں پکڑ کر نہ لے جائے۔“

”ہاں ہاں، چلو چلو، اپنا جنگل ہی اچھا ہے۔ میاں سنانے کو تو اور بھی بڑے قصے ہیں اس انسان کے پر کیوں اپنا جی جلانا، اللہ ہی اس انسان کو ہدایت دے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •