بھارتی جنتا سوچو اگر حافظ سعید پاکستان کا وزیر اعظم ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاباش پاکستانی ووٹر! ہم کسی مذہبی جنونی اور دہشت گرد کو کبھی بھی ووٹ ڈال کر حکومت میں نہیں لائے۔ بدقسمتی سے دہشت گردی میں ہمارا گراف بہت اونچا چلا گیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے ہم عام پاکستانیوں کو دہشت گردی کے نتیجہ میں ہونے والے جانی نقصان کے افسوس کے ساتھ یہ فکر بھی لاحق ہوتی ہے کہ ابھی اس واقعہ میں پاکستان کا نام آئے گا۔ دہشت گرد پاکستانی ہو گا یا اس نے کبھی پاکستان میں تربیت لی ہو گی۔ یا کسی بھی طریقے سے پاکستان کے دہشت گردی کے واقعہ کے لنک نکلنے کے امکانات تو رہتے ہیں۔ پچھلے دس بارہ سالوں میں پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کے ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں اس لئے دہشت گردی میں ہمارا گراف اونچا تو ہے۔

لیکن پھر بھی ہماری خامیوں اور کوتاہیوں سے بھری الیکشن کی تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گرد براہ راست پاکستان میں کبھی الیکشن نہیں جیتے۔ کوئی دہشت گرد کبھی پاکستان میں وزارت عظمیٰ کا الیکشن نہیں جیتا۔ بھارتی جنتا، آپ نے مودی کو وہ بنا دیا جو ہم نے مودودی یا اس کے شاگردوں کو کبھی بننے نہ دیا۔

بھارتی عوام آپ اس نقطے پر پاکستان عوام سے ہار گئے ہو۔ آپ نے اپنے ایک انتہا پسند بدنام زمانہ مذہبی جنونی کو ووٹ دے کر انڈیا کا وزیراعظم بنا دیا ہے۔ اور یہ سب بھی آپ نے 2002 کے گجرات والے واقعے کے بعد کیا ہے۔

گجرات کے 2002 کے فسادات انڈیا کی موجودہ تاریخ کا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ سارے قتل عام کا الزام اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی پر لگے، سوائے انڈین عدالتوں کے یہ بات ہر ایک نے مانی۔ واقعہ کی تحقیقاتی کمیٹی کو دس سال لگ گئے پہلی رپورٹ تیار کرنے اور پیش کرنے میں۔ ہمیں علم ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں ”تحقیقاتی کمیٹیوں“ کا اصلی رول اور مقام کیا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی کمیٹیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ وہ بوگس ہوتی ہیں اور صرف ریاستی نقطہ نظر کو ٹھیک لکھنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے دس سال کا وقت ضائع کرنے کے بعد رپورٹ پیش کی اور نریندر مودی کو بری قرار دے دیا۔ بھارت کے اندر اور باہر کسی نے بھی اس رپورٹ پر اعتبار نہیں کیا۔ یہ رپورٹ تھی ہی غلط۔ مودی کے خلاف شواہد اتنے واضح تھے کہ امریکہ نے کئی سال تک مودی کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائے رکھی۔

بھارتی عوام، آپ نے ایک مذہبی جنونی دہشت گرد کو بھرپور مینڈیٹ دے کر انڈیا کا وزیر اعظم بنا دیا ہے۔ آپ یقین کریں کہ مودی کے پرائم منسٹر بننے پر بارڈر کے دونوں طرف مذہبی جنونی دہشت گرد صرف مسکرائے نہیں بلکہ ٹھٹھے مار کے ہنسے۔ ان کے حوصلے بہت بلند ہوئے۔ دہشت گرد ایک دوسرے کی نفسیات کو سمجھتے ہیں۔ مذہبی جنونیوں اور دہشت گردوں کے لئے اپنے گھناؤنے مں صوبوں کو عملی جامہ پہنانا بہت آسان ہو گیا ہے۔

انڈیا اور پاکستان، بد قسمتی سے، دو ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ان کو جنگ میں جھونکنا اب دہشت گردوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ دہشت گردوں کا خواب ہے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ۔ اور دیکھ لو یہ بہت آسان ہو گیا کیونکہ اب بھارت کا وزیراعظم ان کے اشاروں پر ناچنے کو تیار بیٹھا ہے۔ کسی وقت بھی درجن بھر دہشت گرد بارڈر پار جا کر کوئی کارروائی ڈال دیں اور جنگ چھیڑنے کا باقی کام انڈیا کا وزیراعظم نریندر مودی خود کر لے گا۔

حافظ سعید مقبوضہ کشمیر میں لڑنے کی وجہ سے مغربی دنیا کی نظروں میں ایک مذہبی جنونی اور دہشت گرد ہے لیکن پاکستانی عدالتوں کے سامنے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا جس پر اس کو کوئی سزا مل پائے۔ دوسری طرف مودی بھی ساری دنیا کی نظر میں ایک مذہبی جنونی اور دہشت گرد تھا سوائے انڈین عدالتوں کے۔ امریکہ نے مودی کے داخلے پر پابندی تبھی لگائی تھی ناں۔

انڈین ووٹر ذرا سوچے کہ انڈیا اور پاکستان کا کیا بنے گا اگر پاکستانی ووٹر بھی مغرب اور بھارت کی نظر میں ایک مذہبی جنونی اور دہشت گردی کا ملزم قرار پانے والے حافظ سعید کو بھاری مینڈیٹ دے کر پاکستان کا پرائم منسٹر بنا دیں جیسا کہ آپ نے ایک مذہبی جنونی اور دہشت گردی کے ملزم نریندر مودی کو بھاری مینڈیٹ دے کر انڈیا کا پرائم منسٹر بنا دیا ہے۔
Sep 30، 2016

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 225 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *