امت کو پھر ہے ضرورت ”حسین“ کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محرم الحرام کی ابتداء ہوچکی ہے، ماہ محرم قربانیوں کی وہ داستان ہے جس کی مثال تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ یوں تو تاریخ اسلام لازوال قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں کسی نے شہر عافیت و رحمت مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کرب و بلا میں اس لیے بستی بسائی ہو کہ قافلہ انسانی کو رہنمائی مل سکے، حق و باطل کا فرق قائم رہ سکے، ایسا رہنما جس نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سائے کو چھوڑ کر تلواروں کے سائے میں نماز عشق ادا کی ہو، نوک نیزہ پر قرآن سنایا ہو ایسا رہنما جو بھائی، بہن، بھتیجے، بھانجھے بیٹے، بیٹیاں قافلے میں ساتھ رکھے ہوں اور وقت آنے پر پہلے انہیں قربانی کے لیے پیش کیے ہیں، ایسا رہنما جو چھ ماہ کے پیاسے بیٹے کو پنگھوڑے میں تیروں سے چھلنی کروا کر، سولہ سال کے کڑیل جوان کا لاشہ اٹھا کر، بھائی کے بازو قلم کروا کر اپنا خاندان قربان کر کے لب فرات تین دن تک بھوکے پیاسے رہ کر بھی باطل سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا ہو قربانی کی ایسی مثال تاریخ میں ملی ہے نہ تاقیامت ایسی قربانی ہوسکے گی ’یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی غم حسین پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم غم حسین تو مناتے ہیں، یکم محرم سے چالیس محرم تک خاندان اہل بیت کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، عزاداری، مجالس، جلوس سب کچھ کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم لوگ حسین علیہ السلام کے سیرت نگار ہیں مگر شہادت حسین علیہ کے پیغام، افکار حسین پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

خاندان اہل بیت کی قربانیوں نے کرب و بلا کی دھرتی کو جو مقام و مرتبہ اور امت مسلمہ و عالم انسانیت کو جو سوچ دی ہے جو فکر عطا کی ہے، اس فلسفہ کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ واقعہ کرب و بلا مخض رونے، مجالس، جلوسوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کی ابدی حقیقت سمجھ آئے کہ کرب و بلا کی جنگ محض ایک جنگ نہ تھی بلکہ یہ دو فلسفوں کی جنگ تھی، ایک فلسفہ حسین علیہ السلام تھا اور ایک فلسفہ یزید تھا۔ ایک فلسفہ اور سوچ وفکر کو آج ”حیسینت“ کے نام سے جانا جاتا ہے اور دوسرے فلسفہ کو آج ”یزیدیت“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

فلسفہ و فکر یزید یہ تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، یہی حق ہے، جو طاقتور کے اس کی پیروی واجب ہے، اس کی اطاعت فرض ہے۔

فکر و فلسفہ حسین یہ تھا کہ طاقت، اقتدار عارضی ہے، طاقت حق نہیں بلکہ حق ہی طاقت ہے، طاقت کی نہ پرستش کی جائے نہ طاقت کے سامنے جھکا جائے بلکہ حق کے ساتھ کھڑا رہا جائے اس کے لیے چاہے کوئی بھی قربانی دینی پڑی دی جائے۔

مظلوم کربلا کے فلسفہ و فکر اور یزید میں یزید میں فرق یہ ہے کہ۔ یزید باطل کا نام ہے۔ جبکہ حسین علیہ السلام حق کا نام ہے۔ یزید بربریت کا نام ہے جبکہ حسین علیہ السلام انسانیت کا نام ہے۔ یزید خیانت یے جبکہ حسین علیہ السلام امانت ہے۔ یزید جبر ہے جبکہ حسین علیہ السلام صبر ہے۔ یزید جفا ہے جبکہ حسین علیہ السلام وفا کانام ہے۔

مذکورہ تمام باتیں ہم جانتے ہیں، مجالس، جلوسوں، ریلیوں میں آئے روز ہم یہ باتیں دہراتے ہیں، خود کو اور دوسروں کو پیغام کربلا اور فکر حسین علیہ السلام پر چلنے کے لیکچر بھی دیتے ہیں لیکن ان پر عمل ہم خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔

واقعہ کربلا ہمیں درس دیتا ہے کہ حق و ہدایت کی راہ میں افرادی قوت کی قلت سے نہیں گھبرانا چاہیے کیونکہ حق کے پیچھے بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، امام حسین علیہ السلام اگر کربلا میں تنہا بھی رہ جاتے تو بھی وہ حق سے پیچھے نہ ہٹتے۔

ہم حسین ابن علی علیہ السلام کے چاہنے اور ماننے والے ہیں، ایک مہینہ ہونے کو بھارتی مقبوضہ کشمیر ہمارے مسلمان بہن بھائی ایک جابر کی قید میں ہیں، بچے بھوک سے بلک رہے ہیں، ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں، مذہبی آزادی سلب ہورہی ہے مگر ہم یہاں صرف نعرے، تقرریں، جلسے اور بھڑکیں مارتے ہیں، ہم صرف جابر کو جابر کہہ رہے ہیں لیکن میلوں دور سے، ہمارے اسلامی ممالک اہل عرب جابر کی بیعت قبول کر رہے ہیں اسے سینے سے لگارہے ہیں۔

ہمارے سامنے فلسطین اجڑ گیا، عراق لٹ گیا، شام ڈوب گیا، روہنگیا میں مسلمانوں پر قہر برسا، افغانستان تباہ ہوگیا، ہندوستان میں مسمانوں کا مسلمان ہونا جرم ثابت ہورہا ہے، بہتر سالوں سے کشمیری لٹ رہے تھے اور اب ان کی شناخت تک مٹنے کو ہے اور ہم ایمان کے تیسرے درجے (کمزور ایمان) پر کھڑے ہوکر برا منا رہے ہیں اور دعوی ہم مسلمان ہونے کا اور ان حسین علیہ السلام کے سیرت نگار ہونے کا کرتے ہیں، جنہوں نے انسانیت کے لیے، بقا دین کے لیے، حق کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔

ان تمام تر باتوں کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ یہاں آج بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا نظریہ حق و باطل بالکل واضح ہے، جن کے دامن پر پیوند تو ہوسکتے ہیں لیکن وہ گند آلود نہیں، جو مادہ پرستی اور نفسا نفسی کے اس دور میں بھی اپنے ذات سے باہر نکل کر فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جو حالات کی وجہ سے خاموش ہیں، جو جان لٹانے پر امادہ ہیں پر تسلی چاہتے ہیں کہ کہیں بے موت ہی نہ مارے جائیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی کئی لوگ بار ذوق گل بوسی میں اپنی زبانیں لہولہان کر چکے ہیں، لوگ اب بھی حر بننے کو تیار ہیں لیکن انہیں کوئی ”حسین“ تو دکھائی دے۔ سلطنت عباسیہ امام حسین علیہ السلام کے نام پر بنی لیکن مظالم کے پہاڑ بھی قافلہ حسینی پر توڑے گے، لوگ آج بھی سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیڈروں کی بھیڑ میں صرف ڈنگ مارنے والے اور ڈھیر ہونے ہیں اس لیے لوگ ڈرتے ہیں کہ کہیں پھر ویسا نہ ہوجائے جیسا ہوتا آیا ہے۔ لیکن لوگ آج بھی ”حسین“ کے متلاشی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •