سفاکی کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر صلاح الدین ایوبی نام کے ایک ملزم کی تھانے میں تشدد کے باعث موت، اس پر افسوس اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کسی بھی معاملے کو سب کی نگاہوں میں لانے کا اچھا ذریعہ ہے۔ کسی ملزم کو دوران تفتیش جان سے مار دیے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آخری واقعہ بھی نہیں ہوگا۔ اور تو اور سیاسی نوع کے ملزم بھی اس سے نہیں بچ پائے ہیں۔ حسن ناصر اور نذیر عباسی کو خبر اور سیاست کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ بھولے ہیں نہ بھول پائیں گے۔

وطن عزیز میں اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ایسے واقعات کی طرح یہ بھی انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے۔ البتہ مار دیے گئے شخص کو سوشل میڈیا پر مظلوم اور معصوم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ مظلوم تو وہ پاکستان کے کروڑوں عام لوگوں کی طرح تھا ہی مگر اس کا معصوم ہونا اس لیے مشکوک ہے کہ وہ اپنے اعمال چھپانے کی خاطر گونگا بن جایا کرتا تھا اور ذہنی طور پر معذور اس لیے نہیں کہ وہ گونگا بن کے خود کو بچانے کا ڈھنگ جانتا تھا۔ معصوم و معذور نہیں بھی تھا تب بھی تشدد کیا جانا اور اس قدر تشدد کیا جانا جس سے انسان کی موت واقع ہو جائے، مہذب و متمدن ملکوں کی پولیس کا وتیرہ نہیں ہو سکتا۔

تشدد کرنے کی نفسیات کا پہلا پرتو تو یہی ہے یعنی سماج کا مجموعی طور پر تہذیب اور تمدن سے عاری ہونا۔ جس سماج میں سیالکوٹ کے دو مشبہ نوجوانوں کو سب کے سامنے پیٹ پیٹ کر جان سے مار دیا جائے اور ان کی لاشیں شہر میں پھرا کر پھر کھمبوں سے الٹی لٹکا دی جائیں، جس سماج میں مرضی سے بیاہ کرنے والی لڑکی کو ہائی کورٹ کے احاطے میں ماں اور بھائی ہجوم کے سامنے اینٹیں مار مار کر مار دیں، جس سماج میں حال میں ہی کراچی جیسے بڑے شہر میں چودہ پندرہ برس کے لڑکے کو گرل سے باندھ کر، اس کی پتلون اتار کر لوگوں کے سامنے ڈنڈے مار مار کر جان لے لی جائے، سارے ہجوم میں صرف ایک شخص یہ کہے کہ سر پہ ڈنڈے مت مارو، یہ مر جائے گا یعنی مارو سہی مگر پیار سے، باقی ہر جگہ سارے مجمعے خاموش کھڑے انسانوں کو تشدد کے ذریعے ہلاک کر دیے جانے کا تماشا دیکھیں وہ سماج کسی طرح نہ تو متمدن و مہذب کہلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے باسی کسی بھی طرح باشعور۔ مجھے یہ سخت بات کہنے پر کسی طرح کی معذرت کیے جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

تو ایسے سماج میں اگر ہتھیاروں والے، بالا دست اور شہریوں کا تحٖفظ کرنے کے داعی اہلکاروں نے کسی ایسے شخص کو جس پر ملزم ہونے کا گمان تھا، بند عمارت کے اندر تشدد کرکے مار دیا تو کوئی حیرت نہیں کی جانی چاہیے۔ ملزموں پر تشدد کرنے کی وجوہات میں اذیت پسند ہونا، بالا دست ہونا، با اختیار ہونا، بازپرس سے مبرا ہونے کے ساتھ ساتھ نفرت، ناکامی اور نا اہلی بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ جس ملک میں سماجی اور سیاسی طور پر مقتدر یا با اختیار لوگ اپنے مخالفین کو چاہے ذاتی ہوں یا سیاسی، خود مقدمات میں ملوث کروا کے اپنے سامنے تشدد کرواتے ہوں، اس ملک میں شاید کوئی بھی پولیس اور دوسرے تفتیشی اداروں کو ایسا کرنے سے روکنے کے قابل نہ ہو۔

نفرت بھی بعض اوقات تشدد سے یا جعلی پولیس مقابلے میں ملزموں کی جان لینے کا موجب بن جاتی ہے کیونکہ کچھ ملزم بار بار بچ کے پولیس کی جان عذاب میں ڈال دیتے ہیں جن سے چھٹکارا پانا ان کی نجات ہوتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے ایک ڈاکو کو اسی نفرت کے تحت جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا کیونکہ وہ ڈاکہ مارنے کے ساتھ ساتھ جس گھر میں ڈاکہ مارتا اس گھر کی کنواری لڑکیوں تک سے جسنی زیادتی کرنے کا مرتکب ہوتا تھا۔

اگر کوئی ملزم بار بار بچ جاتا ہو اور پکڑا ہی نہ جاتا ہو، جو پولیس والوں کی ناکامی بھی ہوتی ہے اور ان کی نا اہلی کا اظہار بھی، جب وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو پولیس اس پر بے تحاشا تشدد کرتی ہے تاکہ اس کے کھاتے میں وہ جرائم بھی ڈال سکے جو اس نے نہیں کیے ہوتے، اس طرح کے جھوٹے مقدمات سے پولیس والے اپنے افسران کے سامنے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے میں کوشاں ہوتے ہیں۔

نا اہلی تو اس ادارے کا قومی نشان ہے۔ پولیس کے کمتر اہلکاروں میں پیشتر سپاہی اور حوالدار اور بہت سے اے ایس آئی، ایس آئی اور انسپکٹر حضرات، جو سپاہی سے اوپر جاتے ہیں، اذیت پسند ہوتے ہیں۔ نچلے طبقے اور بالعموم دیہاتی ماحول سے تعلق رکھنے کے سبب ان کا اپنے بیوی بچوں سے بھی رویہ جارحانہ ہوتا ہے۔ براہ راست جونیئر آفیسرز لیے جانے والے بھی عام ملزموں کی بے بسی دیکھتے ہوئے تشدد پرست ہو جاتے ہیں۔

تفتیش کے جدید طریقوں کا فقدان اور تفتیش کے طریقوں میں اصلاح سے صرف نظر، اہلکاروں کو جدید خطوط پر تربیت دیے جانے سے پہلو تہی ترقی پذیر ملکوں کی پولیس کو نوآبادکاروں کے عہد کے جابرانہ اعمال پر عمل درٓمد سے باندھے ہوئے ہیں۔ ہم نے بہت سے ایسے لوگوں کو پولیس کے اعلٰٰی عہدوں تک پہنچتے دیکھا ہے جو تعلیم کے دوران انتہائی انسان دوست اور مہذب و متمدن ہوا کرتے تھے جیسے چوہدری ارشد سعید، طارق کھوسہ، وسیم احمد، عبدالقدیر بھٹی اور دوسرے جو پولیس میں کوئی بھی تبدیلی نہ لا سکے۔ کچھ ویسے ہی بن گئے جیسے ان کے پیشرو تھے اور کچھ کسی نہ کسی طرح انٹیلیجنس کے ان شعبوں سے وابستہ ہو گئے جہاں تشدد براہ راست دیکھنے اور کرنے کو نہیں مل سکتا تھا۔

کسی ملک کا کوئی بھی شعبہ ہو وہ ملک کے دیگر شعبوں اور من حیث المجموع ملک میں موجود کلی معاشرے سے جڑا ہوتا ہے، یوں پولیس پورے معاشرے کا پرتو ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تشدد کے اپنے طریقے ہیں جو بظاہر تشدد نہیں دکھتے مگر ہوتے تشدد ہی ہیں چاہے ذہنی ہوں یا جسمانی۔ چنانچہ صرف پولیس کے شعبہ میں کسی بھلائی، کسی تبدیلی یا کسی ماہیت قلبی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ دس روز بعد سوشل میڈیا ہر کسی کو ملزم صلاح الدین ایوبی یاد نہیں رہے گا۔ کیا کسی کو قندیل بلوچ کا قتل اور ترکی کے سعودی قنصل خانے میں کاٹ کاٹ کے قتل کیے جانے والے صحافی کی یاد آتی ہے۔ نہیں نا، یوں ہم سب کے سب متشدد لوگ ہیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •