مہاتما بدھ کے نروان سے ارشمیدس کے پاجامے تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی نویلی دلہن کی کیفیت عجیب اور جذبہ بے پناہ ہوتا ہے جو اپنی شادی ہوتے ہی اپنے میاں کے تمام کنوارے دوستوں اور کزنوں کی اپنی سہیلیوں اور کزنوں سے شادی کروانے کو بے چین ہو جاتی ہے۔ آگہی کا سرور بھی بے پناہ ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے تین چار شادیاں اور اتنے ہی عشق کیے تھے۔ غالباً اسی لئے وہ محرم راز ہوئے اور انہوں نے دلہناپے کی اس کیفیت کو کچھ یوں بیان فرمایا

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

جب بندہ پہلے پہل کوئی نیا علم حاصل کرتا ہے، تو اس کا اپنے بارے میں تقریباً یہی خیال ہوتا ہے کہ اس نے مہاتما بدھ کی طرح نروان یا ارشمیدس کی طرح کوئی انوکھا فارمولا پا لیا ہے جو فوراً دنیا کو بتانا ضروری ہے۔ بتانے کے لئے بندے کی عجلت کی بھی تقریباً وہی کیفیت ہوتی ہے جو ارشمیدس کی تھی۔

اس کا خیال ہوتا ہے کہ اب ایک ایسی انوکھی اور حیرت انگیز چیز کا جب اسے گیان ہو گیا ہے تو دنیا جوق در جوق اس کے دست حق پرست پر بیعت کرنے کو ٹوٹ پڑے گی۔ اس کی ایک تقریر یا مضمون سے دنیا اس کی دیوانی ہو جائے گی اور اس کو مہا گیانی تسلیم کر لے گی۔

جب علم پرانا ہو کر بندے کی شخصیت میں جذب ہونے لگتا ہے (بشرطیکہ بندہ اسے جذب ہونے کی اجازت دے دے) تو پھر اس کی بے تابی جاتی رہتی ہے۔ دنیا کو سچ بتانا لازم بھی ہو جائے تو ایک آدھ جملہ یا مضمون اسی کیفیت میں عرض کرتا ہے جس کیفیت میں محمد شاہ رنگیلے نے نادر شاہ کے حملے کی خبر لانے والے ایلچی کو شراب کے مٹکے میں یہ کہتے ہوئے غرق کیا تھا کہ ”ایں ایلچی بے معنی غرق مے ناب اولٰی“۔ آپ اس مٹکے کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے خواہاں ہیں تو شفیق الرحمان کی ”تزک نادری“ دیکھیں۔

بات کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حق پاتے ہی اپنی اور اپنے گرد و نواح کی موجودہ کیفیت دیکھے بغیر تبلیغ کرنے نہیں نکل جانا چاہیے۔ ارشمیدس کی سی عجلت دکھانے کی بجائے بندہ کپڑے پہن لے تو ڈھائی ہزار سال بعد بھی لوگ مذاق نہیں اڑاتے۔ اب تک لوگ کہتے ہیں کہ ارشمیدس ویسے تو بندہ سیانا تھا، مگر نہاتے ہوئے جب اسے ایک نئے علم کا گیان ہو گیا تو پاجامہ پہنے بغیر ہی گلیوں بازاروں میں یوریکا یوریکا کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے نکل گیا اور اپنا ٹھٹھا اڑوا بیٹھا۔

تو صاحبو، تمہیں جو نئی بات پتہ چلی ہے، یقین مانو وہ پچھلے دس ہزار برس کی معلوم انسانی تاریخ میں بے شمار لوگوں کو پہلے ہی پتہ چل چکی ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ آج جو بات تمہیں نہایت تہلکہ خیز انکشاف لگ رہی ہے ہو سکتا ہے کہ کل مزید علم پانے پر وہ غلط لگے اور تم اپنی بے وقوفی پر خوب ہنسو۔ علم کا سفر ایسا ہی ہوتا ہے۔

ہر سچ ہر شخص کے لئے نہیں ہوتا۔ جب علم ایک شخص کی ذات میں جذب ہو جاتا ہے تو انجان لوگوں کو بن مانگے اپنی رائے دینے سے احتراز کرتا ہے۔ محفل میں کوئی انجان شخص خلاف حقیقت بات بھی کر رہا ہو تو اسے راہ راست پر لانا اپنا افلاکی طور پر تفویض کردہ حق نہیں سمجھتا اور ایسا کرنا بلاوجہ کی بدمزگی اور وقت کے زیاں کا باعث گردانتا ہے۔ وہ صرف بے تکلف احباب کی محفل میں اپنی رائے بے تکلفی سے دیتا ہے۔

جو سیانے نکلتے ہیں وہ نئے علم کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اسے خوب جانچ کھوج کر اور اپنی ہستی میں جذب کر کے مرشد عالم بن گئے۔ جو ضبط نہ کر پائے اور آدھے سفر کے پہلے پڑاؤ کو ہی منزل سمجھ بیٹھے، وہ جلد بازی میں منصور حلاج کی طرح انا الحق کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سولی چڑھ گئے۔ تو صاحبو، مہاتما بدھ بنو، نروان پا لیا ہے تو دانش کی بات سہج سے دھیرے دھیرے کہو۔ ارشمیدس مت بنو کہ اپنا پاجامہ ہی گنوا بیٹھو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1190 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar