کشمیر: بھولے ہیں ہم کہاں سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی راج کے اختتام پر ہندوستان میں پانچ سو باسٹھ آزادریاستیں تھیں۔ ماسوائے کشمیر، جوناگڑھ اور حیدرآباد کے ان تمام نے ہندوستان میں شمولیت اختیارکر لی۔ حیدر آباد ایک امیر ریاست تھی جس کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب بیس فی صد سے بھی کم تھا۔ یہ ریاست چاروں طرف سے ہندوستان سے گھری ہوئی تھی۔ اس کے برعکس کشمیر میں مسلمان اکثریت میں تھے اور حکمران سکھ تھا۔

نظام حیدر آباد اپنی ریاست کو آزاد حیثیت دینا چاہتے تھے۔ یہ انڈیا کو کسی صورت میں قبول نہیں تھا۔

سردار پٹیل نے نظام کوصاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ انڈیا اس کی آزادی کسی صورت میں قبول نہیں کرے گا۔ اس نے استصواب رائے کروانے کی بھی رائے دی۔ نظام حیدرآباد کے ماننے کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات، ریاست میں اسلحہ سے لیس رضاکاروں کی موجودگی اور چیکو سلواکیہ سے براستہ پاکستان اسلحہ کی تر سیل کی وجہ سے یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔

ادھرہندوستان نے حیدرآباد کے رضاکاروں پر سرحدی علاقوں میں قتل، زیادتی اور لوٹ مار کے الزامات لگانے شروع کر دیے۔ اب حالات واضح طور پر جنگ تک پہنچ چکے تھے۔ 11 ستمبر 1948 کو جب قائد اعظم کی رحلت ہوئی تو اس کے اگلے ہی دن ہندوستانی فوجیں حیدرآباد میں داخل ہو گئیں۔ پانچ دن بعد حیدر آباد کی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیے اور اس کا حکمران نظام بھاگ کر پاکستان آگیا۔

اس سے بہت پہلے 1947 میں 18 سے 24 جون کے درمیان کشمیر کے دورے کے دوران لارڈ موئنٹ بیٹن نے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کو کہا تھا کہ اگر کشمیر پاکستان کے ساتھ مل بھی جائے تو انڈیا کی حکومت اس کا برا نہیں منائے گی۔ لارڈ نے ہری سنگھ کو کہا کہ سردار پٹیل نے اسے خود یہ تسلی دی ہے۔ 2018 میں شائع شدہ کتاب Kashmir: Glimpses of History and the Story of Struggle۔ میں کانگریسی لیڈر سیف الدین سوز نے لکھا ہے کہ 13 ستمبر 1947 تک انڈیا کے پہلے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ پٹیل کا خیال تھا کہ اگر کشمیر پاکستان کے پاس چلا بھی جائے تو ٹھیک ہے۔

سردار شوکت حیات نے بھی اپنی کتاب The Nation That Lost its Soul میں اس سے ملتے جلتے الفاظ لکھے ہیں، ”لارڈ مونٹ بیٹن نے پٹیل کا ایک پیغام پہنچایا۔ پٹیل نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر لے سکتا ہے اور حیدر آباددکن کو جانے دے جس میں ہندووں کی آبادی زیادہ ہے اور وہ زمینی یا سمندری کسی بھی راستہ سے پاکستان کے قریب نہیں ہے۔ “ حیات خاں مزید لکھتے ہیں، ”یہ پیغام دینے کے بعد لارڈ مونٹ بیٹن لاہور گورنمنٹ ہاؤس میں سونے چلے گئے۔ میں کشمیر کے تمام معاملات کا انچارج تھا۔ لیاقت علی خاں کے پاس گیا۔ اور انہیں سمجھایا کہ انڈین فوج کشمیر میں داخل ہو چکی ہے اور ہم قبائلی مجاہدین کی مدد سے کشمیر پر قبضہ نہیں کر سکیں گے۔ “

چوہدری محمد علی سابق وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنی کتاب The Emergence of Pakistan میں لکھا ہے، ”لیاقت علی خاں نے انہیں کہا کہ کشمیر بہر حال ہمارے پاس ہی آئے گا، اس کے بارے میں فکر مت کریں۔ حیدر آباد جو کہ انڈیا کے بیچ میں دو کروڑ کی آبادی کی ریاست ہے، اصل تحفہ ہے۔ “

ہمارے وزیر اعظم کا خیال تھا کہ کیا وہ حیدر آباد جیسی امیر ریاست کے بدلے میں چند پہاڑیاں لے لیں؟ ہمارے قائدین کا خیال تھا کہ کشمیر جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہم مجاہدین اور مقامی لوگوں کی مدد سے بزور طاقت حاصل کر لیں گے اور حیدرآباد مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے ہمارے پاس آجائے گا۔ ہم باونڈری کمیشن میں طے شدہ اس اصول کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے تھے کہ آزاد ریاستیں علاقائی محل وقوع کو مد نظر رکھ کر، مقامی آبادی کی خواہشات کے مطابق کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔ ریاست کے سربراہ کو اختیار تھا کہ ان مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوے فیصلہ وہ خود کرے۔

1965 میں بھی ہمارا خیال تھا کہ جب ہمارے اپریشن جبل الطارق کے دستے کشمیر میں اتریں گے تو مقامی آبادی ہمارے ساتھ مل کر بغاوت کر دے گی اور ہم انڈیا کو مذاکرات کی میزتک لے آئیں گے۔ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ انڈیا جنگ پورے ملک میں پھیلا دے گا۔ جب لاہور پر حملہ ہواتو ہم بالکل تیار نہ تھے۔ ہم کشمیر میں بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے اور وادی اسی حالت میں انڈین فوجوں کے زیر عتاب رہی۔

1970 کی جنگ میں اندرونی مسائل کی وجہ سے مشرقی محاذ پر حزیمت و بے توقیری تو ہمارا مقدر ہی تھی۔ قائد اعظم سے لے کر یحییٰ خان تک جب بھی کسی پاکستانی راہنما سے پوچھا جاتا تھا کہ اتنی دور مشرقی پاکستان کا دفاع کیسے کیا جائے گا؟ ایک ہی جواب ملتا تھا کہ مغربی محاذ سے۔ اس جنگ میں مشرقی کمانڈ کو دلاسا بھی یہی دیاگیا تھا کہ ہم اس طرف سے انڈیا کو مجبور کردیں گے کہ وہ جنگ بندی پر راضی ہو جاے۔ لیکن جو ہوا سب کو پتا ہے کہ اِس طرف بھی ناکامی کا ہی سامنا کرنا پڑا اور ہم کشمیر میں کوئی خاطر خواہ پیشقدمی نہ کر سکے۔ یہ موقع بھی ہم نے گنوا دیا۔

سیاچین، ہمارے مجاہد! فاتح جلال آباد و کابل! کے دور میں ہمارے ناک کے نیچے سے انڈیا لے گیا۔ ہم دوسرے ممالک فتح کرنے نکلے تھے ہمارا اپنا علاقہ چھن گیا۔

اب ہم مسلح جدوجہد کی کامیابی کے تمام مواقع ضائع کر چکے تھے۔ ہر جنگ کے بعد ہم انڈیا کے ساتھ ایک ہی بات پرمتفق ہو سکے کہ واپس 1948 کی سرحدوں پر جایا جاے۔ کسی بھی جنگ میں ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔

اب دور شروع ہوا اقتصادی بحالی کا۔ واجپائی کو اپنے ملک میں سیاسی و معاشی مسائل کا سامنا تھا۔ ادھر پاکستان میں عنان اقتدار تجارتی خاندان کے چشم و چراغ کے ہاتھ میں تھی۔ دو تہائی اکثریت بھی تھی۔ واجپائی پاکستان سڑک کے راستہ سے آیا۔ اور مینار پاکستان کے زیر سایہ دوستی کا مصافحہ کیا گیا۔ بس کے سفر کا آغاز ہوا۔ کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ جماعت اسلامی ان کی بی ٹیم ہے۔ سارا لاہور الٹ پلٹ کر دیا گیا۔ کچھ ماہ بعد ہاتھ ملانے والے دونوں دوستوں سے کارگل میں ہاتھ ہو گیا۔ اس جنگ میں انڈیا کو اخلاقی طور پر پوری دنیا کی مدد حاصل رہی اور اس نے پاکستان کو گھس بیٹھیے ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

مطلق العنان حکمران مشرف کے دور کا آغاز ہوا تو کارگل کے اس ماسٹر مائنڈ کوشاید اپنے کیے کا بہت ملال تھا یا شایدصحیح حالات کا اب ادراک ہوا تھا، اس لئے ناراض واجپائی سے سارک کانفرنس میں مصافحہ کرنے کے لئے یوں پیار سے ہاتھ بڑھایا کہ لگا جیسے پاؤں چھونے لگے ہیں۔ کوفی عنان نے بھی دونوں کے درمیان لاہور ڈیکلیریشن کے مطابق بات چیت پر زور دیا اور آگرہ کانفرنس کی راہ ہموار ہوئی۔ مشرف کے اپنے الفاظ کے مطابق محتاط، پر امید، نرم، لچک دار رویے، روشن دماغ اور کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ اندرونی مسائل سے گھرا ہوا واجپائی بھی کوئی بڑا کام کر جانا چاہتا تھالیکن انڈیا کے ایل کے ایڈوانی جیسے ہاک قسم کے سیاسدانوں کو مشرف پر اعتماد نہیں تھا۔ آگرہ سمٹ ناکام ہوگئی۔

اب ہم ڈپلو میسی کے بھی تمام مواقع کھو چکے ہیں۔ انڈیا نے متنازع علاقہ کی حیثیت بدل کر اپنے ملک میں شامل کرنے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ وہ اس کام میں سفارتی طور پر بھی ہمارے حلیفوں کو ہم سے دور لے گیا ہے۔ ملت رسول ہاشمی اپنی ترکیب میں خاص ہے اور یہ اس کی سرشت میں شامل ہے کہ دوستوں پر برا وقت آئے تو وہ اپنا مفاد زیادہ عزیز رکھتی ہے۔ وہ صاحب اوصاف حجازی، خشک و بنجر زمین کے باسی، بنجر دل ودماغ کے حامل، وضع میں تو نصاریٰ نہیں ہیں لیکن تمدن میں ہنود کے زیادہ قریب ہیں۔ اب تولگتا ہے کہ ان کو ہمارے اسلام کے قلعہ سے کوئی نسبت ہی نہیں رہی۔ اب شاید اسلامی بم میں بھی اپنی وجاہت اور دھاک کے بل بوتے پر ان کو متاثر کرنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے۔ اب اقتصادی حسینہ بال کھولے مذہب و ملت کی کشش کو ختم کر کے ان سب کواپنا دیوانہ بنائے ہوے ہے۔

کیا صرف ہم ہی دھاری دار، تلوار مارکہ اور سبز پرچم کے علمبردار رہ گئے ہیں؟ اور اکیلے ہم ہی اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے امت امت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہیں گے۔ اب ہماری معاشی حالت دگر گوں ہے۔ جنگیں لڑ کر ہم دیکھ چکے ہیں۔ ہماری سفارت کاری ہمیشہ کی طرح انتہائی خراب نتائج دے رہی ہے۔ کشمیر کا نعرہ اندرون ملک ہم نے بھی صرف اپنوں کو داغدار کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اگر کسی سیاست دان نے انڈیا سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تو غداری اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی گئی۔

لیکن اب حکومت اور طاقت کے تمام مراکز یک جا ہو چکے ہیں۔ یہ مسئلہ ہمارے ملک کا نا سور ہے۔ اس کو حل کرنے والا چاہے کڑوی گولی کھلائے یا نشتر چلاے، عوام سہہ جائیں گے اور اچھے مستقبل کی امید پر اس داغ کو بھی قبول کر لیں گے۔ آنے وا لی نسلیں اس بوجھ کے بغیر معاشی خوشحالی کا خواب حقیقت میں بدل لیں گی اور ہمارا ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ بھی ہموار راستہ پکڑ لے گا۔

وقت ہے کہ ہم بھی یک طرفہ فیصلہ کر لیں اور اپنی سرحدوں کے اندر کے مفادات کا سوچیں۔ لائن آف کنٹرول کو شملہ معاہدہ کے تحت تقریباًبین الاقوامی سرحد کا درجہ حاصل ہے۔ آدھے گھنٹے کی اندرون ملک ہماری نعرہ بازی کشمیر آزاد نہیں کروا سکی گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے عوام کی فلاح کے بارے میں سوچیں۔ آزادکشمیر کو مری سے چلانا چھوڑیں۔ اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں بھی آگے بڑھیں اور ان کے بارے میں فاٹا کی طرح کا کوئی حل سوچیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •