سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ


\"edit\"پاکستان نے بھارت کے اس دعویٰ کو مسترد کیا ہے کہ اس نے لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل اسٹرائک کرکے دہشت گردی کے لئے بھارتی زیر انتظام علاقے میں داخل ہونے کی تیاری کرنے والے ایک سیل کو تباہ کردیا ہے اور ہدف حاصل ہونے کے بعد یہ کارروائی اب ختم ہو چکی ہے۔ اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے دفتر تعلقات عامہ نے بتایا ہے کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر ماضی کی طرح بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ علی الصبح اڑھائی بجے شروع کیا گیا تھا جو صبح آٹھ بجے تک جاری رہا۔ اس بھارتی فائرنگ میں دو پاکستانی فوجی شہید ہوگئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھی اس فائرنگ کا جواب دیا گیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پار کرکے فوجی کارروائی کرنے کا بھارتی دعویٰ درست ہو یا غلط، دونوں صورتوں میں یہ ایک انتہائی خطرناک طرز عمل ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈالنے کا سبب بنے گا۔ گزشتہ دس روز کے دوران اوڑی حملہ کو بنیاد بنا کر بھارت کی طرف سے جو دعوے کئے گئے ہیں اور جس طرح میڈیا کے ساتھ مل کر جنگی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی کی گئی ہے، اس کے تناظر میں بھارتی حکومت کے لئے انتہائی صورت حال سے معمول کے رویہ کی طرف واپسی آسان کام نہیں ہے۔ تاہم جس قدر جلد یہ کام کرلیا جائے، دونوں ملکوں کی سلامتی اور خطے میں امن کے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

بھارت کی طرف سے پہلے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے اور افغانستان اور بنگلہ دیش کو ساتھ ملا کر بھارتی عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان کو تنہا کردیا گیا ہے۔ اور اب سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بھارت نے پاکستان سے اوڑی حملہ کا بدلہ لے لیا ہے۔ اگر بھارت جیسے بڑے ملک کی حکومت سیاسی مقاصد کے لئے فوجی ذرائع کو استعمال کرنے کا رویہ ترک نہیں کرے گی تو نہ چاہتے ہوئے بھی خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف واضح کرچکے ہیں کہ اگر بھارت نے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت اور شدید جواب دیا جائے گا۔ آج اس قسم کا حملہ کرنے کے دعوے کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بھی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا ہے۔ اور اس بات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ بھارت جھوٹ کا سہارا لے کر لائن آف کنٹرول پر کی جانے والی بلا اشتعال فائرنگ کو ’سرجیکل آپریشن‘ کا نام دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے نئی دہلی میں بھارت کی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع نے مل کر پریس کانفرنس منعقد کی تھی، جس میں بھارتی فوج کے ڈائیریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزلیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے سرجیکل اسٹرائک کرنے اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن وہ اس بیان میں یہ بتانے سے قاصر رہے کہ یہ حملہ کس علاقے میں کیا گیا تھا اور کس قسم کے یونٹ اس میں ملوث تھے۔ اس کی بجائے پاکستانی مارکنگ والے جی پی ایس اور دیگر آلات پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایک بھارتی جنرل نے اوڑی پر حملہ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ حملہ آوروں سے پاکستانی ہتھیار اور جی پی ایس برآمد ہوئے تھے۔ اس بیان کو بھارتی میڈیا نے پرپیگنڈا کے لئے استعمال کیا لیکن بھارتی حکومت نے اس جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے میڈیا پر فوج کے حوالے سے خبروں کی ترسیل پر پابندی لگادی تھی ۔ میڈیا کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایسی کسی خبر کو وزارت دفاع سے تصدیق کے بغیر نشر کرنے سے گریز کرے۔ لیکن اب ایک بار پھر جھوٹ کی بنیاد پر بعض دعوے کرنے کا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

بھارتی دعویٰ کے مقابلے میں پاکستانی فوج کی وضاحت ذیادہ قابل اعتبار اور مبنی بر حقیقت لگتی ہے۔ لیکن بھارت کی حکومت اشتعال انگیزی کی جو صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ، وہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر دیرپا منفی اثرات بھی مرتب کرے گی اور کسی ایسی خطرناک صورت حال کا سبب بھی بن سکتی ہے جو اچانک باہمی تصادم کا باعث بن جائے۔ نئی دہلی کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے قابل نہیں ہے۔ یہ جنگ شروع ہو گئی تو اس کے حجم اور شدت و تباہ کاری کے بارے میں کوئی اندازہ قائم کرنا مشکل ہو گا۔ امریکہ بھی بھارت کو تحمل سے کام لینے اور پاکستان کے خلاف جوش پر ہوش کو حاوی رکھنے کا مشورہ دے چکا ہے۔ تاہم بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف اپنے لوگوں کو اس قدر مشتعل کردیا ہے کہ توازن اور مصالحت کی بات کرنا یا سننا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ان حالات میں بھارت کی حکومت یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح اپنے عوام پر یہ ثابت کرسکے کہ اسے پاکستان پر برتری حاصل ہے اور وہ اوڑی حملہ کے بعد پاکستان سے فوجی اور سفارتی انتقام لے رہی ہے۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ نریندر مودی کی حکومت نے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد کوئی اقدام نہیں کیا۔ نئی دہلی کی پریس کانفرنس جس میں ایک فوجی جنرل کو سچائی کا گواہ بنا کر پیش کیا گیا تھا، اسی سیاسی مجبوری کی وجہ سے منعقد کی گئی ہے۔ لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ جلد یا بدیر اس کا بھانڈا پھوٹ ہی جاتا ہے۔

دنیا کے تمام ملکوں کے علاوہ اس پورے خطے میں آباد عوام کی بڑی اکثریت دونوں ملکوں کے درمیان جنگ سے بچنا چاہتی ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ ایسی جنگ انتہائی تباہ کن اور دوررس نتائج کی حامل ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود دونوں طرف سے ایک دوسرے کو خاک چٹوانے، تباہ کرنے اور جوہری ہتھیاروں سے جواب دینے جیسے اعلان کرکے، حالات کو مسلسل خرب کرنے میں کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ ایسا کرنا دونوں ملکوں کے لیڈروں کی مجبوری بن چکا ہے۔ اگر بھارت کی دھمکیوں اور بلند بانگ دعوؤں کے بعد پاکستان کی طرف سے مناسب بلکہ شدید جواب نہ دیا جائے تو پاکستان کی اپوزیشن اور بھارت دشمن لابی اسے حکومت کی ’غداری‘ سے تعبیر کرے گی۔ اسی طرح بھارتی لیڈر اگر کسی ثبوت کے بغیر اوڑی حملہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنے اور جنگ کی کیفیت پیدا کرنے کے بعد اب کوئی عملی کارروائی دکھائے بغیر خاموش ہو جائیں گے تو وہاں پر موجود شدت پسند گروہ اور پاکستان دشمن لابی اپنی حکومت کا جینا حرام کردے گی۔ اس کا سیاسی نقصان بھی ناقابل تلافی ہو گا۔

بھارت نے خود اپنے لئے ایک ایسی مشکل صورت حال پیدا کرلی ہے ، جس سے نکالنا مودی حکومت کے لئے ناممکن ہو چکا ہے۔ اس لئے کبھی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی بات ہوتی ہے، کبھی سارک کو ناکام بنانے کا اقدام سامنے آتا ہے اور کبھی پاکستان کے علاقے میں بھارتی فوج کی کارروائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کو چاہئے کی وہ اب ان ’اقدامات ‘ کو کافی سمجھے کیوں کہ جس قدر اشتعال پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، دونوں ملکوں میں جنگ کے دعویداروں کی قوت اور توقع میں اضافہ ہوگا۔ ایسی صورت میں یہ جنگی ہوس ہزاروں انسانوں کا خون پئے بغیر کم نہیں ہو گی۔ بھارت یا پاکستان کے شہروں میں جو لوگ ایک دوسرے کے ملکوں کے پرچم جلاتے ہیں، دوسرے ملک کے لیڈروں کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور حملہ کرکے دشمن کو سبق سکھانے کی بات کرتے ہیں، وہ اس جعلی جذباتی خیالی دنیا میں رہتے ہیں جو سیاسی قیادت کے گمراہ کن دعوؤں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو سوچنا ہے کہ کیا وہ اس قسم کے جنونی گروہوں کو اس خطے میں آباد ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے اور انہیں خطرے میں ڈالنے کا حق دے سکتے ہیں۔ کوئی بھی ہوشمند لیڈر اس قسم کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اب نعرے بازی کو ترک کرکے ہوشمندی سے کام لینے کی کوشش کی جائے تاکہ سڑکوں پر دشمن کو تہس نہس کرنے کے اعلان کرنے والے انتہا پسند اپنے گھروں کو جا سکیں اور حکومتیں مناسب طریقے سے اختلافات دور کرنے اور مسائل حل کرنے کا کام شروع کرسکیں۔ جب تک نئی دہلی یا اسلام آباد نعرہ زن لابیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے، باہمی مسائل کو نہ تو سمجھا جا سکے گا اور نہ ہی ان کا حل تلاش کیا جا سکے گا۔

پاکستان اور بھارت ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک ہیں۔ دونوں جوہری آلات اور ٹیکنالوجی فروخت کرنے والے گروپ این ایس جی NSG میں شامل ہونے کے خواہشمند بھی ہیں۔ اس گروپ کے تمام ارکان خواہ وہ جوہری ہتھیار بنا چکے ہیں یا نہیں، جوہری عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ یعنی وہ جوہری ہتھیاروں کو انسانیت کے لئے مہلک سمجھتے ہیں اور انہیں مکمل طور سے ختم نہیں تو ان کی تعداد میں بہت ذیادہ کمی کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک ایسے گروپ میں شمولیت کے خواہشمند دو ملک بھارت اور پاکستان ایک طرف جوہری ہتھیاروں کی حفاظت اور ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری طرف جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کو ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بنانے کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ واضح کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ذمہ داری اور بردباری کی اس سطح کو پہنچنے میں ناکام ہیں جو ایٹمی صلاحیت کے حامل کسی ملک کے لئے لازم ہے۔ ایٹمی ہتھیا ر رکھنے والے ملک آپس میں جنگ کرنے کی بات نہیں کرتے۔ اور اختلاف کی صورت میں بھی براہ راست مسلح تصادم سے گریز کرتے ہیں۔ آخر پاکستان اور بھارت کے رہنما کب اس طرز عمل کو سیکھ سکیں گے۔ دونوں ملکوں کے جو شہری ایٹم بم مار کر دشمن کو تباہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں، انہیں ان ہتھیاروں کی تباہ کاری اور ہلاکت کا علم نہیں ہے۔ لیکن اسلام آباد اور نئی دہلی کے فیصلہ سازوں کو تو اس قیامت کا اندازہ ہونا چاہئے جو جوہری تصادم کی صورت میں برپا ہو سکتی ہے۔ کیا وہ اپنے لوگوں کو اس تباہی کی طرف دھکیلنے کا حوصلہ کر سکتے ہیں۔ کیا وہ جانتے ہیں کہ ایسا ہلاکت خیز فیصلہ کرنے والے لیڈر کو تاریخ کن لفظوں میں یاد کرے گی۔

اب وقت آگیا ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کی بجائے حالات کو نارمل کرنے کے لئے اقدام شروع کریں۔ دونوں ملکوں میں حالات اس قدر انگیخت کردئے گئے ہیں کہ متوازن اور معقول بات کرنے والے خود پر غداری کا الزام لگنے کا خطرہ مول لے کر جنگی جنون ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ میڈیا کسی حد تک ریٹنگ کے چکر میں بھی انتہا پسندانہ مزاج کو فروغ دیتا ہے لیکن اب تو ایسی صورت حال پیدا کردی گئی ہے کہ متوازن سوچ رکھنے والے صحافی بھی یک طرفہ بات کرنے اور اپنے ملک کو مظلوم اور حق پر قرار دے کر دلیل کا آغاز کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ رویہ صرف بھارت اور پاکستان میں جنگی جنون میں مبتلا گروہوں کی قوت اور تعداد میں اضافہ ہی نہیں کرے گا بلکہ دونوں ملکوں میں جمہوری اقدار اور قوت برداشت کے رویہ کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔ بھارت میں ہندو اور پاکستان میں مسلمان انتہا پسند گروہ پہلے ہی اقلیتوں کا جینا حرام کرنے پر تلے رہتے ہیں، اگر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں انہیں مزید توانا کیا گیا تو دونوں ملکوں کے معاشرے تباہ کن شکست و ریخت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں اگر پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی بہبود نہ بھی چاہتے ہوں تو بھی انہیں اپنے لوگوں کی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی کے نقطہ نظر سے حالات کا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اس وقت تو یہ صورت حال ہے کہ بھارت ، پاکستان کا پانی بند کرنے کی بات کرتا ہے تو پاکستان کی طرف سے اسے اعلان جنگ قرار دے کر خطرناک نتائج کی دھمکی دی جاتی ہے۔ بھارت دہشت گردی کے الزام عائد کرکے پاکستان کو کمزور اور بدنام کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ کمزور اور تنہا کیا ہؤا ملک ذیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں وہ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہو جائے گا۔ جو بات دنیا کے ہر شخص کو سمجھ آرہی ہے، وہ بات نئی دہلی اور اسلام آباد کے ذہین فطین فیصلہ ساز سمجھنے سے کیوں گریز کررہے ہیں۔ بھارت کو جان لینا چاہئے کہ سرحد پار دہشت گردی ہو یا کشمیر میں تشدد کے معاملات، وہ پاکستان کو مذاکرات کی میز پر لاکر ان مسائل سے ذیادہ احسن طریقے سے نمٹ سکتا ہے۔ پھر بھی نہ جانے کون سا مزاج ہے جو نئی دہلی کو بات چیت سے خوفزدہ کئے ہوئے ہے۔ اگر بھارت کی اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ پاکستان سے بعض عناصر بھارت جاکر دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں تو بھی پاکستان سے قربت اور دوستی اس مسئلہ کو حل کرنے میں آسانیاں پیدا کرسکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور الزام لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا تو کوئی بھی پاکستانی حکومت بھارت دشمن انتہا پسند عناصر کے خلاف اقدام کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گی۔

دونوں ملکوں کے رہنما جان لیں کہ اپنے عوام کے لئے امن اور خوشحالی کی ضمانت ان کا اپنا رویہ ہی ہو سکتا ہے۔ یہ مقصد نعرے لگانے، الزام عائد کرنے اور جنگ کی خواہش اور کوشش کرنے سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس لئے نہ سرجیکل اسٹرائک کی کوشش کریں ، نہ اس کا دعویٰ کریں۔ یہ راستہ مشکل اور ناقابل عبور ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali