اہم پیغام جنگ جوؤں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ اقدامات نے جہاں اہل کشمیر کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو بھی بڑھاوا دے رکھا ہے۔ حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقدامات پر قوم کی رائے منقسم ہے تو اس کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی پر ملک کے اندر مختلف الخیال طبقات پائے جاتے ہیں۔ کشمیر کے عشروں پرانے قضیے کے حل کے لیے ایک سوچ جنگ کے ذریعے اس خطے کو آزاد کر نے کی ہے جس پر ہندوستان نے بزور بازو قبضہ کر رکھا ہے۔

ہندوستان سے ایک لمبی اور فیصلہ کن جنگ کی آوازیں اور نعرے ٹی وی اسکرینوں، اخبارات کے صفحات، سوشل میڈیا کی سائٹس سے لے کر گلی محلوں، ہوٹلوں اور تھڑوں پر بڑی گرمجوشی سے کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی ہر پاکستانی کا خواب ہے لیکن اسے جنگ کے ذریعے آزاد کرانا ایک کٹھن اور جاں گسل مرحلہ ہے اور اس کے لیے فقط فوج کو ہی نہیں پوری قوم کو کمربستہ ہونا پڑے گا۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے ابھی تک کوئی خفیف سا اشارہ بھی نہیں دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے خطے میں جنگی کارروائی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے لیکن قوم میں ایسے خیالات کے لوگ موجود ہیں جو حکومت اور فوج کو بار بار ”غیرت ایمانی“ کے تقاضوں کے تحت ہندوستان سے جنگ کا مشورہ دے رہے ہیں تو چلیں ایسا ہی سہی۔

لیکن کیا جنگ اکیلی فوج کرے گی اور قوم پیچھے اپنے روز و شب میں اسی طرح مصروف رہے گی جیسے وہ مسلسل کئی عشروں سے چلی آرہی ہے۔ تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جنگ قوم کو لڑنی ہے اور یہ جنگ کتنی طویل ہو سکتی ہے اور کس قدر تباہ کاریاں اپنے جلو میں لائے گی اس کے لیے قوم کو تیار رہنا چاہیے۔ وہ جنگ جو ذہن جو جنگ کو ہی مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حتمی حل سمجھتے ہیں وہ حکومت، بیوروکریسی، سیاست دانوں، میڈیا، طبقہ امراء، مڈل کلاس، غربیوں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔

ان تمام جنگ جوؤں کو جنگ کی جانب بڑھنے سے پہلے ان تمام حالات کا بھی ادراک کرنا ہوگا اور ان قربانیوں کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا جو ایک فیصلہ کن جنگ کی صورت میں انہیں دینا ہو ں گی۔ ان جنگ جوؤں کو ہر گز اپنے خون سے شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ بس ان سے یہ تو قع ہو گی کہ وہ جنگی محاذ سے سینکڑوں میل پیچھے اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر، محفلوں اور معاشرے میں جنگ کے لیے ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی طور پر تیار رہیں گے جو ایک فیصلہ کن اور طویل جنگ ان سے خراج وصول کر ے گی۔ آئیے ایک جنگ کس طرح لوگوں سے خراج وصول کرتی ہے اور کس طرح زندہ اور بیدار قوم کے افراد قربانی دینے کے لیے بخوشی آمادہ ہوتے ہیں اس کی مثال ملاحظہ کرتے ہیں۔

دنیا میں بے شمار جنگیں ہوئیں ان میں ایک دوسری جنگ عظیم بھی ہے جس میں برطانیہ جب جنگ کی لپیٹ میں آیا تو اس کے باسیوں نے جنگ میں کس نوع کے رویے کا مظاہرہ کیا اور کس طرح قربانی و ایثار کی مثالیں قائم کیں۔

جنگ کے زمانے میں انگلستان میں راشن کا نظام رائج ہوا۔ ہر چیز راشن پر ملتی تھی۔ لیکن جنگ کے دوران کسی چیز کی بلیک مارکیٹنگ کی اطلاع نہیں آئی۔ ہم جو رمضان میں خدا کے خوف کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور ذخیرہ اندوزی سے ناجائز منافع کماتے ہیں۔ کیا جنگ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قلت سے فائدہ اٹھانے سے باز آئیں گے؟

جنگ کے دوران خوراک، کپڑوں، پٹرول اور دوسری اشیاء کے متعلق تمام احکامات امیروں اور غریبوں پر یکساں نافذ تھے۔ امیروں کو اپنی دولت کے بل بوتے پر زیادہ کھانا فراہم کرنے پر حکومت انگلستان نے پابندی لگا دی اور غریبوں کے لیے بھی ہوٹل کھول دیے۔ ہندوستان سے جنگ کی صورت میں کیا ”محمود و ایاز“ ایک ہی قطار میں کھڑے ہو کر خوراک اور دوسری اشیاء کے استعمال پر یکساں سرکاری احکامات کی پابندی پر عمل کر پائیں گے؟ اس ملک میں دولت کے سہارے ساری عیاشیاں کی جا سکتی ہیں تو کیا جنگ ایسے کٹھن مرحلے میں امیر مشکلات و تکالیف کو غریبوں کے شانہ بشانہ جھیل پائیں گے یا بال بچوں کے ساتھ دیس دیس کی سیر کو نکل پڑیں گے۔

جنگ کے دوران انگلستان میں کوئی شخص اپنے گھر کی ردی اور بچا کھچا سامان مثلآ سگریٹ کی خالی ڈبیا، پرانے اخبار، خالی ڈبے ضائع نہیں کرتا تھا، یہ تمام چیزیں سنبھال کر رکھ لی جاتی تھیں، سرکاری گاڑیاں گلی محلوں میں گھوم کر یہ سامان اکٹھا کر کے لے جاتیں اور ان کارخانوں میں لے جاتیں جو حکومت نے ان چیزوں کو کار آمد بنانے کے لیے قائم کیے تھے۔ کیا ہمارے جنگ جو مزاج افراد یہ کام کر پائیں گے۔ یہاں گھروں کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کر کے اسے ٹھکانے لگانے کا کام اج تک نہیں ہو سکا تو یہ کیسے ہو پائے گا۔ اس کے جواب میں پوری قوم سر کھجانے کے علاوہ کچھ نہ کر پائے گی۔

انگلستان میں جنگ کی وجہ سے جب 45 برس کے ہر شخص کی فوج میں بھارتی لازمی قرار دے دی گئی تو اس کے باعث ملازموں کی کمی ہوگئی۔ طبقہ امراء نے اس صورت میں اپنی شاندار حویلیوں کے کمروں کو تالے لگا دیے اور ایک آدھ کمرے تک اپنے آپ کو محدود کر لیا اور سامان زیبائش کو الماریوں میں بند کر دیا تاکہ صفائی ستھرائی کے جھنجھٹ سے جان چھوٹ جائے۔ کیا پاکستان کا طبقہ امراء یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہو گا یا فقط ”خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے“ کے زبانی جمع خرچ کو ہی اپنا فرض منصبی سمجھتا رہے گا۔

یہ تو فقط چند مثالیں ہیں کہ کس طرح قوم جنگ لڑتی ہے۔ ہم میں سے ایسے جنگ جو ذہن جو ہر طبل جنگ بجاتے رہتے ہیں وہ شاید جنگ کو دو فوجوں کی لڑائی سمجھتے ہیں۔ اب اپنی قوم کا یہ حال ہے کہ زمانہ امن میں بھی ہر کام میں فوج کو بلانے اور اسے یہ کام سونپ کر اپنے تئیں اپنا فرض ادا کر دیتی ہے۔ اب جنگ میں بھی یہ کام فوج کے سپرد کر کے اپنی خر مستیوں میں مصروف رہی تو اسے ”تھوک میں پکوڑے تلنے“، ”گونگلووں سے مٹی جھاڑنے“ اور ”اندھیرے میں تیر چلانے“ کے علاوہ کیا نام دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •