میرا شہر کراچی کچرا کنڈی، ذمیدار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ملکی سیاست پہ کراچی شہر حاوی نظر آ رہا ہے۔ کراچی شہر کی صفائی ستھرائی، نکاسی و فراہمی آب کے مسائل، کراچی کے نالوں کی صفائی میں حائل مشکلات، کراچی شہر کے طول و عرض میں پھیلی گندگی، غلاظت، گلی گلی پھیلے کچرے نے قومی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہوئی ہے۔ کراچی کے ان مسائل کو سمجھنے کے لئے ہمیں کراچی کے وسائل پہ قابض گروہ اور ان کی سیاست کا تفصیلی جائزہ لینا پڑے گا، تب ہی جاکر کراچی کے مسائل کے اصل ذمے داران کا تعین کیا جا سکے گا۔

اس وقت کراچی کی موجودہ اور سابقہ مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں میں کراچی میں بارش کے پانی کھڑے ہونے کا مسئلہ ہو یا جگہ جگہ پھیلی غلاظت اور گندگی کا، قربانی کی آلائشیں اٹھانے کا مسئلہ ہو یا کلین کراچی کا کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینکنے کا ایک ہیجانی بیانات، الزام در الزام کا سلسلہ جاری ہے، مگر ان بیانات کے طوفان میں گھِرا ہُوا نظر آتا ہے تو صرف کراچی اور کراچی کے دوکروڑ عوام۔

اب اگر کراچی شہر کی موجودہ انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا جائزہ لیں اور ایمانداری سے تجزیہ کیا جائے تو کراچی کا مینڈیٹ رکھنے والی ہر جماعت اس صورتحال کی ذمے دار ہے، مگر سب سے زیادہ کراچی کی تباہی کی ذمے داری متحدہ قومی موومنٹ پہ عاید ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم پچھلی تین دہائیوں سے کراچی پہ راج کرتی آئی ہے۔ کراچی سے ایم این ایز ایم پی ایز سے لے کر بلدیاتی نمائندوں تک ایم کیو ایم سے وابستہ رہے ہیں۔

اگر کراچی کی تعمیر ترقی، کراچی کے مسائل و مشکلات، کراچی کی صفائی ستھرائی، برساتی نالوں کی صفائی کا جائزہ لیں اور اس مد میں کراچی کو ملنے والے فنڈز پہ نظر ڈالیں تو صرف جنرل مشرف کے دور حکومت سے لے کر آج تک کراچی کو پانچ سو ارب روپے سے بھی زائد فنڈز مل چکے ہیں مگر حالات آج پچھلے تیس سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تشویشناک ہیں۔ صورتحال انتہائی ابتر اور عوامی غم و غصہ آسمان کو چھوتا نظر آ رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کراچی کے مینڈیٹ کا دعویٰ بڑے فخریہ انداز سے کرتی رہی ہے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ کراچی کی موجودہ دگرگوں صورتحال کی ذمے داری لینے میں بھی اسی جرات سے کام لیتے اور کراچی کی عوام سے اپنے رشتے اور وابستگی پہ مہر ثبت کرتے۔ مگر ایسا ہوا نہیں متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کی عوام کو صرف مہاجر کے نام پر تین دہائیوں سے بے وقوف بنایا ہوا ہے۔

جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کے تحت ہوئے انتخابات میں کراچی سے جماعت اسلامی کے الخدمت پینل کے نعمت اللہ خان کراچی کے پہلے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ انہوں نے کراچی کی تعمیر نو اور کراچی پانی سیوریج نالوں کی صفائی کی مد میں 2900 ملین روپے سے زائد کی رقم خرچ کی مگر حالات جوں کے توں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ متحدہ کی سیاسی اور غنڈہ گردانہ مداخلت تھی کیونکہ پرویز مشرف صاحب کا فوجی راج تھا اور متحدہ قومی موومنٹ وفاقی و صوبائی حکومت میں ایک بڑی شراکت دار تھی جبکہ صوبہ سندھ عملاً ”بھائیوں“ کے حوالے تھا۔

2005 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی بلدیہ بھی متحدہ قومی موومنٹ کو دے دی گئی اور مصطفیٰ کمال کراچی کے دوسرے ناظم بنے۔ اس دور میں بقول مصطفیٰ کمال انہوں نے 30 ہزار کروڑ روپیے کراچی کی تعمیر، ترقی، بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی کی مد میں خرچ کیے مگر نہ تو کراچی کے کچرے کا کچھ ہوا نہ ہی کراچی کے برساتی نالوں کا، نہ ہی کراچی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوا نہ امن و امان کے صورتحال بہتر ہوئی، بھتا خوری، زکوٰۃ و فطرات کے نام پہ عام آدمی کو لوٹنا، تنظیمی چندے اور لندن مرکز کے خرچ کے بہانے کراچی کی کاروباری برادری متحدہ کے ہاتھوں میں یرغمال بنی رہی۔

2008 میں متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، پھر 2013 میں مسلم لیگ ن کے ساتھ مرکز اور صوبے میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شامل رہی۔ گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں کراچی کی بیس میں سے چار نشستیں جیتنے والی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ایک بار پھر وفاقی حکومت کا حصہ بنی۔ جبکہ 2015 سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سمیٹ کر متحدہ پہلے ہی کراچی میٹروپولیٹن کی میئر شپ کی حقدار ٹھہری تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ باوجود میئر شپ کے مزے لوٹنے فنڈز کا اپنے مفادات اور منشاء کے مطابق استعمال کرنے کے متحدہ اختیارات نہ ہونے کا رونا بھی روتی رہی۔

میئر کراچی وسیم اختر پچھلے چار سالوں میں پچاس ارب روپے کے قریب فنڈز کے ایم سی کے لئے حاصل کر چکے ہیں جبکہ سالانہ وفاقی ترقیاتی پروگرام اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے تحت خرچ ہونے والی رقوم اس کے علاوہ ہیں۔ متحدہ سندھ بلدیاتی ایکٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بناتی رہی، اس کی غیرافادیت پر سوال بھی کھڑے کرتی رہی، مگر پھر بھی اقتدار سے چمٹی رہی۔

2001 سے 2010 تک پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی کے ناظم کے پاس شہر کی پلاننگ کے علاوہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کراچی ریونیو ڈیپارٹمنٹ، کراچی لینڈ رجسٹری، کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت وہ سب پاورز تھے جو کہ وزیر اعلیٰ کے پاس ہونے چاہیے تھے مگر جنرل مشرف کے دور میں کراچی کا ناظم وزیر اعلیٰ سے بھی زیادہ طاقتور اور اختیارات کا حامل تھا۔

پیپلز پارٹی 2018 سندھ میں ایک بار پھر برسرِ اقتدار آئی تو متحدہ اس بار وفاق میں پی ٹی آئی کی ہم رکاب بن گئی۔ کراچی کی میونسپل سروسز کے اختیارات کے ساتھ تین وفاقی وزارتیں ان کے حلقہ یاراں کے پاس ہیں جبکہ کراچی سے صدر پاکستان، سمیت آدھے درجن سے زائد وفاقی وزراء اختیارات اور مراعات کے مزے لُوٹنے میں مصروف ہیں۔ کراچی میں صفائی ستھرائی کے معاملات ویسے تو ہمیشہ سے میڈیا کی زینت رہے ہیں مگر اس بار چونکہ ملک کو جنت کا ٹکڑا بنانے کے دعویدار عمران خان صاحب خود کراچی سے انتخاب لڑے اور پھر وزیراعظم بھی منتخب ہوئے تو کراچی حالیہ بارشوں کے باعث ملکی اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

حالیہ غیرمعمولی بارشوں کی پیشنگوئی محکمہ موسمیات پہلے ہی کرچکا تھا۔ اس سلسلے میں حکومت سندھ نے اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے کے ایم سی کو نہ صرف برساتی نالوں کی صفائی کی ہدایات جاری کیں بلکہ اس مد میں کروڑوں روپے کے فنڈز بھی فوری طور جاری کیے گئے، مگر حسبِ روایت متحدہ کے میئر سندھ حکومت کے فنڈز تو لیتے رہے مگر اپنی ذمے داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ غیرمعمولی برسات نے ان کی کارکردگی کا سارا پول کھول دیا۔

تین دہائیوں سے کراچی کے وسائل پہ قابض ٹولا ایک بار پھر اپنی کرپشن لوٹ مار کا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔ وفاقی وزیر علی زیدی بھی ان کے ساتھ اس کارِ خیر میں حصہ ڈالتے پیپلز پارٹی پہ تنقید کے نشتر برساتے رہے اور دعویٰ کیا کہ شہر کے برساتی نالے اور کچرا وہ آنکھ جھپکتے صاف کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پہلے ایف ڈبلیو او سے مدد مانگی، پھر اپنے قائد کی عادت کو اپناتے ہوئے کراچی کی صفائی کے لئے عوام سے چندے کی درخواست کرتے رہے، اور کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ ڈالتے رہے جس کی وجہ سے کراچی کی صورتحال بہتری کے بجائے مزید ابتر ہوگئی۔

ایم کیوا ایم جو اب کئی ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے اس کے اپنے لوگ کراچی کی تباہی اور گندگی غلاظتوں کے ڈھیر کا ذمے دار میئر وسیم اختر کو سمجھتے ہیں۔ شہر کے سابق ناظم نے تو چیلنج دیا کہ کراچی وہ تین ماہ میں صاف کرکے دکھا سکتے ہیں جبکہ موصوف پانچ سال شہر کے با اختیار ترین ناظم رہ چکے ہیں اور تین سو ارب روپے کراچی پہ خرچ بھی کر چکے ہیں، لیکن کراچی وہی کچرا کنڈی بنا رہا اور کسی کو نہیں معلوم نہ ہی کسی ادارے کو یہ توفیق ہوئی کہ سابقہ ناظم صاحب کے دور میں خرچ کیے گئے تین سو ارب کا کوئی حساب لے سکے۔

مصطفیٰ کمال صاحب کے دعوے پہ میئر کراچی نے بھی فوری طور پر انہیں کچرا غلاظت اٹھانے کے کام کی سربراہی سونپی اور پھر صبح سویرے انہیں اپنے پاس حاضری نہ لگانے کا الزام لگا کر ذمے داری سے برطرف بھی کردیا۔ میئر وسیم اختر کے اس اقدام پر ان کی اپنی جماعت میں شدید اختلاف پیدا ہوگئے ان کے باقی ماندہ ساتھی سمجھتے ہیں کہ ان کے اس اقدام نے اختیارات نہ ہونے کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے، ان کے ساتھی حیرت زدہ ہیں کہ اکیلے وسیم اختر حکومت سندھ سے ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز ڈکار گئے اور انہیں فنڈز کی بندر بانٹ متحدہ میں مزید دھڑوں مزید ٹکڑوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ متحدہ کے منحرفین فاروق ستار اور ایک اور دھڑے کے رہنما شاہد پاشا میئر وسیم اختر سمیت اپنے پرانے ساتھیوں پہ اربوں کھربوں کی لوٹ مار کرنے بیرونِ ملک اثاثے بنانے اور میئر کراچی کی فوری برطرفی اور ان کے خلاف نیب انکوائری کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

کراچی کو ایک ایسے مسیحا کی ضرورت ہے جو خوف خدا رکھنے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو، نیک نیتی ایمانداری سے کراچی کے حقیقی مسائل کو سمجھتے ہوئے اگر کوششیں کی جائیں تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل نہ نکالا جا سکے۔

کراچی کئی دہائیوں بعد کشت وخون کے سمندر کو عبور کرکے اب امن و ترقی کی جانب سفر طے کر رہا ہے مگر کئی سو ارب خرچ کرنے، بلند و بانگ دعووں کے بعد بھی ہمارے ملک کا سب سے بڑا شہر، ہمارا معاشی حب صوبہ سندھ کا دارالحکومت کچرے، گندے گٹر زدہ پانی کے جوھڑوں، برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے جیسے مسائل اور مکھیوں مچھروں کی بہتات کی شرمناک وجہ سے عالمی شہ سرخیوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے تو یہ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے۔

کراچی کے وسائل، کراچی کے عوامی مینڈیٹ پہ قابض ایک نسل پرست ٹولا کراچی کی تباہی کا ذمے دار ہے اور نیب سمیت تمام اداروں اربابِ اختیار وزیراعظم پاکستان کو اپنے ”نفیس لوگوں“ کی سالہا سال سے جاری لوٹ کھسوٹ اور ان کے ملک سے فرار، فراریوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں کرنی چاہیے تاکہ نہ صرف ان لٹیروں سے کراچی سے لوٹے ہوئے اربوں کھربوں روپے کی برآمدگی ہو سکے، کراچی کو قومیت، لسانیت اور زبان کے نام پر محصور کرنے والی عفریت سے نجات مل سکے، کراچی کے مسائل کی درست، ایماندارانہ طریقے سے تشخیص اور اس کا مکمل علاج ممکن ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •