مرد عورت کی عزت کیوں نہیں کرتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب

بہت دنوں سے زندگی عجیب سی مصروفیت کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ وقت جسیے مجھے انگلیوں پہ نچا رہا ہو اور میں بھرپور طریقے سے اُس کے چنگل سے نکلنے کے لیے بیقرارہوں۔ بلآخر آج کچھ فرصت کے لمحے عنایت ہوئے تو اپنا آلہ گُفتار لے بیٹھی جس میں محظوظ ہونے کے لیے سب سامان موجود ہوتا ہے لیکن سر فہرست آپ کے مکالمے، کبھی مضامین اور کبھی نفسیاتی مشورے پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں جو ہم سب کے علم میں بہت اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

لیکن آج جو خط نظر سے گزرا وہ نوشی بٹ صاحبہ نے ’آپ کو مورخہ 27 اگست 2019 کو لکھا تھا۔ پڑھنے پر معلوم ہوا کہ موصوفہ نا صرف بہت عمدہ لکھتی ہیں بلکہ بڑی دلچسپی سے آپ کے ساتھ ایک سوال وُ جواب کا سلسلہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ آپ سے پے در پے شعبہ نفسیات اور آپ کے تجربات کی روشنی میں مشورہ کرتی ہیں اور آپ بخوبی ان کو ہر پہلو دکھاتے ہیں۔ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ آپ نا صرف علم و ہنر کا ایک اثاثہ ہیں بلکہ ایک بے لوث شخصیت کے مالک بھی ہیں جو اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانا بلکہ سکھانا بھی چاہتے ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتی ہوں تو جناب آپ کا ’ہم سب‘ پر خط ”کیا آپ حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں“ نظر سے گزرا اُس میں لکھے دونوں فریقوں کے تاثرات پڑھے۔ محترمہ کے خدشات تھے کہ خواتین اتنی possessive، کیوں ہوتی ہیں؟ اور آپ اپنے علمی نکات اور تجرباتی اعتبار سے عورت کو، حاسد اور احساس کمتری میں مبتلا بتا رہے تھے جن کی بہت سی وجوہات آپ نے درج کیں۔ مضمون کی دلچسپی آپ کے ایک جملے نے لکھ کے بڑھا دی، وہ کچھ یوں تھا ”ہمارے کلینک میں اتنے ہی مرد بھی آتے ہیں جتنی عورتیں جو حسد کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں“۔

پہلی بات یہ کہ آپ خود ایک مرد ہوکے اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکے کہ انسان خواہ کوئی بھی ہو حساسیت میں یکساں ہے۔ ایک جیسی ذہنی کیفیت کے شکار اور بیمار مرد اور عورت دونوں ہو سکتے ہیں۔ حسد، شک اور اضافی حالت میں مبتلا رہتے ہیں اور ہاں گھریلو اور معاشرتی حالات کچھ مختلف طرح سے اثر انداز ضرور ہوتے ہیں مگر نتیجہ ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ دوسری بات ہمارے معاشرے میں مرد بچپن سے ہی عورت کی نسبت ذہنی اور جسمانی طور سے بہترسمجھا جاتا ہے۔

قدرت اور مذہب نے بھی مرد کو ہی بر تری دے رکھی ہے۔ اُس کی پرورش میں جیسے احساس برتری کوٹ کوٹ کے پلائی گئی ہو۔ اُس کا ہر جذبہ ہر کیفیت منہ پہ آنے سے پہلے ہی دبا دیا جاتاہے۔ کیوں نہیں! آخر وہ بڑا ہوکے ”ایک مرد“ ہی تو بنے گا۔ وہ کبھی نا کبھی اس برتری کے خمار میں فرعونیت کے جلال تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ حسد، شک، بے حسی حتی کہ domestic violence کرنے سے گریز تک نہیں کرتا اور بیشتر ایسے رویے بھی دیکھنے میں آتے ہیں جب وہ انسان سے حیوان بن جاتا ہے۔ اپنے نفس کے بند بچپن میں نہ سہی جوانی میں توڑ دیتاہے۔ آخر کیوں؟ اس آخر کیوں کا جواب بحیثیت ایک مرد، ایک ڈاکٹر اور ایک نفسیاتی معالج دیجیے گا اور اس کا صد باب بھی۔ آپ کے جواب کی منتظر۔

گل رحمن

1 ستمبر 2019

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

۔ ۔ ۔ ۔

گل رحمٰن صاحبہ!

یہ میری خوش بختی ہے کہ مجھے آپ جیسا قاری ملا۔ آپ میرے کالم نہ صرف پڑھتی ہیں بلکہ ان پر غور بھی کرتی ہیں۔ ایسا بہت کم قاری کرتے ہیں۔ میکسیکن دانشور اوکٹاویو پاز کا کہنا ہے کہ سنجیدہ قاری جتنی دیر پڑھتا ہے اتنی دیر اس پر غور بھی کرتا ہے۔ اگر آپ نے ’ہم سب‘ پر میرا کالم ’کیا آپ حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں ْ؟ ‘ سنجیدگی سے نہ پڑھا ہوتا تو آپ کی توجہ اس کلیدی جملے پر مرکوز نہ ہوتی جس میں میں نے مردوں کے نفسیاتی مسائل کی طرف قارئین کی توجہ مبزول کروائی تھی۔

میں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہت سے ایسے مردوں سے مل چکا ہوں جو عورت کی عزت نہیں کرتے اس کا احترام نہیں کرتے بلکہ اس کی تذلیل کرتے ہیں بے عزتی کرتے ہیں ہتک کرتے ہیں اور بعض تو verbal abuse کے ساتھ ساتھ physical abuse بھی کرتے ہیں۔ وہ انسان سے حیوان بن جاتے ہیں۔ آپ نے سوال پوچھا ہے ایسا کیوں ہے؟

یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ اس موضوع پر ماہرین نے ضخیم کتابیں لکھی ہیں کیونکہ اس کے کئی پہلوہیں۔ میں یہاں صرف دو پہلوؤں کی نشاندہی کروں گا۔

پہلا پہلومعاشرتی ہے۔

مرد اور عورت انسان پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہم صدیوں سے ایک patriarchal system میں زندگی گزار رہے ہیں اس لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت مختلف ہوتی ہے۔ بچپن سے لڑکے پہلے درجے کے اور لڑکیاں دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی خاندانوں اور سکولوں میں social، religious and cultural conditioning مختلف ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مردوں کی حاکموں اور عورتوں کی محکوموں کی طرح تربیت کی جاتی ہے۔

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مختلف ممالک اور معاشروں میں طاقت اور دولت دونوں مردوں کے ہاتھ میں رہے ہیں۔ تمام سیاسی مذہبی معاشی اور سماجی اداروں کے رہنما مرد ہیں۔

صدر بھی مرد۔ وزیرِ اعظم بھی مرد۔ اداروں کے ڈائرکٹر بھی مرد۔

کیتھولک چرچ کے پوپ اور کعبہ کے امام بھی مرد۔

مردوں کا بنایا ہوا خدا بھی صرف مردوں سے بات کرتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی فہرست میں بھی کوئی عورت نظر نہیں آتی۔

چونکہ مردوں کے پاس دولت بھی ہے شہرت بھی اور طاقت بھی اس لیے وہ دولت شہرت اور طاقت انہیں کرپٹ کر دیتی ہے۔ انہیں ظالم اور جابر اور آمر بنا دیتی ہے۔

ہم اکیسویں صدی میں بھی ایک پدر سری نظام میں جی رہے ہیں۔

مغربی دنیا میں جہاں جمہوریت اور سوشلزم مقبول ہوئے ہیں وہاں اب عورتیں تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں اور ڈاکٹر انجینیر اور وکیل بھی بن رہی ہیں۔ لیکن امریکہ جیسے ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گیا ہلری کلنٹن نہیں بن سکی اس کی ایک وجہ عورت ہونا تھی اگرچہ اسے بل کلنٹن اور باراک حسین اوباما جیسے دو طاقتور مردوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔

پاکستان میں بھی بے نظیر کے لیے وزیرِ اعظم بننا مشکل ہوتا اگر وہ ذولفقار علی بھٹو کی بیٹی نہ ہوتیں۔ یہ علیحدہ بات کہ وزیر ِ اعظم بن کر بھی انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے کچھ زیادہ کوشش نہیں کی۔

دوسرا پہلو نفسیاتی ہے

اکثر لڑکوں کو اپنے گھر میں اچھے role model نہیں ملتے۔ مجھ سے نجانے کتنے مرد مریضوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد ان کی والدہ کی بے عزتی کرتے تھے مارتے پیٹتے تھے عورت کو کمزور اور بے وقوف سمجھتے تھے۔

جب لڑکوں کی ایسے ماحول میں تربیت ہو تو وہ شعوری اور لاشعوری طور پرعورت کو وہ عزت نہیں دیتے جس کی وہ مستحق ہے۔ وہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر عورت ذہنی اور نفسیاتی طور پر ان سے بہتر ہے تو اس کو جسمانی طاقت سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ نے پوچھا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ سدِ باب کیا ہے؟

اس حل اور اس سدِ باب پر بھی ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

مختصر جواب یہ ہے کہ ہمیں لڑکوں کی اپنے خاندانوں اور سکولوں میں ایسی تربیت کرنا ہوگی کہ وہ لڑکیوں کی عزت کریں ان کا احترام کریں اور ان سے برابر کا سلوک کریں۔ انہیں اپنا دوست بنائیں۔ جب تک مرد عورت کو دوست نہیں بنائے گا۔ وہ اس کی رائے کا احترام کرنا نہیں سیکھے گا۔ مشرقی مرد عورت کو بیوی تو بنا لیتا ہے دوست نہیں۔

میرے افسانہ نگار دوست سعید انجم پاکستانی مردوں سے کہا کرتے تھے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا بیٹا بڑا ہوکر شہزادہ بنے تو اس کی ماں سے ملکہ جیسا سلوک کرو۔ اگر تم اسے کنیز بناؤ گے تو یاد رکھنا کنیزوں کے بیٹے شہزادے نہیں بنا کرتے۔

گل رحمٰن صاحبہ!

آپ جانتی ہیں کہ میں انسان دوست ہوں اور مردوں اور عورتوں دونوں کو پہلے انسان سمجھتا ہوں پھر کچھ اور۔ میری نگاہ میں ہر معاشرے میں مردوں اور عورتوں کو برابر کے حقوق اور مراعات ملنے چاہئییں۔

جہاں تک میری ذاتی زندگی کا تعلق ہے میں عورتوں کی عزت کرتا ہوں اور ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں۔ انہیں اپنا دوست سمجھتا ہوں اسی لیے آپ سے بھی دوستی ممکن ہوئی۔

آپ کا ادبی دوست

خالد سہیل

یکم ستمبر 2019

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 249 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail