تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو۔ سیمول ہنٹنگٹن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ کتاب پرانی تھی مگر موضوع ابھی تک نیا ہے شاید اسی لیے میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس بار لائبریری میں سیمول ہنٹنگٹن کی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘ پر بات کرلی جائے۔ 1993 میں سوالیہ نشان کے ساتھ جرنل آف فارن افئیر میں چھپنے والا سیمول ہنٹنگٹن کا یہ ارٹیکل تین برس بعد 1996 میں کتاب کی صورت میں چھپا تو چند سالوں بعد ہی ستمبر 11 کے سانحے نے گویا کتاب میں درج پیشن گوئی کو ایک زبان عطا کردی اور یوں یہ کتاب مغربی عوام کے لیے خصوصاً اور مشرق عوام کے لیے عموماً ایک تشویش ناک فکر کا سبب بن گئی۔ اس کتاب میں ایسا کیا تھا آئیں تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر کے تعارف کو یوں بھی سیاسی و اقتصادی خانوں میں بانٹ کر ایک مثبت یا منفی فکر پیدا کی جاسکتی ہے؟ اور اگر واقعی یہ فکر حقیقت پر مبنی ہے تو انسانی ’تہذیب‘ کا مقدر فیصلہ کن حد تک تشویش ناک نظر آتا ہے۔

سموئل ہنٹنگٹن کے خیال میں سرد جنگ کے خاتمے سے قبل تک انسانی سوسائٹی کیپیٹلسٹ یعنی سرمایہ دارانہ اور کیمونسٹ یعنی اشتراکی نظریاتی جنگ میں مبتلا تھی مگر 1991 میں سویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد انسانوں کی باہمی کشمکش نظریاتی، اقتصادی اور سیاسی ہونے کی بجائے تہذیبی فرق کی وجہ سے ایک ممکنہ تصادم سے بدل جائے گی یعنی وہ جنگیں جو کبھی جغرافیائی سرحدوں کے خاطر ہوا کرتی تھیں اب تہذیبی پھیلاؤ کے خاطر ہوا کرینگیں۔

اس کتاب کو انہوں نے مجموعی طور پر پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

تہذیبی دنیا، اس کتاب کا پہلا حصہ ہے۔ اس حصہ کی ابتدا میں وہ سرد جنگ کے بعد کی دنیا کے مجموعی سیاسی و سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے ایک نئے طرح کے تہذیبی نقشے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ یعنی ایک ایسی نئی دنیا جس کی حدود کا تعین جغرافیائی حدود کے بجائے اقتصادی و مذہبی ساخت سے طے ہو۔ اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ دنیا کو عمومی طور پر آٹھ بڑی تہزیبوں میں تقسیم کر تے ہیں

1) سنک تہذیب

چینی تہزیب جو حضرت عیسی اللہ اسلام کی پیدایش سے لگ بھگ پانچ سو برس قبل سے کنفیوشس کی تعلیمات پر مشتمل پچھلے دو ہزار سالوں میں پروان چڑھی جس میں ماسوائے جاپان، ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے کم و بیش وہ تمام ممالک شامل ہیں جن میں ہمیں چائنیز تہذیب کے اثرات سینو سینٹر ازم کی شکل میں پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تہذیب سے متاثر ہونے والے ممالک میں چین، ساؤتھ و نارتھ کوریا، ویت نام، تبت، تائیوان، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور فلپائین وغیرہ شامل ہیں۔

2) جاپانی تہذیب

جاپان نے حتی الامکان نہ صرف چینی تہذیب سے خود کو علیحدہ رکھا بلکہ تمام تر ایشائی تہذیبی ممالک سے بھی اپنی ایک جداگانہ شکل قائم رکھی۔

3) ہندو تہذیب

ہندوستانی تہذیب جس کی بنیادوں میں انڈین تہذیب کے ہزاروں برسوں کے رشتے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔

4) اسلامی تہذیب

جزیرہ نما عرب میں پرورش پانے والی اسلامی تہذیب جو متحدہ عرب امارات، سینٹرل ایشیا اور افریقی ممالک میں عربی، ایرانی، ترک اور مالائی مسلمانوں میں مجموعی اعتبار سے تقسیم ہوئی۔

5) آرتھو ڈو کس تہذیب

مغربی عیسائی تہذیبوں سے گھری ہوئی انڈو یورپین سلویک تہذیبی ممالک جن میں روس، مالڈوا، قازقستان، آرمینیا، بیلارس اور یوکرین کا کچھ حصہ شامل ہے۔

6) مغربی تہذیب

نارتھ امریکن، یورہین، آسٹریلین اور نیوزی لینیڈ جیسے ممالک میں پھیلی ہوئی مغربی تہذیب جو مارڈرن ازم کی شکل میں پچھلے پانچ سو سالوں میں طاقتور اقتصادی، سیاسی اور سائنسی بنیادوں پر قائم ہوئی۔

7) لاطینی امریکن تہذیب

سینٹرل اور ساؤتھ امریکی ریاستوں میں پھیلی ہوئی آمرانہ یا استبدانہ قوانین پر مشتمل کارپوریٹڈ تہذیب جو زیادہ تر کیتھولک عیسائی مذہب کے ماننے والوں پر مشتمل ہے۔

8) افریقی تہذیب

براعظم افریقہ کی تہذیب جو بقیہ دنیا کی تہذیبوں سے اپنی ایک مخصوص اور جداگانہ شکل رکھتی ہے

دنیا کی اس نئی تہذیبی شکل میں تقسیم کے بعد سیمول ہنٹنگٹن اِن تہذیبوں کے درمیان روابط پر گفتگو کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق پندرہویں عیسویں کے قبل کی تہذیبیں اُس کے بعد کی تہذیبوں سے یوں مختلف تھیں کہ ریسرچ، ٹیکنالوجی اور کمیونیکشن کی کمی کی وجہ سے ان کے درمیان وہ رابطے نہ بن سکے جو بعد ازاں مغربی تہذیب کے پھلنے پھولنے کا سبب بنے۔ مگر بیسویں صدی کے آنے تک تہذیبی پھیلاؤ کا یہ سلسلہ یک طرف سمت میں رہنے کے بجائے کثیر جہتی ہوتا چلا گیا۔

مغرب نے اپنے تئیں اس تہذیب کو بین الاقوامی یعنی یونیورسل اور ایک مارڈرن تہذیب سے تعبیر کیا اور اس کو تمام تر دنیا کے لیے ایک ’رہنما تہذیب‘ جیسا تصور کیا مگر باقی دنیاوں کی تہذیبوں نے اُسے مغرب خصوصاً نارتھ امریکہ کی گلوبل پالیٹیکل آرڈر کی تجویز سمجھ کر ری ایکٹ کیا اور مارڈنائزیشن اور ویسٹرنا ئزیشن کے خانوں میں تقسیم کرکے اسے یونیورسل تہذیب کی شکل میں لینے سے قطعی ریجیکٹ کردیا۔ سیموئل ہنٹنگٹن کے خیال میں تمام تر اقتصادی و سیاسی اثرات کے باوجود غیر مغربی دنیا ’مارڈرنائز‘ تو ہونا چاہتی ہے مگر ’ویسٹرنائز‘ ہونے سے کتراتی ہے جس کی وجہ غیر مغربی تہذیبوں کے وہ مضبوط تاریخی و سماجی دھاگے ہیں جن کے ٹوٹ جانے سے ان کی شناخت اور بقا کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ اس بات کا مزید تعین سیموئل ہنٹنگٹن نے کتاب کے اگلے حصہ میں کیا کہ سویت یونین اور امریکہ کی کولڈ وار یا سرد جنگ کے بعد بدلنے والی نئی اقتصادی اور قدیم مذہبی فکر کی سیاسی کروٹ نے اپنے اثرات الگ ہی طرح سے مرتب کیے۔

تہذیبی توازن میں پیداہونے والی تبدیلی کو موضوع بناتے ہوئے سیمول ہنٹنگٹن لکھتے ہیں کہ ”کولڈ وار کے بعد سے مغربی اقوام ٹیکنالوجی، ریسرچ، ملٹری اور اقتصادی قوت کے لحاظ سے طاقتور دکھائی تو دیتی ہیں مگر درحقیقت ایسا ہے نہیں۔“ اُن کا خیال ہے کہ غیر مغربی ممالک میں مغربی تہذیب کے اثرات نمایاں طور پر کم ہوتے جارہے ہیں اور اُس کی اصل وجہ 1991 کے بعد سے پیدا ہونے والا اقتصادی اور سیاسی توازن میں فرق ہے جو براہ راست اور بلاواسطہ تہذیبی پھیلاؤ سے منسلک ہے۔

اُن کے مطابق تاریخ میں تہذیبی تبدیلی کا عمل کبھی سست تو کبھی رواں، کبھی ہموار تو کبھی غیر ہموار ہوتا ہے کیونکہ اس کا تعین بیک واقت کئی ایک عوامل سے ہوتا ہے جن میں انہوں نے خصوصاً غیر مغربی اور مغربی تہذیبوں کے ٹکراؤ کے بیک گراونڈ میں اقتصادیات، سیاست اور سماج خاص طور پر مذہب کو موضوع بنایا۔ اس ضمن میں انہوں نے مشرقی طاقتور تہذیبوں میں چین، جاپان، روس اور ہندوستان کی اقتصادی قوت اور اسلامی تہذیب کو مغربی تہذیب سے ایک براہ راست ٹکراؤ کی شکل میں پیش کیا۔

ہنٹنگٹن کے خیال میں آئیڈیالوجیکل کولڈ وار کے نتائج سے پیدا ہونے والا خلا دراصل مذہبی فکر سے پرہوتا چلا گا جو ایک شدید ترین سیاسی قوت کی شکل میں ’اپنی تہذیبی شناخت‘ کے پس منظر میں غیر ؐمغربی اقوام خصوصاً اسلامی تہذیبی دنیا میں پھیلتی چلی گئی۔ جبکہ دوسری جانب چائنیز ایسٹ ایشین ممالک میں نمو پاتی ہوئے اقتصادی توانائی ایک نئے تہذیبی ماڈل کی فارم میں غیر مغربی اقوام کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ساؑتھ کوریا، تاؤان، ہانگ کانگ، سنگا پور، چین چاینیز تہذیب کے بیک گراونڈ میں اور جاپان اپنی منفرد شکل میں مارڈرنائز ہورہے ہیں وہ مغربی تہذیب یا ویسٹرنائزیشن کو حتی الامکان رد کررہے ہیں اور یہ عمل اور بھی شدید ہوتا چلا جائے گا جب وہ مغرب کے سیاسی اور اقتصادی دباؤ سے آزاد ہوتے چلے جائیں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •