جناب ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ ہم مایوس تو ہرگز نہیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خدا کا خوف کریں جو بندہ اے ٹی ایم مشین توڑ سکتا ہے۔ جسے یہ بھی معلوم ہے کہ اے ٹی ایم میں کیمرہ کہاں لگا ہوتا ہے۔ کیمرے کو منہ چڑا سکتا ہے۔ مشین کے توڑنے کے بعد جو یہ بھی جانتا ہے کہ مشین میں کارڈ کہاں پڑا ہے اور ہاتھ ڈال کر کارڈ نکال سکتا ہے۔ گونگا ہونے کا ڈرامہ کرسکتا ہے وہ پاگل یا فاترالعقل کیسے ہو سکتا ہے۔ اور دوسری بات پولیس حراست میں اس کی موت بہت بڑا ظلم ہے۔

اداروں کو مزید اخلاقی تربیت کی ابھی ضرورت ہے۔ کبھی بھی افسران کو ذاتیات پہ نہیں أنا چاہیے۔ اس چور کی موت بہت بڑا سانحہ ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔ اب اس چور کو شہید کہنے والوں کی عقل کا بھی علاج ہونے والا ہے۔ ظلم ہوا اور بہت بڑا ظلم ہوا۔ مگر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ وہ ایک عادی مجرم اور چور تھا۔

میں جب سکول پڑھتا تھا تو 80 کی دہائی تھی، اس دور میں سکولوں میں خوب مارا جاتا تھا۔ استاد بے خوف مارتے تھے، چھٹی جماعت میں ایک قران ناظرہ کے قاری نے میری کلائی کی ہڈی مار مار کے توڑ دی۔ یہ جانے بغیر کہ ایک خاص حد تک ہی باڈی اور امیون سسٹم درد اور تکلیف برداشت کرے گی۔

جب کسی انسان کو ایک بند کمرے میں مارا جاتا ہے تو جسم میں ایک Adrenaline ہارمون جاری ہوتا ہے آگے جاکر اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں جو کے ڈپریشن کے وقت انسان کے جسم میں ریلیز ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان کے اندر ڈپرشن کی زبردست فضا سر گرم ہو جاتی۔ ایک وقت پر یہ ہارمون فورس کرتے ہیں کہ جینا چھوڑ دو۔ اور اسی دوران ہارٹ فیل ہونے سے موت واقع ہونے کے چانس ہوتے ہیں۔ لیکن مختلف کیفیت میں اس کا اثر مختلف ہوتاہے۔

اکثر ٹارچر کرنے والے دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے کسی نازک جگہ پر نہی مارا، اور موت واقع ہوگئی، اس موت کی وجہ یہی ڈپرشن ہوتا ہے جو ٹارچر کے خوف سے بنتا ہے۔ لیکن اگر ایسے شخص کو فورا کسی کھلی فضا میں لے کر جایا جائے تو Epiephrine ہارمون ریلیز ہوتے ہیں اور ان کا کام Adernaline ہارمون کے الٹ ہوتا ہے۔ اور یہی ڈپریشن کو توڑتے ہیں اور جان بچاتے ہے، انٹی ڈپریسن ادویات یہی کام کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر اموات بند کمرے یا ٹارچل سیل میں ہوتی ہیں۔ یہ ایک پکی سائنسی تھیوری ہے۔

ہمارے ڈا کٹرز کو آگے آنا چاہیے۔ اور جنگلی نما وحشی درندوں کو ٹریننگ دینا ہوگی۔ کسی کو درد کی ازیت دینا یا اس کی جان لینا ایک وحشی پن اور اپنے آپ میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ اگر اے ٹی ایم چور کی موت سچ مچ پولیس تشدد سے ہوئی ہے تو یہ لمحہ فکر ہے۔ جس طرح ایڈیشنل أئی جی ٹریننگ محکمہ پولیس کی بہتر تربیت کے لیے کوشاں ہیں مجھے قوی یقین ہے کہ محکمہ پولیس جلد ایک مثالی محکمہ بن جائے گا۔ وہ وقت دور نہیں جب پولس کو خوف کی نہیں تحفظ کی علامت سمجھا جانے لگے گا۔ سربراہان پولس کی دن رات کوششوں سے محکمہ بہتری کی طرف گامزن ہے مگر ابھی کچھ مزید وقت لگے گا۔ مگر ہم مایوس ہرگز نہیں ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •