خود نمائی کا دستر خوان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صلہ و ستائش کی تمنا کسی نہیں ہوتی! ایوارڈ اگر سرکاری سطح پر دیے جائیں تو لینے والوں کی لائن لگتی ہے۔ سفارش اقرباء پروری اور نا انصافی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ گزشتہ روز شان مظفرگڑھ کے نام سے ایک ایوارڈ کا اجراء کیا گیا۔ مظفرگڑھ کی وہ شخصیات جنہوں نے اپنے علم و کمال اور ہنر و فن سے اپنے ضلع کا نام روشن کیا۔ انہیں اس ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔

اس ایوارڈ کا سہرا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور کے سر جاتا ہے۔ وہ خود ایک عمدہ رائیٹر ہیں۔ ہم سب میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔ بجا طور پر وہ داد و ستائش کے قابل ہیں۔ مظفرگڑھ میں پہلی بار اس قسم کی تقریب کا ڈول ڈالا۔ چونکہ وہ باہر سے آئے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کون کون ایسی نابغہ روزگار شخصیات ہیں۔ جو اس ایوارڈ کے حقدار ہیں۔ انہوں نے حسب ضابطہ ایک کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے فائنل نام لکھ کر ان کے حوالے کر دیے۔

تقریب میں ضلع بھر سے 18 عظیم افراد کو نشان مظفرگڑھ ہلال مظفرگڑھ ستارہ مظفرگڑھ اور تمغہ مظفرگڑھ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ملک غلام مصطفی کھر، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، اداکار توقیر ناصر، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، میجر جنرل ریٹائرڈ ایم اشرف تبسم، ایم جلال الدین، ریسلر اظہر حسین، ناجیہ رسول اور معذور کرکٹر محمد فیاض شامل تھے۔

جبکہ چند اہم ایوارڈ بعد از وفات دیے گئے جن میں سردار کوڑا خان جتوئی، نواب زادہ نصر اللہ خان، سردار عبدالحمید خان دستی سابق وزیر اعلیٰ، سابق ڈی پی او ڈاکٹر اعجاز لنگڑیال شہید، میجر جہاں زیب شہید، پٹھانے خان، غلام حیدر یتیم جتوئی سرائیکی شاعر، کشفی ملتانی۔ اور باقی زندہ بچ جانے والے مشاہیر کرام خیر سے منہ دیکھتے رہے۔ جن کو یہ ایوارڈ ملے میری جانب سے بہت مبارک باد۔ جن کو نہیں ملے پیوستہ رہے شجر سے امید بہار رکھ۔

اب میں اصل مدعا کی طرف آتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں مذکورہ کمیٹی نے بہت اہم چہرے نظر انداز کیے۔ اور بہت سے اہم مشاہیر کو بلا ضرورت ایوارڈ تھما دیے گئے۔ جیسے ملک غلام مصطفی کھر، توقیر ناصر، سابق جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی، حنا ربانی کھر، نواب زادہ نصراللہ خان وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں مذکورہ بالا شخصیات ہمارے ضلع کی پہچان اور مان ہیں۔ عرض ہے کہ انہیں تو دنیا بھر میں عزت احترام اور بے شمار پاکستانی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے کہ اب ایسے ایوارڈوں سے وہ اپنے دامن بھر چکے ہیں۔ وہ تاریخ کے لافانی کرداروں میں اب ڈھل چکے ہیں۔ انہیں ایسے ایوارڈوں کی اب شاید ضرورت نہیں۔

انکے بجائے وہ لوگ جو ابھی تک کسی قابل ذکر ایوارڈ سے محروم ہیں اور مذکورہ بالا شخصیات سے قدرے جونیئر ہیں۔ انہیں یہ ایوارڈ ملتے تو زیادہ مناسب تھا۔ کشفی ملتانی اردو کے استاد الشعراء میں شمار ہوتے تھے۔ پھر ضلع کا پہلا ہفت روزہ ا خبار بشارت کا اجراء بھی ان کا کارنامہ ہے۔ وہ کسی اہم اور قابل ذکر ایوارڈ سے محروم چلے آئے تھے۔ انہیں ایوارڈ ملا بہت اچھا ہوا۔ کمیٹی نے نہایت احسن فیصلہ کیا۔

گلوکاری میں پٹھانے خان کو ایوارڈ ملا۔ وہ بھی پاکستان کے اعلیٰ ایوارڈ نقد کیش اور بہت کچھ اپنی زندگی میں وصول کر چکے تھے۔ سابق جسٹس جناب تصدق حسین جیلانی صاحب بھی مظفرگڑھ کے سپوت ہیں۔ وہ بھی زندگی بھر عزت توقیر صلہ و ستائش پاچکے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کیا پی ٹی وی نے توقیر ناصر کو کبھی نہیں سراہا؟ کیا حکومت پاکستان کا پرائیڈ آف پرفارمنس تمغہ امتیاز ان کی فنی خدمات کے لیے کافی نہیں تھا؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے یہ لافانی شخصیات مذکورہ سلیکشن کمیٹی سے کھلے دل اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے اور ایوارڈ سے معذرت کر لیتے اور وہ ایوارڈ کسی دوسرے کو دینے کی استدعا کرتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چلیں کوئی بات نہیں۔ لیکن باقی دوسروں کے لیے بھی مختلف کیٹگری بنائی جا سکتی تھی۔ یہ کوئی ایسا ناممکن کام نہیں تھا۔ اب اگلے سال کون جیے کون مرے۔ پھر شاید ہی یہ ایوارڈ سال بہ سال دیے جائیں؟

جناب ڈاکٹر احتشام انور صاحب ہمیشہ تو اس ضلع میں نہیں رہیں گے۔ ضروری نہیں کہ آنے والے بھی آپ کی طرح مشاہیر کرام کو وہ احترام و توقیر دیں۔ وہ ضلع خوش نصیب ہوتا ہے۔ جس کا ڈپٹی کمشنر علم ادب و ثقافت اور فنون لطیفہ کی ترویج و ترقی کے بند راستے کھول دے اور شہریوں کا دل جیت لے۔

اب مقصدِ تحریر کی طرف آتے ہیں۔ کیا معروف سماجی شخصیت رانا محبوب اختر کی ادبی ثقافتی خدمات نہیں تھیں؟ جو کئی دھائیوں سے کالم اور کتابیں لکھتے چلے آئے ہیں۔ وہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیر و سیاحت اور تحقیق کر کے کتابیں لکھتے ہیں۔ عالمی ادبی و ثقافتی لوگوں سے ملتے رہتے ہیں۔ کیا وہ اس دھرتی کے سپوت نہیں ہیں؟ کیا ڈاکٹر پروفیسر سجاد حیدر پرویز نے بیسوں کتابیں نہیں لکھیں؟ سرائیکی زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں جس نے اپنا خون جگر جلایا۔

خاتون مصنفہ دردانہ نوشین خان نے معرکتہ آلارا ناولز نہیں لکھے؟ کیا ایک غریب پرائمری سکول ٹیچر ارشاد العصر جعفری نے تنگ دستی میں بے شمار ناول اور سیرت پاک ﷺ لکھ کے وفاقی اور صوبائی حکومت سے صدارتی ایوارڈ وصول نہیں کیے؟ ضلعی حکومت نے کبھی اس کی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں کیا۔

کیا جمشید خاں دستی نے جو بری بھلی سیاست کی۔ تین بار ایم این اے بنا۔ اس نے مظفرگڑھ کا نام روشن نہیں کیا؟ کیا افضل چوہان کی کتابیوں نے ملک گیر شہرت نہیں حاصل کیں؟ کیا مخدوم غفور ستاری مرحوم کو ضلعی انتظامیہ نے کسی سرکاری اعزاز سے نوازا۔ جس نے اپنی پوری زندگی شعر و ادب اور صحافت میں گزار کے خامشی سے قبر میں جا سوئے۔

مظفرگڑھ کا پہلا روزنامہ اخبار کا سہرا اے بی مجاھد کے سر جاتا ہے۔ یہ کیا کم اعزاز ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی او ر عزت و ستائش کا کسی کو خیال نہیں آیا؟ کیا بابائے صحافت عبدالکریم خان اور ان کے ہونہار فرزند نامور صحافی عبدالسمیع خان اور عبداللطیف خان اور فخر صحافت اعجاز رسول بھٹہ کی صحافتی خدمات کسی سے کم ہیں؟

کشفی ملتانی برصغیر کے نامور شاعر اور صحافی تھے ان کا ایوارڈ بنتا تھا۔ لیکن آج سے چار دہائی قبل وہ وفات پا چکے تھے۔ ان کے بعد تو یہی لوگ صحافت کو اعلیٰ معیار پر لانے کی جد و جہد میں اپنی زندگیاں صرف کر چکے ہیں۔ کیا میاں ایوب قریشی آئی جی بلوچستان اور ان کے نامور برادرن ڈاکٹر تنویر قریشی، انجینئر شاہد جمیل قریشی وفاقی وزیر مواصلات اس شہر کے سپوت نہیں ہیں؟ کیا یہ مظفر گڑھ کی پہچان نہیں ہیں؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ رضا ٹوانہ، انور سعید انور، نعیم کاشف قریشی، عبدلمجید راہی، حکیم عبدلسلام اسعد، قاسم راز، تنویر شاہد محمد زئی جیسے استاد الشعراء کو کبھی سرکاری سر پرستی میں ایوارڈ ملیں گے یا انہیں صرف 23 مارچ اور 14 اگست کے سرکاری مشاعرے کا لالی پاپ حسب دستور ملتا رہے گا؟ کیا شہر کے تہذیبی چہرے امجد حمید خان دستی، اقبال حمید خان دستی، حافظ اکبر نقاش، شیخ خلیل احمد، زبید السلام شیروانی، میاں محمد حسین منا شیخ، مہر محمد ارشاد سیال، عبدالستار قمر، خان رازق نواز خان، خان واجد نواز خان، محترمہ ام کلثوم، محترمہ فاطمہ ثروت بخاری، کاشف آکاش، یاسین شہزاد، خیر محمد بدھ، نعیم احمد خان، یامین راہی، اعجاز رسول جھورڑ، سلیم نتکانی، توقیر ڈونہ، شیراز بشیر، ا جمل چانڈیہ وغیرہ کی خدمات کا کسی نے ادراک کیا؟

انجینئر عبدالکریم ملک نے منشور القران لکھ کے دنیا بھر میں عزت نیک نامی اور آخرت سنواری۔ کیا ہمارا فرض نہیں بنتا تھا۔ اس فرزند ارجمند کو ہم حوصلہ افزائی اور تعریف کے دو بول دیں۔ یقین کریں اس سے ہمارا اپنا ہی قد کاٹھ بڑا ہوتا۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ ایسے پروگرام کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ مستقبل میں میرٹ اور سکرونٹی کو مدنظر رکھ کے باقی لوگوں کو بھرپور حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے گا۔ بلکہ ایوارڈ کے ساتھ ایک مناسب کیش بھی دیا جائے۔ اگر ارباب اختیار میری بات سے متفق نہیں ہوتے تو ہم سمجھ جائیں گے۔ کہ یہ ایک خود نمائی کا دستر خوان تھا۔ جس میں طالب شہرت افرا د ندیدوں کی طرح شہرت پر ٹوٹ پڑے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •