امریکا میں نوحہ خوانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکا میں ہمارا یہ دوسرا محرم ہے۔ بلکہ مجھے تیسرا کہنا چاہیے۔ 2017 میں دس دن کے لیے آیا تھا تو محرم ہی کے دن تھے۔ ہیوسٹن میں میرے ماموں زاد بھائی تصور حسنین رات کو مجھے مجلس میں لے گئے۔ ہیوسٹن میں بے شمار کراچی والے رہتے ہیں۔ بلکہ امروہے والے بھی۔ انچولی کے فہیم بھائی اور حسین جری ملے۔ دوسرے شہروں کے کئی لوگ پہچان گئے۔ سوشل میڈیا پر گالیاں کھانے والوں کی صورت سب یاد رکھتے ہیں۔

گزشتہ سال محرم آیا تو ہم نے شمالی ورجینیا کے دو امام بارگاہوں کی مجلسیں کیں۔ ایک کے منتظم رمیز حسن کے سسر ہیں۔ رمیز خانیوال میں میرے بچپن کے دوست اسد مہدی ایڈووکیٹ کا بھتیجا ہے۔ اسد مہدی، علی رضا عابدی شہید کا فرسٹ کزن بھی ہے۔ بھائی علی رضا عابدی کی والدہ کا تعلق خانیوال سے ہے۔ جی ہاں، تمام عزادار رشتے دار ہوتے ہیں۔

شمالی ورجینیا کے محمدیہ سینٹر اور شاہ نجف سینٹر کی انتظامیہ پنجاب کے عزاداروں پر مشتمل ہے۔ وہاں جانے والے بیشتر لوگ بھی لاہور اور دوسرے شہروں کے ہیں۔ لیکن گزشتہ سال عشرے پڑھنے کے لیے انھوں نے کراچی کے ذاکرین کو بلایا۔ ہم نے کئی مجلسیں علامہ رضی جعفر کی سنیں اور ایک علامہ عون نقوی کی۔ میں نے بہت منہ چھپانے کی کوشش کی۔ ایک ستون کی آڑ میں بیٹھا۔ سر جھکائے رکھا۔ لیکن علامہ صاحب کی نگاہیں تیز ہیں۔ انھوں نے مجلس پڑھتے پڑھتے سو لفظوں والے اللہ بابا کا ذکر کردیا۔ مجلس کے بعد نیاز میں بھی ساتھ بٹھایا۔

ہمارے دفتر میں قمر جعفری صاحب میری لینڈ کے ادارہ جعفریہ کے منتظمین میں شامل ہیں۔ یہ بات مجھے گزشتہ سال بھی معلوم تھی لیکن ہم وہاں نہیں جاسکے تھے۔ اس سال پہلی محرم کو سوچا کہ نئی جگہ جانا چاہیے۔ شاہ نجف اور محمدیہ سینٹر کے ہال وسیع ہیں لیکن احاطہ بڑا نہیں۔ ادارہ جعفریہ کو دیکھ کر اچھا لگا۔ یہ بڑے رقبے پر قائم ہے۔ پہلی محرم کو ہال بھرا ہوا تھا۔ دوسری کو پہنچے تو احاطہ بھی بھرا ہوا تھا۔ انگریزی کی مجلس ختم ہوئی تو نئی نسل باہر نکل آئی۔ میرا خیال تھا کہ اندر کم لوگ ہوں گے۔ لیکن بہت تھے۔ امریکا کے ایک امام بارگاہ میں ہزار بارہ سو کا مجمع بڑی بات ہے۔

ادارہ جعفریہ میں کراچی والے بھی زیادہ دکھائی دیے۔ ماتم بھی کراچی والوں کا۔ پنجاب والے دونوں ہاتھوں سے ماتم کرتے ہیں۔ کراچی والے صرف ایک ہاتھ سے۔

ایک ہاتھ کے ماتم کا ایک قاعدہ ہے۔ نوحے کے ایک بند پر ماتم دھیما رہتا ہے۔ دوسرے بند پر شدت آجاتی ہے۔ اس شدت کو کراچی کی زبان میں ڈیڑھ اٹھانا کہتے ہیں۔ اس کا اشارہ دستہ سالار کرتا ہے۔ وہ ماتمی حلقوں کے درمیان میں کھڑا ہوتا ہے۔ جس مصرع پر ماتم اٹھانا ہو، وہ علی کا نعرہ لگاتا ہے۔ ماتم دار پہلے ذرا سا جھکتے ہیں، پھر ایک جھٹکے سے پیچھے جاتے ہیں۔ ان کا بازو پورا کھل کر اور گھوم کر سینے پر پڑتا ہے۔ یہ جھکنا، اٹھنا، سینے پر ہاتھ مارنا ایک ردھم میں ہوتا ہے۔ مشق کے بغیر کوئی شخص اس ردھم میں نہیں آپاتا۔ کبھی کبھار ماتم کرنے والے کا سانس فوراً پھول جاتا ہے۔ مشق ہوجائے تو لوگ دیر تک ماتم کرتے رہتے ہیں۔ آخری نوحے کے آخری بند پر جو ڈیڑھ اٹھتی ہے، وہ شروع ہوتے ہی مولا حیدر کی آوازیں بلند ہوجاتی ہیں۔ دستہ سالار کہتا ہے مولا، ماتم دار چلاتے ہیں حیدر۔ اگر آپ کسی حلقے میں شامل ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ پوری کائنات اس آواز کے ردھم پر حرکت کررہی ہے، مولا حیدر مولا حیدر مولا حیدر۔

ادارہ جعفریہ میں سید علی محمد رضوی یعنی سچے بھائی کا بیٹا نوحہ خوانی کرتا ہے۔ بالکل وہی آواز۔ نوحے بھی ان کے۔ میں نے انچولی میں سچے بھائی کو نوحے پڑھتے دیکھا ہے۔

فاطمہ کے چین نے، علی کے نورعین نے، بخدا حسین نے، دین کو بچالیا
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں، یہ سوچتا ہوں کبھی کبھی میں

اونچا رہے اپنا علم

علی علی ہے زباں پر، کبھی حسین حسین
حسین تم پہ جو ایمان لا نہیں سکتا، قسم خدا کہ وہ جنت میں جا نہیں سکتا

لاش اکبر اٹھارہے ہیں حسین، دل کی قوت دکھا رہے ہیں حسین
عجیب ضد ہے کہ اسلام آل سے مت لو

اس وقت ان آنکھوں کو علم نہیں تھا کہ کیا دیکھ رہی ہیں۔ اب پچھتاتی ہیں کہ جی بھر کے کیوں نہ دیکھا۔ نوحہ خوانوں میں سچے بھائی کا رتبہ بہت بلند ہے۔ شاید سب سے بلند۔ وہ بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ غضب کی آواز تھی۔ سر تا پا عزادار تھے۔ ان کے کئی نوحے عزاداروں کے قومی ترانے بن چکے ہیں۔ جو نہیں بھی جانتا کہ یہ نوحے کس کے ہیں، وہ بھی انھیں پڑھتا ہے۔

سدا رہے گا حسین کا غم، یہ شور گریہ یہ شور ماتم

کربلا ہوچکی تیار تقدم ولدی
الوداع الوداع الوداع اے حسین

میں نے انجمن ذوالفقار حیدری میں ان کے ساتھ اور بعد میں دوسروں کے ساتھ نوحے پڑھنے والے سید علی عباس رضوی یعنی بشے بھائی کو بھی سنا تھا۔ کل سچے بھائی کے بیٹے کو سن کر کچھ دیر کو انچولی پہنچ گیا۔ ایک طرف سچے بھائی پڑھ رہے ہیں۔ کچھ فاصلے پر علی ضیا درد بھرے لہجے میں نوحہ اٹھارہے ہیں۔ ندیم سرور کی آواز بغیر مائیک کے دور تک گونج رہی ہے۔ تبلیغ امامیہ اور ذوالفقار مرتضوی کے حلقے لگے ہوئے ہیں۔ میں فدائے اہلبیت کے دستے میں شامل ہوں۔ قمر بھائی محشر لکھنوی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

کربلا والوں کو سیراب اگر کردیتا
ہوتا کوثر کے برابر تیرا رتبہ پانی

کہہ کے یہ حضرت عباس نے دم توڑ دیا
ہائے افسوس سکینہ کو نہ پہنچا پانی

راجو بھائی علی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ماتم میں شدت آتی ہے۔ قمر بھائی کی آواز ماتم کے شور میں دب جاتی ہے۔ پوری کائنات ایک آواز کے ردھم پر حرکت کرنے لگتی ہے، مولا حیدر مولا حیدر مولا حیدر مولا حیدر!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 190 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi