ایک کہانی جادوگروں کی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ کہ ذکر ہے کہ ایک دیش میں دو بوڑھے جادوگر رہتے تھے۔ جنہوں نے بڑی محنت اور ریاضت سے طلسم ہوشربا سیکھا تھا جس سے وہ پتا لگا لیتے تھے کہ دیو اور بھوت دھرتی کے کس حصہ پر منڈلا رہے ہیں۔ تاکہ بھوتوں کی مدد سے جادو نگریاں قائم کی جائیں بالکل ایسی جادو نگر یاں جہاں پر کالے جادو کا خاتمہ ہو، تاکہ کوئی بھی کالے جادو کے زور پر کسی پر ظلم نہ کرتا ہو۔ ظالم خوفناک درندہ معصوم پریوں کو اغوا نہ کرتا ہو۔ جہاں کسی جن کی جان کسی کے پاس قید ہو نہ ہی کوئی جن جو حکم میرے آقا کہتا ہوں۔ کوئی بھی اُن سے جبری کام لے کر انہیں بوتل میں بند نہ کرتا ہو اور نہ ہی کوئی ان کو پتھر کا بناتا ہوں،

بلکہ جادو کے زور پر طرح طرح کے طعام کپڑے مکان بنائے جاتے ہوں جو جادو نگری کے باسیوں کے لئے مفت ہوتے۔ ان بوڑھے جادوگروں نے کہا کیا اب دیو یورپا کی زیوس کے ہاتھوں زیادتی کا بدلہ لینے اور پرومیتھس کی نجات کے لئے ”آزادی کی شہزادی“ کی رہنمائی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ان گھنی لمبی داڑھی والے جادو گروں نے پورب کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔ کیونکہ وہاں پر بارش اور برفباری زیادہ ہوتی تھی مگر کچھ پورب کی طرف کے کوہ قاف دیس کے جن ان بوڑھے جادوگروں سے مل کر واپس گئے تھے وہاں کوہ قاف پر ظالم سامری کا راج تھا، جسے بوڑھے جادوگر بھی جانتے تھے اب کو کوہ قاف کے دیوؤں نے سامری کا راج ختم کرنے کے لیے بوڑھے جادوگروں کا طلسم سیکھا،

ایک دن کوہ قاف سے سامری کا راج ختم کرنے کے لیے آزادی پسند دیو لاکھوں کی تعداد میں آ دھمکے، انھوں نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ ”دھرتی لرز اٹھی“ سامری کے راج کا خاتمہ ہوگیا۔

چھوٹی داڑھی اوربڑی مونچھوں والے جادوگروں نے کالے جادو کا صفایا کردیا مگر لمبے عرصے بعد پھر وہاں پہ بونو ں کی نسل جو سامری کے درباری تھے انہوں نے سامری کا راج پھر سے بحال کردیا، جبکہ کچھ آسمانی پہاڑی بکروں کو بھی خوش فہمی ہے کہ انہوں نے سینگ مار مار کر جادو نگری کو توڑا ہے۔

پیارے مگر بڑے بچو! دیو تو اب ابھی کہیں منڈلا رہے ہوں گے کیونکہ ان کی رہنمائی اب بھی ”آزادی کی شہزادی“ کرتی ہے ان کو اب بھی یوراپا کی زیوس کے ہاتھوں زیادتی کا بدلہ لینا ہے، پرومتھیویوس کو آزاد کروانا ہے اور بونوں کی نسل کو شکست دینی ہے اور ان کے دماغ سے ہوا نکال کر ان کے حجامت ٹھیک کروانی ہے تاکہ وہ آرام سے زمین پر بنے ہوئے جادو نگری کے حوض کا پانی پی سکیں۔

اب دیو کہاں پہ منڈلا رہے ہیں کسی کو زیادہ پتہ نہیں اب ایسے جادوگر نہیں مل رہے جو ٹھیک بتا سکیں گے دھرتی کے کس حصے پردیو منڈلا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دیوؤں نے اب دکھن کی اور گلابی سرخ لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھانا شروع کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مختیار راہو کی دیگر تحریریں
مختیار راہو کی دیگر تحریریں