ایف بی آر میں اربوں روپے کی کرپشن کا سکینڈل: چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی پر دوست کی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا الزام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایف بی آر میں اربوں روپے کی کرپشن کے نئے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے دوست کو اربوں روپے سے نوازنے کیلئے ایف بی آر کے اختیارات ایک نجی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ٹوبیکو سکیٹر کو کنٹرول کرے گی اور سگریٹ کمپنیوں اور سگریٹ درآمد کنندگان افسران کی بجائے کمپنی کے مرہون منت ہو جائیں گے۔

ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے دوست کی کمپنی  SICPAاور ARWIN TECK (PVT) کو 5 سال کا ٹھیکہ دینے کیلئےایک ٹینڈر جاری کیا ہے جس کا عنوان ”الیکٹرانک مانیٹرنگ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم آف ٹو بیکو پروڈکٹ رکھا گیا ہے“۔ یہ ایف بی آر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا ٹینڈر ہے جس کے تحت سرکاری اختیارات ایک نجی کمپنی کو سونپے جا رہے ہیں جو 5 سال تک لائسنس حاصل کر کے سگریٹ اور ٹوبیکو سیکٹر پر اپنی اجارہ داری قائم رکھے گئی۔

کمپنی سالانہ 6 ارب روپے سے زائد کا ریونیو اکٹھا کرے گی اور یہ تمام ریونیو قومی خزانہ میں جانے کی بجائے کمپنی کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو گا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے دوست کی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کیلئے ٹینڈر دستاویزات میں ایسا ردوبدل کیا ہے کہ یہ ٹھیکہ ان کے دوست کی کمپنی کو ہی مل سکے۔

ذرائع سے حاصل ٹینڈر دستاویزات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی ٹوبیکو کمپنیوں کی طرف سے اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے کی ذمہ داری ایک نجی کمپنی کے حوالے کریں گے، کمپنی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ملک کے اندر 50 سے زائد ٹوبیکو کمپنیوں سے بنائے جانے والے سگریٹ کے پیک پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت ایک خاص کوڈ چسپاں کرے گی۔ اس کی فیس سگریٹ بنانے والے کمپنیوں سے وصول کی جائے گی جبکہ فیلڈ میں سرگرم ایف بی آر کے افسران اپنے موبائل فون کے ذریعے اس کوڈ سے معلومات حاصل کریں گے۔

بظاہر یہ بندوبست ٹیکس چوری روکنے کیلئے ہے لیکن حقیقت میں شبر زیدی ٹو بیکو سیکٹر کا کنڑول اپنی دوست کی کمپنی کے حوالے کر رہے ہیں، اور سرکاری اختیارات بھی اس نجی کمپنی کو دینے جارہے ہیں، شبر زیدی نے دوست کی کمپنی کو فائدہ دلوانے کیلئے خاموشی کے ساتھ ایک ایس آر او بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت ٹینڈر حاصل کرنے والی نجی کمپنی سگریٹ فیکٹریوں کے گیٹ پر ایک الیکٹرانک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تنصیب کرے گی جس کا کنکشن براہ راست ایف بی آر سے ہو گا۔ اس سسٹم کے تحت نجی کمپنی سگریٹ پیک پر ایک سٹمپ چسپاں کرے گی جس کی فیس سگریٹ کمپنی دے گی۔

ایف بی آر کے ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی اس کام کا ٹینڈر اپنے دوست کی کمپنی دے چکے ہیں تاہم کاغذی کاروائی کے لئے یہ ٹینڈر دیا گیا ہے تاکہ خاموشی اور خفیہ طریقہ سے کی جانے والے کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق نجی کمپنی کو لائسنس دینے کے بعد سگریٹ کمپنیوں پر نجی کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور سرکاری افسران کا کردار عملاً ختم ہو جائے گا۔ قومی خزانہ کو اس سیکٹر سے سالانہ 117 ارب روپے کا ریونیو آتا ہے جو اب نجی کمپنی کے رحم و کرم پر ہوگا۔ اس حوالے سے ترجمان ایف بی آر نے وضاحت نہیں دی۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے جبکہ حماد اظہر کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے۔
ماخذ: ڈیلی پاکستان، روزنامہ جسارت، جاوید چوہدری ڈاٹ کام اور خبر رساں ایجنسیاں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •