تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو۔ سیمول ہنٹنگٹن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری طرف یہی حال اسلامی ممالک کا ہے کہ وہ ماڈرنائز ہونے میں تو قباحت محسوس نہیں کرتے مگر ویسٹرنائزیشن کو اپنی مذہبی شناخت کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا ثبوت سرکاری سطح پر مذہب اسلام کی سیاسی ضرورت، سماج میں عبادات اور عبادت گاہوں کی لامحدود موجودگی اور نئی نسل میں مذہبی فکر کا شدت پسندانہ پھیلاؤ ہے جو جابجا نظر آرہا ہے۔

کتاب کے تیسرے حصہ میں سموئل ہنٹنگٹن کی گفتگو کا محور اُبھرتی ہوئی تہذیب کے شناختی بحران پر مرکوز ہوا ہے جو کولڈ وار کے بعد سے دونظریاتی قید سے کسی حد تک آزاد ہوگئی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے غیر مغربی اقوام زبان، مذہب، رسوم و رواج اور خاندان و آباواجداد کی مماثلت کے لحاظ سے یک جہتی کا سبب ڈھونڈرہی ہیں۔ اس سلسسلے میں جہاں مغربی ادارے یورپین یونین اور نارتھ امریکن فئر ٹریڈ ایگرمنٹ جیسے علاقائی ادارے وجود میں آئے وہیں ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشن جیسے ادارے بھی بنتے ہوئے دکھائی دیے، جن میں شامل ایشیائی ممالک برونائی، کیمبوڈیا، انڈونیشیا، ملائشیا، فلپائین، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ویتنام وغیرہ نے نہ صرف کلچر و زبان کے پھیلاؤ اور اقتصادی مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے علاوہ عسکری معاہدے بھی کیے۔ ہنٹنگٹن نے تہذیبی ساخت کی مزید وضاحت کے لیے کور، لون، کلیفٹ اور ٹورن جیسی اصطلحات کا انتخاب کیا خصوصاً انہوں نے ان اقوام یعنی روس، ترکی، میکسیکو اور اسٹریلیا کا تذکرہ کیا جنہیں انہوں نے ’ٹورن اقوام‘ سے تعبیر کیا یعنی ان اقوام کی تہذیبی شناخت سیاسی، اقتصادی اور جغرافیائی وجوہات سے ایک ’مکمل‘ تہذیبی شکل سے محروم ہے یا ایک مسلسل تبدیلی کے دورانیہ میں ہیں۔

دوسری طرٖف انہوں نے ایتھوپیا اور سوڈان کا تذکرہ ’لون‘ اور ’کلیفٹ‘ اقوام کے زمرے میں کیا تو تیسری طرف مصر کو ایک مکمل عربی اسلامی تہذیب یعنی ایک ’کور‘ قوم کی شکل میں بیان کیا۔ آگے چل کر انہوں نے کور اقوام کی اصطلاح کو مرکزی شکل دیتے ہوئے ان کے گرد پھیلے ہوئے وسیع تر تہذیبی دائرے کے مجموعی سیاسی و اقتصادی اثرات کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے فرانس اور جرمنی جیسی کور اسٹیٹس اور یورپین یونین کا ذکر کیا جس کے اثرات ان کے گرد پھیلے ہوئے ویسٹرن کرسچنائز ممالک پر اثرات کے ساتھ شروع ہوتے ہیں اور اسلامی ریاستوں تک پہنچ کر ختم ہوجاتے ہیں جبکہ اسلامی ریاستیں کور ریاستوں کی طرح محدود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کا حلقہ وسیع ترین ہے۔

کتاب کے چوتھے حصے میں پہنچ کر سیموئل ہنگٹنٹن مستقبل کے ممکنہ تہذیبی ٹکراوکی پیشن گوئی کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اُن کے مطابق سنک یعنی چائنیز اور اسلامی تہذیبوں کا اتحاد اپنے ’مشترکہ دشمن‘ یعنی مغربی تہزیب کے خلاف جلد یا بدیر ممکن ہے۔ اُن کے مطابق کئی ایک عناصر مثلاً مغربی اقوام کی غیر مغربی اقوام کے خلاف عسکری دباؤ ’کے ذریعے‘ اسلحے کا عدم پھیلاؤ ’جیسی ڈبل سیاسی پالیسی یا مخالف سیاسی اقوام پر وحشیانہ جنگی کارروائیوں کے باوجود‘ انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے ’نعرے، اور تیسری دنیا کے کمزور ممالک میں آمرانہ یا مرضی کی ڈیموکریٹک ریاستوں یا سیاسی و اقتصادی فوائد کے خاطر اسلامی بادشاہتوں کی اندرون خانہ حمایت اور مغربی ریاستوں میں غیر مغربی ممالک سے ہجرت کی حوصلہ شکنی وہ سارے عوامل ہیں جو مغربی اقوام کے غالبانہ اقدام کو ثابت کرتے ہیں اورمغربی تہذیب کو رد کرنے کا جواز پیدا کرتے ہیں۔

سیموئل ہنٹنگٹن انتباہ کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں مذہبی عدم برداشت کے سبب اسلام اور مغرب کے درمیان ایک ’چھوٹی تضادی جنگ‘ جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان اقتصادی دوڑ کے سبب کور اسٹیٹس کے مابین ’بین التہذیبی ٹکراؤ‘ کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ اس ممکنہ ٹکراؤ کو ثابت کرنے کے لیے ہنٹگٹن نے اسلام اور عسائیت کے درمیان متوازی مگر مخالفانہ تاریخی تضادات کا تفصیل سے تذکرہ کیا اور خصوصا پچھلی چند دہائیوں میں اسلامی ریاستوں میں اسلامی سیاسی تحریک کے زیر اثر بیدار ہونے والی فکر اور اُس کے اثرات کا ذکر کیا اور سویت افغان جنگ اور فرسٹ گلف وار کو بین التہذیبی جنگوں سے ہی تعبیر کیا۔

اسلامی انتہا پسندوں نے جہاں ان جنگوں کو جہاد، صلیبی جنگوں اور صیہونی سازش سے تو دوسری جانب مشرقی غیر اسلامی اقوام نے مغرب اور مشرق کے مابین جنگ سے تعبیر کیا۔ ہنٹنگٹن کے خیال میں گلوبل ورلڈ اور انٹرنیشنل انگریزی زبان کے تصور نے بھی تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کے امکانات کو بڑھایا ہے کیونکہ یہ ذرائع تہذیبوں کے مابین تضادات کو سمجھنے میں سہولت کا سبب بنے ہیں۔

کتاب کے اختتامی ریمارکس میں ہنٹنگٹن نے مغربی تہذیب کو درپیش غیر مغربی تہذیبی چیلنجز کا تذکرہ کیا خصوصا انہوں نے ملٹی کلچر الزم کا ذکر کیا جسے وہ مغربی تہذیب کی انفرادی شکل کو قائم کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں دنیا کی ہر ایک تہذیب اپنے تئیں خود کو ایک لافانی تہذیب ہی تصور کرتی ہے اور اُس کی ممکنہ قوت پر بھی یقین رکھتی ہے مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی تہذیبیں اسی یقین کے ساتھ ختم بھی ہوئیں اور اُن کا نام و نشان تاریخ کی کتابوں میں محض ماضی کے قصوں کہانیوں کی صورت میں ہی درج ہے۔ ٹھیک اسی طرح مغربی تہذیب بھی اپنی لافانیت کے تمام تر دعووں کے باوجود اپنی لافانی حیات کا دعوی کبھی بھی نہیں کرسکتی اور اُس کے زوال کے اثرات اسلامی تہذیب اور ایشیائی اقتصادی تہذیب کی مخالف ہوا سے صاف محسوس ہورہے ہیں۔

چنانچہ جوں جوں مغرب کے اقتصادی، معاشی اور عسکری پھیلاؤ میں کمی آتی چلی جائے گی لامحالہ اُسکے تہذیبی اثرات میں بھی نمایاں کمی آتی چلے جائے گی اور ممکن ہے ایک وقت پھر ایسا آجائے کہ مغرب اپنا تہذیبی دفاع کرنے کے بھی لائق نہ رہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ تاریخ میں تہذیبی تجدید کا عمل بھی چلتا ہے مگر مغربی تہذیبی شناخت کا قیام اور استحکام اُس کی اقتصادی و سیاسی قوت کے ساتھ ہی منسلک ہے۔

لائبریری میں ڈسکشن:

Latest posts by ڈاکٹر بلند اقبال (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2