بی ایم کٹی: اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی ایم کٹی کے ذکر پر اوّل دل میں ایک گدگدی سی ہوتی ہے، اس کے بعد یادوں کی پٹاری کھل جاتی ہے۔  یہ زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔  کراچی یونیورسٹی میں ایک صاحب ہواکرتے تھے، یوسف مستی خان، گورے چٹے، موٹے تازے اور تھوڑے سے پراسرار، بی ایم کٹی کا جب بھی ذکر ہوتا، نہ جانے کیوں اُن کا سراپا نظر میں گھوم جاتا۔ برسوں بعد جب بی ایم کٹی کی تصویر دیکھی تو احساس ہوا کہ بعضے انسانی ذہن بھی غضب کرتا ہے، کہیں کی چیز کہیں جا ملاتا ہے۔

کہاں یوسف مستی خان جیسا سرخ و سفید گبھرو جوان اور کہاں پختہ عمر کے سنجیدہ مگرسوکھے سڑے، گہرے سانولے بلکہ کالے کلوٹے بی ایم کٹی۔ یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ بی ایم کٹی کو جب میں تھوڑا بہت جاننے لگا تو ایک اور بے جوڑ خیال نے ذہن میں جگہ بنائی۔ میاں طفیل محمد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کپور تھلہ(مشرقی پنجاب)سے نکلے تو سسرال سے دلہن لانے تھے لیکن پہنچ گئے جماعت اسلامی کے تاسیسی اجتماع میں، پھر وہ اس جماعت کے کچھ ایسے ہوئے کہ مثال نہیں ملتی۔

بی ایم کٹی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، وہ کیرالہ کی مٹی تھے، گھومنے پھرنے کے لیے پاکستان آئے، گھومے پھرے، بائیں بازو کی تحریک کا جائزہ لیا اور پھر یہیں کے ہو رہے، ایسے کہ اس سرزمین سے ان کی جدائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ میاں طفیل ایک جدید تعلیم یافتہ قانون دان تھے جن کا رہن سہن اور حلیہ مولانا مودودی کے پیرو کاروں سے زیادہ علی گڑھ کے جدید یت پسندوں جیسا تھا، سوٹ بوٹ اور نکٹائی پسند کرتے۔  ہر صبح اٹھ کر شیو بناتے اور عدالت میں جاکرانگریزی میں قانون کی تشریح کرتے لیکن چوں کہ دل میں کسی اور خیال کی جاگ لگی ہوئی تھی، اس لیے اور کچھ نہ سوجھا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر برصغیر کے کرشماتی خطیب مولانا عطا اللہ شاہ بخاری کے آستانے پر جا پہنچے۔

شاہ جی نے ان سے کہا کہ تمھارے مرض کا علاج میرے نہیں مودودی کے پاس ہے۔  میاں طفیل وہاں سے پلٹے تو مولانا مودودی کے ڈیرے پر پناہ لی، پھر وہ وہیں کے ہورہے۔  اب تاریخ بتاتی ہے کہ مولانا مودودی اگر اس جماعت کے بانی تھے تو میاں طفیل ان کے دست وباز و اور معمار تھے۔  میر غوث بخش بزنجو اور بی ایم کٹی کا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ بہت جلد اپنی اصل یعنی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے کٹ گئی۔ مطلب یہ کہ کچھ داخلی، بہت سے بیرونی عوامل اور سب سے بڑھ کر اپنی ہی پینک میں معاشرے میں خود کو بے گانہ بنا لینے کی روش نے اس کا کردار محدود کر دیا۔ ایسی کیفیت میں بی ایم کٹی جیسے لوگ کیا کرتے؟ وہ اپنے عہد کے آدرشی بزرگوں کی طرح تلاش کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔  ان کی یہ جدجہد اب تاریخ کی امانت ہے۔

یہ لوگ پارٹی پر پارٹی بناتے چلے گئے۔  عوامی لیگ، آزاد پاکستان پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی۔ کٹی صاحب ان میں سے ہر ایک کے رکن رکین ہی نہیں تھے بلکہ اِن کا کردار شہ دماغ اور بے غرض معمار کا تھا۔ یہ جماعتیں بھی اپنے اپنے عہد میں کچھ نہ کچھ کر کے یا ناکردہ کاری کا تمغہ سینے پر سجائے معدوم ہو گئیں یا دشمنوں کے ہاتھوں تاریخ کا رزق بن گئیں۔  بائیں بازو کے اس تاریخی المیے نے بی ایم کٹی جیسے محنت کشوں کی دہائیوں کی محنت کو خاک میں ملادیا۔  ایسے حادثات معمولی لوگوں کو زندہ درگور کردیتے ہیں لیکن پرعزم اور نظریاتی لوگوں کے لیے اس طرح کی صورت حال وقتی طور پر پریشانی توپیدا کرتی ہے لیکن مایوسی ان کچھ بگاڑ نہیں پاتی، بی ایم کٹی کا تجربہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

یہ عین ان ہی زمانوں کی بات ہے جب میر غوث بخش بزنجو بائیں بازو کی سیاست کے اس المیے پرگہری سوچ بچار میں مصروف تھے تاکہ ایک تاریخی جدجہد کو جوش و خروش کی تند آندھی میں گردو غبار بننے سے بچایا جاسکے۔  اس عمل میں بی ایم کٹی کی شمولیت نے چار چاند لگا دیے۔

بائیں بازو کی ایک بڑی اور موثر طاقت چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہے ہیں۔  بائیں بازو کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ کے بعض تحفظات، اس پر مستزاد ان قوم پرستوں کی ملک کے بعض دیگر علاقوں اور ان میں بسنے والی لسانی اکائیوں کے بارے میں تند خیالی یا یوں کہہ لیجیے کہ تاریخ کے جبر تلے دبے ہوئے ان علاقوں کے لوگوں کا اندازِ فکر۔ ایک تجزیہ یہ ہے کہ ان سب چیزوں نے مل جل کر بائیں بازو کی فکر کے فروغ کی راہیں مسدود کر دیں۔

ایم آر ڈی کا اجلاس: بی ایم کٹی انتہائی بائیں طرف

اس مشکل میں میر غوث بخش بزنجو نے بڑے آدمیوں کی طرح ایک نیا تخلیقی راستہ نکالا۔ ان کا انداز فکر یہ تھا کہ پاکستان اور اس میں بسنے والی لسانی اکائیوں کے مسائل کا حل نہ محدود قوم پرستی کی تنگنائے میں ہے اور نہ وفاق پاکستان کی کمزوری میں۔  بس، انھوں نے یہ سوچا اور پورے یقین کے ساتھ اس راہ پر چل دیے۔  بی ایم کٹی اس سفر میں ان کے سب سے مضبوط اور قابل اعتماد ساتھی تھے جن کے ساتھ وہ فکری معاملات اورسیاسی، حکمت عملی کے پیچیدہ امور پر نہایت بے تکلفی اور مکمل ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکتے تھے۔

 یوں ان بزرگوں نے نظریاتی سیاست کے ایک نئے اور شاندار سفر کی ابتدا کی۔ اس سفر کے دوران ان کے قدم ایوان اقتدار اور طاقت کی راہ داریوں تک بھی پہنچے اور جیل کی تنگ وتاریک کوٹھڑیاں بھی اِن کی راہ میں آئیں لیکن ان آزمائشوں کے دوران کوئی ایک مرحلہ بھی ایسا نہیں ہے جو ان کے عزم و ہمت اور ثابت قدمی کی گواہی نہ دے۔

بائیں بازو کی جس سیاست کی طرح بزنجو صاحب اور کٹی صاحب نے ڈالی، وہ اپنے عہد کی نظریاتی سیاست میں نہایت ممتاز اور باوقار اس لیے ہے کہ قوم پرستی کی زہریلی فضا میں یہ پہلی اور نمایاں مثال ہے جس میں میر غوث بزنجو جیسے فزندِزمیں و بلوچ قوم پرست اور بی ایم کٹی جیسے غیر فرزندِ زمین یعنی مہاجر کے درمیان ایک ایسے رشتے کی بنا پڑی جس نے تنگ نظری سے بلند ہوکر خالص جمہوری اور نظریاتی بنیادوں پرسیاست کی روایت قائم کی۔

آج بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سا رشتہ ہے جس نے میر حاصل بزنجوجیسے بلوچ قوم پرست اور میاں نواز شریف جیسے شہری پنجابی کے درمیان ایک پختہ سیاسی تعلق کو جنم دیا ہے۔  یہ دعویٰ بے جا نہ ہوگا کہ یہ ایک بلوچ اور مہاجر کے درمیان جنم لینے والے رشتے ہی کا فیضان ہے جس نے اب بلوچوں اور پنجابیوں کو بھی ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔  یہ واقعہ جدید پاکستانی سیاست میں ایک کرشمے کا درجہ رکھتا ہے جسے بزنجو صاحب کی راست فکری نے بنیاد فراہم کی۔  بی ایم کٹی اسی زندہ جاوید فکر کی سب سے مضبوط کڑی تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •