ون یونٹ اور جی ایم سید
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی تمام غیرمعمولی شخصیات متنازعہ ہوتی ہیں، کیونکہ وہ اپنے سماج، ملک اور قوم میں تبدیلی لانے کے لئے نئے نظریات، خیالات، افکار اور سوچ لاتے ہیں اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ تمام بڑی شخصیتیں وقت کے حاکموں، بادشاہوں، مذہبی انتہاپسندوں، رجعت پسندوں اور قدامت پسندوں سے ٹکراؤ میں آتے ہیں اور پھر متنازعہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیدا ہونیوالے سیّد غلام مرتضیٰ شاہ المعروف سائیں جی ایم سیّد بھی پاکستان کی بلاشک غیرمعمولی متنازعہ شخصیت ہیں اور ان کے نظریات، خیالات اور سیاسی افکار ہی ان کے متنازعہ ہونے کی وجہ بنے۔
سائیں جی ایم سیّد کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں خلافت تحریک کی جدوجہد ہو یا سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی جدوجہد، قیام پاکستان ہو یا سندھودیش کی آزادی کی تحریک کا آغاز، ون یونٹ کے خلاف جدوجہد ہو یا کسانوں کے حقوق کے لئے تحریک ہو سیّد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان تمام پہلوؤں کے علاوہ سید کی علمی، ادبی، ترقی پسند سیاست، تصوف، انجمن اردو کی ترقی اور بزم صوفیأ میں بھی ایک بڑی پہچان اور نمایاں کردار رہا ہے۔
میں یہ بات مضبوط دلائل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جہاں پاکستان کی سیاسی تاریخ اور قیام پاکستان کی بات ہو اور سائیں جی ایم سیّد کی بات نہ ہو تو وہ ان کے شخصیت کے ساتھ زیادتی ہوگی اور اگر سندھ اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کا ذکر ہو اور سائیں جی ایم سیّد کا ذکر نا ہو تو وہ بھی ان کی شخصیت کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔
سیّد کی مذہبی رواداری اور ترقی پسند سوچ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے سیّد کراچی لوکل بورڈ کے صدر تھے اور بورڈ کی ایک نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے تھے، لیکن برطانوی راج اس بات کے درپے تھا کہ کسی طرح سے وہ اس عمارت کا افتتاح نہ کر پائیں۔ سیّد ایک روشن خیال اور مذہبی رواداری کے علمبردار تھے۔ اس لیے انہوں نے جب اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کروایا تو اس موقعے پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دعائیں کروائی گئیں۔
مولوی محمد صادق نے تلاوت کلامِ پاک سے اس تقریب کا آغاز کیا۔ مسیحی ریورنڈ ایلگر نے اپنے مذہبی دعائیہ کلمات پیش کیے۔ پارسیوں کی جانب سے ڈاکٹر ایم ایف ڈھالا نے اپنی مذہبی کتاب کا حوالہ پڑھ کر سنایا، جس کے بعد ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے پنڈت وشوناتھ شاستری نے گیتا کے اشلوک سنائے اور آخرمیں بھائی دھرم سنگھ نے بھی گرونانک کی تعلیمات میں انسان دوستی کا ذکر کیا۔
سیّد کے تمام پہلو ایک طرف لیکن آج ہم ان کے اینٹی ون یونٹ موومنٹ کے کردار پر بات کریں گے۔ معروف کالم نگار محترم اختر بلوچ اپنی کتاب ”کرانچی والا 2“ میں لکھتے ہیں کہ ”قیامِ پاکستان کے بعد کے سیاسی منظر نامے پر بھی سیّد نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ 1948 میں انہوں نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی کے خلاف مہم کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ وہ 1953 میں سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے منتخب ہوئے، انہوں نے ون یونٹ کی مخالفت کی اور اس کا نتیجہ ان کی گرفتاری پر منتج ہوا۔“
سائیں جی ایم سیّد نے 9 مارچ 1969 میں حیدرآباد میں اینٹی ون یونٹ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ”1938 ء میں سندھ کی جدا اسمبلی قائم ہوئی اور سندھی وزارت وجود میں آئی، 1954 تک باوجود وزارتوں کی تبدیلی کہ اس کا وجود قائم رہا مگر اس کے بعد ایک بڑے صوبے کے مستقل مفادات کی خاطر سندھ کو زبردستی ون یونٹ میں داخل کیا گیا، اس دور میں سندھی میمبران نے اقتدار کے حصول، شخصی اختلافات اور مختلف اسباب کی وجہ سے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں اور ون یونٹ باھمی اختلافات اور میمبران کی خودمطلبی کی وجہ سے بنا۔ “
سیّد صاحب نے مزید کہا تھا کہ: ”میں عوامی لیگ کے لیڈر شیخ مجیب الرحمان اور اہل بنگال کی ان تمام سیاسی پارٹیوں کا شکریہ ادا کرنے سے نہیں رہ سکتا جنہوں نے بغیر کسی شرائط کے ون یونٹ کے خاتمے اور مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں کو مکمل آٹونامی دلانے کے لئے آواز بلند کیا ہے۔“
سائیں جی ایم سیّد نے بہت سے سیاسی تجربات بھی کیے اور انہوں جو سیاسی غلطیاں کیں ان کو واضح طور پر اپنی کتابوں میں قلمبند کیا اور یہی ایک مفکر اور دوراندیش سیاستدان کی خوبی ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطیاں تسلیم کرے اور مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دے۔ جی ایم سیّد برصغیر کے سیاسی افق پر ایک چمکتا ستارہ تھا جس نے جب سندھ اسمبلی میں پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد پیش کی تو اس وقت کے دوراندیش سیاستدان شیخ عبدالمجید سندھی نے اس پر اسمبلی میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”سیّد صاحب نے یہ قرارداد پیش کرکے برصغیر کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔“ میں بحیثیت ایک طالب علم اورصحافی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ اگر کسی کو دھرتی ماں Earth Mother کا Concept سمجھنا کے تو وہ جی ایم سیّد کو ضرور پڑھے۔
محترم خادم حسین سومرو اپنی کتاب (سندھ کھاٹی ء جی ایم سیّد) میں لکھتے ہیں کہ: ”سیّد صاحب کی صوفیانہ میٹنگس جاری تھی تو اس دوران سندھ کے طلبہ نے 4 مارچ 1967 کو ون یونٹ توڑنے اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے، حیدرآباد کے اس وقت کے کمشنر مسرور خان نے سختی سے کام لیتے ہوئے طلبہ پر تشدد کروایا اور ان کو جیلوں میں قید کردیا اور پھر طلبہ کے اس عمل نے پوری سندھ میں تحریک کو مزید مضبوط کردیا اس دوران حکومت نے سائیں جی ایم سیّد کو 23 جون 1967 کو قید کردیا اور ٓصدر ایوب خان کے خلاف سیاسی تحریکیں شروع ہو گئیں۔ اس طرح حکومت نے دباؤ میں آکر دیگر سیاستدانوں کو تو آزاد کردیا مگر سندھ کے قوم پرستوں کی نمائندگی کرنے والے جی ایم سیّد کو آزاد نہیں کیا۔ “
یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی لازمی ہے کہ سندھ کے لوگوں کے سیاسی دباؤ کے بعد سیّد صاحب کو آزاد کردیا گیا اور انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں۔
سومرو صاحب مزید لکھتے ہیں کہ: ”ملک میں نئے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیّد صاحب نے 9 مارچ 1969 کو سندھ متحدہ محاذ کی میٹنگ منعقد کی جس میں معروف سیاستدانوں نے شرکت کی اور اس کے بعد سید نے بنگال کے قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان سے رابطہ کیا اور ان کو سندھ تشریف لانے کے دعوت دی اور شیخ صاحب اگست 1969 میں سندھ آئے تو سیّد صاحب نے ان کے لئے انٹر کانٹینینٹل ہوٹل کراچی میں دعوت منعقد کی۔ “
اس ملاقات کی افتتاحی تقریر میں سیّد صاحب نے کہا تھا کہ: ”ون یونٹ نے سندھ کے لوگوں کی خودداری کے احساس کو مجروح کرنے کے ساتھ ان کو آزادی کی نعمت سے بھی محروم کردیا ہے، درحقیقت موجودہ صورتحال میں آزادی کی کوئی بھی معنیٰ نہیں رہتے جب حالات اس قدر ہوں کہ ایک علاقے کے شہریوں کو یہ حق بھی حاصل نہ ہو کہ وہ اپنے میونسپل معاملات خود چلانے کے اختیارات رکھتے ہوں ِ۔ “
سیّد صاحب اس میٹنگ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے بلوچستان کا دورہ کیا اور ون یونٹ کے خاتمے کے لئے بلوچستان کے نواب آف سراوان نواب غوث بخش رئیسانی کو تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی اور نواب صاحب نے سندھ متحدہ محاذ کی طرح 5 آکتوبر 1969 کی میٹنگ میں بلوچستان متحدہ محاذ قائم کی۔
سیّد صاحب ایک ترقی پسند اور رودار سیاستدان تھے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شروعاتی دنوں میں سیّد صاحب مذہبی جنونیت میں مبتلا تھے جو انہوں نے اپنے کتابوں میں واضح لکھا ہے مگر بعد میں ”جیسا میں نے دیکھا“ کتاب لکھ کر انہوں نے ثابت کیا کہ انسان نظریاتی یا کسی عقیدے میں ہمیشہ جنونی نہیں رہتا بلکہ وہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
پروفیسر اعجاز قریشی اپنی کتاب (ون یونٹ سندھ) میں لکھتے ہیں کہ: ”محترم جی ایم سیّد سندھ کی وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی سندھ کے لئے وقف کردی۔ ان کی جدوجہد اور کارنامے کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں، انہوں نے سیاست کی عملی شروعات خلافت تحریک سے کی، سیّد صاحب نے ون یونٹ کے قہری قلعہ کو گرانے کے لئے بڑی جدوجہد کی، پارلیمینٹ میں ہوں یا عوام کے ساتھ، جیل میں ہوں یا نظربندی میں، ان کی اولین ترجیحات میں سندھ اور سندھیوں کے اجتماعی مفادات ہی عزیز رہے۔ “
جب 1954 میں سندھ اسمبلی ون یونٹ کی حمایت میں قرارداد پاس کر رہی تھی تو جی ایم سیّد کی مخالفت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو گرفتار کر لیا گیا اور جب وہ آزاد ہوئے تو ملک گیر تحریک چلانے کا آغاز کردیا۔
قریشی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ: ”سید صاحب نے 27، اکتوبر 1955ء میں حیدرمنزل کراچی میں اینٹی ون یونٹ کا کنونشن منعقد کیا جس میں دیگر صوبوں کے بڑے سیاسی راہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی اور اس کنونشن کی جانب سے پریس کو جو بیان جاری کیا گیا تھا وہ کچھ اس طرح تھا، ’حکمران ون یونٹ کا بل قانون ساز اسمبلی سے منظور کروا کر اس کو قانونی شکل دینا چاہتے ہیں جو قرارداد لاھور 1940 کی نفی ہے، ون یونٹ سندھ اور دیگر صوبوں پر غیرجمھوری انداز سے مسلط کرکے ان کے حقوق چہیننے کے برابر ہے اور وہ نقصانکار ثابت ہوگا، لہذا ہم پرامن آٗئینی اور قانونی طریقے سے اس کی مزاحمت کریں گے اور ہم پنجاب اور بنگال کے بڑے صوبوں کو نئے پاکستان کے مفاد، اتحاد اور سالمیت کے نام پر گزارش کرتے ہیں کہ وہ چھوٹے صوبوں کی صوبائی خودمختیاری کو اپنی خودمختیاری کے تناظر میں دیکھیں اور اس غیر جمھوری عمل کو رد کریں۔‘“
سیّد صاحب نے اس دوران بزم صوفیاء کے تحت سندھ کے لوگوں میں سیاسی اور قومی شعور پیدا کیا مگر 23 جون 1967 ء میں سیّد صاحب کو گرفتار کیا گیا اور بزم صوفیاء پر پابندی عائد کی گئی، سیّد صاحب کو جیل میں بڑی تکلیفیں دی گئی اور بیماری کی حالت میں ان کو کسی بڑے شہر میں علاج کروانے کی اجازت تک نہیں دی گئی کیونکہ اس وقت کا گورنر محمد موسیٰ حیدرآباد اور نوابشاہ میں تقاریر میں یہ کہہ چکا تھا کہ ”حیدربخش جتوئی اور جی ایم سیّد کو جیل میں اس لئے قید کیا گیا کہ انہوں نے ون یونٹ کی مخالفت کی اور غیرسندھیوں کو سندھ کی زمین دینے سے انکار کیا۔“
سندھ، بلوچستان، اورسرحد میں سیاسی تحریکیں زور پکڑنے لگیں اور بنگال کے قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے بھی ون یونٹ کی مخالفت کی اور صوبوں کی بحالی کے لئے اسمبلی کے اندر اور عوامی سطح پر شدید احتجاجی تحریکیں چلیں جس کے بعد یحیٰ خان نے قومپرستوں کی ون یونٹ مھم اور اور وقت اور حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے 1 جولائی 1970 ء پر ون یونٹ کو LFO۔ 1970 کے تحت توڑ کر سندھ، بلوچستان، سرحد، پنجاب اور بنگال صوبوں کو بحال کیا۔
سیّد صاحب کے سیاسی نظریات کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے اور تعمیری تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیّد صاحب کا علمی، ادبی، ثقافتی موضوعات پر ایک گہرا مطالعہ تھا اور انہوں نے جدید قوم پرستی کو کلچر اور تہذیب کی بنیاد پر بیان کیا ہے جس میں کوئی فاشزم نہیں ہے مگر دیگر قومیتوں کی تاریخی حیثیت، ان کی تہذیب، ثقافت اور اجتماعی مفادات کا احترام کرنے کا پیغام دیا ہے کیونکہ وہ قوموں کی اپنی دھرتی سے محبت اور قومی تشخص کے حامی تھے۔


