امریکہ کی گہری نظریں مگر کس پر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر میں خون کی ہولی کو 27 دن گزر چکے ہیں۔ 73 سال سے ظلم و جبر سے ٹکرانے والے کشمیری اب آزادی کی شمع پر بھنوروں کی طرح قربان ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مگر پاکستان کا باقی دھڑا اتنا مضبوط نہیں ہے کہ ایک خونخوار بھیڑیئے کے منہ سے اپنی شہ رگ کو ایک ہی وار سے چھڑا سکے۔ اس شہ رگ کی آزادی کے لئے پاکستان بھی 73 سال سے حالت جنگ میں ہے اور ایک بار پھر پورے پاکستان میں جنگی ترانے اور کشمیری بھائیوں کے لئے سائرن بجائے جارہے ہیں۔

بظاہر اس وقت میدان کشمیر بھارت اور پاکستان کے لئے اہم ترین نظر آرہا ہے کیونکہ نریندر مودی اگر اپنے منشور اور نظریے کے مطابق کشمیر کو نگلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر ہندوستان پر ہندوؤں کا مکمل راج ایک طویل مدت کے بعد قائم ہوجائے گا اور نریندر مودی کی کامیابی نہ صرف پاکستان کے حکمرانوں کے لئے مسائل پیدا کرے گی بلکہ بھارت میں موجود کانگریسی رہنما اور دیگر اپوزیشن رہنما ان کے سامنے بونے کی شکل اختیار کرجائیں گے۔

دوسری طرف پاکستان کی عزت اور وقار اس میں ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو نریندر مودی کے خونی پنجوں اور انتہا پسند سوچ سے آزاد کروا کر انہیں آزاد معاشرے کی فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم کریں۔ گزشتہ 73 سال میں پاکستان کی طرف سے ایک بار بھی اپنی شہ رگ کو چھڑانے کے لئے بھارتی بھیڑیوں پر پہلے وار نہیں کیا گیا البتہ 1948 ء ہویا پھر 1965 ء کی جنگ ہو پاکستان اپنا دفاع کرتے ہوئے نظر آیا اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی درندگی سے آزاد نہیں کرواپایا۔

مقبوضہ وادی کی آزادی کی داستان ان کے اپنے خون سے ہی لکھی جارہی ہے پاکستان نے اس آزادی کی قیمت ہر دور میں چکائی ہے اور اس وقت بھی پاکستان کشمیریوں کی آواز بنا ہوا ہے حالانکہ سعودی عرب پوری دنیا کے مسلمانوں کی امیدوں کا سہارا ہے اور سعودی عرب کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے لئے وہ ردعمل نہیں آیا جو مظلوم کشمیری توقع کررہے تھے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر کہا تھا کہ میں پاکستان کا سفیر ہوں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ سعودی ولی عہد نے ابھی تک پلٹ کر بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی پریشانی کو نہ محسوس کیا ہے اور نہ ہی مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا پسند کیا۔

البتہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے نریندر مودی کو سول ایوارڈ دے کر پوری دنیا کویہ پیغام دیا ہے کہ محمد عربی ﷺ کی امت ذاتی مفادات کے لئے اس قدر گر چکی ہے کہ کفار جس کو چاہیں تہہ تیغ کردیں اس کا ردعمل نہیں آئے گا۔ زیادہ تر مسلم ممالک کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی گئی تو ان کی بھارت میں سرمایہ کاری متاثر ہوجائے گی جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کی خوفناک جنگ شروع ہوگئی تو سرمایہ کاری کا محفوظ ہونا تو دور کی بات ہے دنیا بھر کی انسانیت بھی داؤ پر لگ جائے گی۔

علاوہ ازیں دو دن کی سرمایہ کاری کا فکر کرنے والے ہمارے برادر اسلامی ملک اپنی آخرت کی سرمایہ کاری کو تباہ کررہے ہیں۔ پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے سربراہوں کا رویہ بتا رہا ہے کہ وہ اسلام کی روح کو بھول چکے ہیں وہ اس فلسفے کو بھی بھول چکے ہیں کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسلامی ممالک کی سوچ بتاتی ہے کہ وہ صرف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان ایک مردہ جسم کی مانند ہیں جس کے سر پر وار کرو یا پاؤں کاٹ دو نہ زبان آہ کے لئے کھلتی ہیں اور نہ ہی سینے میں درد محسوس ہوتا ہے۔

اسلامی ممالک کی نسبت مسئلہ کشمیر پر زیادہ گہری نظریں امریکہ اور اسرائیل نے لگائی ہوئی ہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر جتنا زیادہ پیچیدہ ہوگا ان کے لئے پاکستان کے ایٹم بم تک پہنچنا آسان ہوتا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر میں الجھ چکے ہیں اور اب اس میں یقینی طورپر شدت آئے گی اور یہی وہ نکتہ ہوگا جب امریکہ اور اسرائیل موقع سے فائدہ اٹھا کر اقوام متحدہ کی چھتری لئے دونوں ملکوں کے ایٹمی پروگرام سے دنیا کو بچانے کے نام کا نعرہ لگا کر مداخلت شروع کردیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے درست طورپر کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چونکہ مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اس لئے عالمی دنیا خاموش ہے۔ وزیراعظم نے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ عالمی قوتوں کا ایجنڈا ہی مسلمانوں کا قتل عام ہے اس لئے سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ یقینی طور پر وزیراعظم اور ہماری عسکری قیادت یہ بات بھی محسوس کررہی ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر کے قتل عام پر گہری نظررکھنے کا دعویٰ کرنے والا امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر عرصہ دراز سے نظریں جمائے ہوئے ہے۔

امریکہ نے ہمیشہ مسلمان ممالک کے حوالے سے دہرا معیار رکھا ہے۔ اس لئے اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی آڑ لے کر دونوں ملکوں کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کا دعویٰ لے کر میدان میں آجائے گا اور پھر مسلم دشمنی کی سوچ کے عین مطابق نریندر مودی سرکار کو کھلی چھٹی دے کر ہمارا ایٹمی پروگرام ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے معاملے میں بھی ڈنڈی ماری جائے گی۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں لہٰذا وہ یقیناً اس خطرے کومحسوس کررہے ہوں گے کہ امریکہ کی گہری نظریں کشمیر پر ہیں یا پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 46 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat