جنت سے اک فوجی کا بیٹی کو خط


پیاری بیٹی!

\"zunairaامید کرتا ہوں تم اچھی ہو گی۔ جانتا ہوں ابھی رونے سے تمہاری آنکھیں سوجی ہوں گی۔ اس خط کو پڑھنے میں کچھ دن لگیں گے۔ میں کل لائن آف کنٹرول پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یا شہید ہو گیا، پتہ نہیں۔ لیکن یہ جانتا ہوں اب تمھارے ساتھ نہیں ہوں، ہمیشہ کے لئے۔ سوچ رہا ہوں میڈیا والے وہاں پہنچ گئے ہوں گے۔ کیا وہ مجھے ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں؟ دادا سے کہا ہو گا میری تصویر پکڑ کر بیٹھیں۔ کچھ پرانی یادیں تازہ کریں اور میرے مرنے پر فخر کریں۔ شاید کچھ ایسا ہوا ہو گا۔

پیاری بیٹی میں ٹھیک ہوں۔ آنکھ کھلی تو اک عجیب سی جگہ پر تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نہ \”ان دا مڈل آف نو ویر\”، بس ایسا ہی کچھ سمجھ لو۔ اور بھی بہت سے لوگ تھے کہہ رہے تھے کہ جنّت میں جانے سے پہلے کی کوئی جگہ ہے۔ جانتی ہو بیٹی میں نے اس کو دیکھا۔ وہ دوسری طرف والا فوجی۔ میں نے اس کو دیکھا اور اس نے مجھے دیکھا۔ ہم نے فوراً نظریں چرا لیں۔ لیکن اس ایک لمحے میں میں نے بہت کچھ دیکھا۔ میں نے اس کا خون میں ڈوبا یونیفارم دیکھا۔ شاید اس نے بھی میرا خون میں نہایا یونیفارم دیکھا۔ ہماری آنکھیں میں رقصاں موت نے بھی نظریں ملائیں اور شاید وہ طنزیہ مسکرائی بھی ہو۔

جانتی ہو وہ میرے ہی جیسا دِکھتا تھا۔ ہم نے بہت دیر ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملائیں۔ لیکن وہ بھی بہت اکیلا دِکھتا تھا، بالکل میری طرح۔ پھر مجھ سے رہا نہ گیا میں اس کی طرف گیا اور اس سے ہاتھ ملایا۔ جانتی ہو وہ میرے جیسا دکھتا تھا۔ میں نے بتایا نہ تم کو پہلے بھی۔ لیکن کیا کروں اتنا کچھ ایک جیسا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کے ہمارے یونیفارم محتلف تھے لیکن خون میں نہائے ایک جیسے ہی دِکھتے تھے۔ یہ کہنا مشکل تھا کے وہ دشمن کا فوجی تھا۔ ہم دونوں کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا یا پھر شاید ہم دونوں کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دیے۔ جانتی ہو نہ وہ ہنسی۔ وہ ہنسی جو تم اور تمہارا چھوٹا بھائی ہنستے ہیں جب میں تم دونوں کی صلح کرواتا ہوں اور تم دونوں دوستی کرنا چاہتے ہو لیکن انا بھی آڑے آ رہی ہوتی ہے۔ وہی بس وہی ہنسی۔ تو خیر میں نے اس کو تمہاری تصویر دکھائی۔ وہی تصویر جو میرے بٹوے میں رنگ بھرتی ہے۔ جانتی ہو اس کے پاس بھی ایک تصویر تھی۔ قریب تمہاری ہی عمر کا بیٹا تھا اس کا۔ اس کی آنکھوں میں بھی بہت سے رنگ تھے تمہاری آنکھوں کی طرح۔ میں جانتا ہوں مجھے اس پر غصہ کرنا چاہئے تھا۔ مجھے ناراض ہونا چاہئے تھا۔ آخر یہ اس اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے تھا کے میں اب تم سے دور تھا۔ لیکن سچ بتاؤں میری جان مجھے کوئی غصّہ نہیں آیا۔ میں نے کچھ محسوس نہیں کیا۔ نہ غصّہ، نہ اداسی، نہ خوشی اور نہ ہی کوئی انا۔ ہم بس بیٹھے رہے۔ ایک پر سکون خاموشی میں۔ جانتی ہو بٹیا آپ لوگوں کو سالوں سے جانتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ایک پرسکون خامشی کا وقت نہیں گزار سکتے۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ انسان خاموش بیٹھا بھی بہت آرام دہ محسوس کرتا ہے۔ اور کتنی عجیب بات ہے۔ میں وہاں بیٹھا تھا۔ دشمن کے فوجی کے ساتھ۔ اور میں آرام سے تھا۔ ہاں خاموشی لیکن آرام دہ۔

\"soldier\"کچھ وقت کے بعد ہمارا نام بلایا گیا۔ ہم وہاں پہنچے۔ اس دروازے پر جس کے پیچھے شاید جنّت تھی۔ جھروکے سے ایسا لگا جیسے ہماری دنیا جیسی ہی جگہ ہے۔ عجیب بات ہے نا؟ میں نے وہاں پوچھا \”کیا یہ دنیا جیسی ہی ہے؟\” اور جانتی ہو کیا جواب ملا۔ وہ جو وہاں رکھوالا تھا نا اس نے کہا \”ہاں یہ دنیا ہی ہے، بس یہ نفرت سے پاک دنیا ہے۔\” میں ہنس دیا۔ مجھے پوچھنا تھا، بٹیا جانتی ہو نا مجھے پوچھنا تھا۔ کیوں کہ میں تمہیں چھوڑ کر یہاں آیا ہوں۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا۔ \” اگر یہ جنت ہے تو بتاؤ کہ جہنم کیسی دکھتی ہے؟ جانتی ہو اس نے کیا کہا؟ اس نے مجھے بہت دیر تک پرسوچ نگاہوں سے دیکھا۔ ایسے جیسے میں تمہیں دیکھتا تھا جب تم معصومیت بھرے سوال کرتی تھی۔ تو اس نے مجھے ایسے ہی کچھ دیر تک دیکھا اور جانتی ہو اس نے کیا کہا؟ اس نے کہا \”تو تمہیں کیا لگتا ہے تم کہاں سے یہاں آئے ہو؟\” اب اس سے تو میں اور میرا دوست اختلاف نہیں کر سکتے تھے نا۔ تو ہم دونوں چل دیے۔ ہم نے اس دروازے سے قدم آگے بڑھا دیے۔ اکٹھے! مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ میں تمہیں چھوڑ آیا ہوں، ہمیشہ کے لئے۔ دوبارہ لکھوں گا۔ بہادر رہنا میری جان، میری بیٹی۔

تمہارے بابا

Facebook Comments HS