نصیب اپنا اپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا ایک ادارے کی سربراہی اس کے پاس تھی۔ کچھ خاص لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں موجود ہوتیں ہیں، بس فرق تناسب کا ہوتا ہے، کسی میں خوبیاں زیادہ اور کوئی خامیوں سے خوبیوں کو مات دے دیتا ہے۔ ایسی ہی ملی جلی شخصیت کے ساتھ انہوں نے بطور سربراہ ادارہ ایک بھر پور اور جوبن کی زندگی گزاری۔ اپنی اولاد کی آسودگی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس جدوجہد میں ان سے کیا کوتاہیاں ہوئیں اس کا معاملہ ہم اللہ کے سپرد کرتے ہیں کہ وہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ اولاد کے آرام و سکون کے لیے وہ چھوٹے چھوٹے گھریلو کاموں کے لیے بھی اس ادارے کے چھوٹے ملازمین کو ہی تکلیف دیتے۔ بعض اوقات نسبتاً بڑے گریڈ کے ملازمین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جاتا۔ گویا اپنے بیوی بچوں کی خوشنودی کے لیے انہوں نے حدود و قیود کی بھی کم ہی پروا کی۔

پھر وہ وقت آیا جو ایک دن ہر با اختیار شخص پر آتا ہے، ”بادشاہت“ کا خاتمہ یعنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ۔ بہت کچھ جو دسترس میں تھا، اب اس سے محرومی ہو گئی۔ اس کے باوجود بظاہر ایک اچھی زندگی کے تمام لوازمات موجود تھے۔ اب وہ ادارے کی بجائے ایک گھر کے سربراہ تھے۔ اب اولاد کی باری تھی کہ وہ ان کے آرام و سکون کے لیے اسی طرح تگ ودو کرتے جس طرح انہوں نے اپنے بچوں کے لیے کی تھی۔ مگر ایسا ہو نہیں سکا۔ ان کا خیال رکھنے کے لیے ان کی اہلیہ موجود تھیں، اس لیے بیٹوں کی لاپرواہی اور کوتاہی اتنی محسوس نہیں ہوئی۔

آخر ایک دن وہ غم گسار بیوی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اب ایک اور دریا ان کے سامنے تھا، تنہائی کا ”اباسین“ جو انہوں نے اکیلے پار کرنا تھا کیونکہ بیٹے اور بہوئیں اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے، ان کے پاس ان کے لیے، ان کے کاموں کے لیے، ان کی تنہائی کے مداوا کے لیے کوئی وقت ہی نہیں تھا۔

جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اکیلے اس دریا کی طغیانی کا سامنا نہیں کر سکتے تو انہوں نے گھر میں کام کرنے والی بیوہ ملازمہ سے شادی کر لی، اس کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا لیا، نئی بیوی کو الگ مکان بھی بنا کے دے دیا اور زندگی کی گاڑی ان نئی بوگیوں کے ساتھ بہتر انداز میں چلنے لگ گئی۔

ایک دن چلتی گاڑی کا انجن فیل ہوا اور وہ خود اللہ میاں کے حضور حاضر ہو گئے۔ گھر کی نوکرانی اب دوسری بار بیوہ ہوئی، پر اس بار قدرت اس پر بہت مہربان تھی۔ اس کے لیے مکان تو وہ پہلے ہی بنوا چکے تھے، اب وہ ان کی پینشن کی حق دار بھی ٹھہری۔ بیٹوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب انہوں نے اپنی نئی امی کی مبلغ پچاسی ہزار پینشن دیکھی۔ اب ان کے پاس صرف ایک پچھتاوا ہے، اور ان کی نوکرانی کے پاس ایک گھر اور کثیر پینشن اور ایک آسودہ زندگی۔ ہر کسی کو اپنا اپنا نصیب ہی ملتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید محمد اسحاق کی دیگر تحریریں
سید محمد اسحاق کی دیگر تحریریں