افغانستان : مقامیت اور بین الاقوامیت میں مذاکرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس روز قبل انگریزی کے ایک اخبار نے خبر دی کہ امریکہ اور طالبان انخلا کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ایسی ہی کچھ باتیں حساس اطلاعات تک رسائی والے مبصرین کر رہے تھے‘ افغانستان کے تنازعے پر مذاکرات کے آٹھ مرحلے ہو چکے تھے ان مذاکراتی ادوار میں جو پیشرفت ہوئی ہم اسے بھی زیر بحث لاتے رہے ہیں۔ امریکہ اور طالبان کا آٹھواں دور بہت اہم شمار ہو رہا تھا۔ امید تھی کہ اس بار معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے لیکن ان ہی دنوں نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا۔

پاکستان اس فیصلے سے متاثر ہوا۔ طالبان ذرائع نے ایک بیان جاری کر کے کشمیر اور افغانستان کو الگ الگ معاملات قرار دیا اور اس تاثر کی نفی کی کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان مقبوضہ کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں، یا مذاکرات کے آٹھویں مرحلے کی ناکامی کی وجہ پاکستان ہے۔ دس روز قبل خبر ملی کہ امریکہ اور طالبان میں اتفاق ہو گیا ہے۔ میرے ذرائع نے خبر کی تردید کر دی۔ معلوم ہوا کہ افغان طالبان امریکہ کی بعض شرائط ماننے کو تیار نہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس کے لڑاکا دستے افغانستان سے بے شک چلے جائیں مگر سی آئی اے کو افغانستان میں اپنا مستقل اڈہ قائم کرنے دیا جائے۔

طالبان نے امریکہ کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ امریکی مذاکرات کاروں نے جب سی آئی اے اڈے کی موجودگی کو افغانستان اور طالبان کے فائدے کا تھیسس بنا کر پیش کیا تو دو ٹوک سوچ رکھنے والے طالبان نے کہہ دیا! ٹھیک ہے اگر یہ اتنی ہی فائدے کی بات ہے تو امریکہ افغان طالبان کو بھی اپنے ہاں اڈہ بنانے کی سہولت دے۔ مذاکرات کے نویںمرحلے کی کامیابی کی اطلاع صرف سی آئی اے سے متعلق معاملات پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دو روز قبل ایک بیان میں کہا کہ امریکہ افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے مگر 8600امریکی افغانستان میں رہیں گے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کسی نے آئندہ امریکہ پر حملہ کیا تو یاد رکھے امریکہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ واپس آ سکتا ہے۔ امریکی مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی انخلا کو ایک کامیابی بنا کر 2020ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان نے امریکہ کا ایک اور مطالبہ ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ مذاکرات کے باقاعدہ ادوار شروع ہونے سے پہلے ایجنڈہ کی مشاورتی شقوں ‘ مذاکرات کے دوران سائیڈ لائن ملاقاتوں اور مذاکرات کے دوران امریکی حکام کوشش کرتے رہے ہیں کہ افغان طالبان اشرف غنی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں۔ ماسکو میں ایک تقریب میں طالبان کو مدعو کیا گیا۔

اس تقریب میں اشرف غنی حکومت کے نمائندے شریک تھے۔ میزبانوں نے بعد میں دونوں کی ملاقات کا اہتمام کرنا چاہا تو طالبان نے انکار کر دیا۔ اشرف غنی حکومت کے علاوہ افغانستان کے سابق حکمران حامد کرزئی اور ان کی ٹیم بھی افغان امن عمل میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لئے تگ و دو کرتی رہی مگر اب تک افغان طالبان کے سوا کوئی ایسا فریق سامنے نہیں آ سکا جو اپنی بات منوا سکے۔ امریکی حکام جانتے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کا منصوبہ اور اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی اخلاقی پہلو یا باہمی اعتماد کی صورت نہیں ہے۔ یہ مذاکرات تمام فریقوں کی ضرورت ہیں۔

پاکستان اس لئے مدد کر رہا ہے کہ وہ اپنے مغربی بارڈر کو کشیدگی اور دہشت گردی سے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ چین اور روس کا تعاون اس لئے دستیاب ہے کہ دونوں مستقبل کی جس علاقائی شراکت داری پر کام کر رہے ہیں وہ پاکستان اور افغانستان میں امن کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ دنیا اسے شکست خوردہ طاقت کی بجائے امن دوست سمجھے جو افغانستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے دنیا کو محفوظ بنانے میں کامیاب رہی۔ ٹرمپ دوبارہ صدر بننے کے لئے اس ڈیل کو امریکی عوام کو بیچ سکتے ہیں۔ طالبان کے سامنے کوئی بین الاقوامی ایجنڈہ نہیں۔

وہ تمام معاملات اور ان سے جڑی تفصیلات کو خالصتاً اپنے مقامی پیش منظر کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔ یوں سمجھیں مقامیت اور بین الاقوامیت کے درمیان ایک مکالمہ تنازع کے باعث ذرا آگے بڑھ کر مذاکرات کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کا مطالعہ کرنے والے اس بات کا ادراک کر سکتے ہیں کہ اقوام متحدہ‘ بااثر سیاسی و فوجی اتحادوں‘ ہیومن رائٹس‘ ملٹی نیشنل اداروں اور انٹرنیٹ نے چھوٹے سے علاقے کے معاملے کو بین الاقوامی بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کا نقصان ہوا کہ کسی تنازع کو بہت نچلی سطح اور آغاز میں طے کرنے کے مواقع محدود ہو گئے۔ کسی کاروباری‘ سیاسی، دفاعی معاملے اور علاقائی تنازع کے فریقوں کے مفادات نے وہاں بین الاقوامی مداخلت کا حجم بڑھا دیا۔

اچھی بات یہ ہے کہ افغان طالبان نے کسی ایسی مداخلت کا اثر قبول نہیں کیا جس سے ان کی رائے اور مفادات پر کسی اور کے مفادات کا رنگ چڑھتا ہو۔ افغان تنازع جلد حل ہو جائے گا۔ جن ممالک نے اس امن عمل کے لئے کردار ادا کیا انہیں یقین ہے کہ معاہدے کے بعد ان کے مفادات بھی محفوظ ہو جائیں گے لیکن امریکی یونیورسٹیوں میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے اساتذہ کو یہ پڑھانا پڑے گا کہ امریکہ بعض نظریات، کئی علاقوں اور کسی سماج کی مقامیت پر قبضہ کرنے کی مکمل استعداد حاصل کرنے سے پہلے ہی پیچھے کی طرف لڑھکنے لگا ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •