جواب آں غزل۔۔۔۔ جمعیت کی پارسائی اور معصومیت؟ (2)


\"moqaddus11۔ رہی بات طلباء تنظیموں کی بحالی کی تو اس سلسلے میں میں پھر ’’رولنگ آرمی ‘‘ نامی کتاب کا حوالہ دوں گا جس میں آپ کی کارکردگی بڑے اچھے طریقے سے بیان کی گئ ہے، مگر میرے جیسے اور مجھ سے بڑوں نے تو ضیاء کا سیاہ دور خود بھی بڑی گہرائی سےبچشمِ خود دیکھاہے۔ وہی ضیاء، جسے سب سے زیادہ خوش آمدید کہنے والے نو ستارے تھے اور ان نوستاروں میں جماعت اسلامی بھی پیش پیش تھی۔ تو جناب آپ کی تحریک، طلباء یونین کی بحالی کے لیے نہیں بلکہ اپنے قبضے کے کو برقرار رکھنے کی کوشش تھی خواہ اس کے لیے آپ کو چند انسان بھی، قربان کرنا پڑیں۔ تو دریغ نہیں کریں گے۔ کیونکہ جس دن اگر پنجاب یونیورسٹی بھی ہاتھ سے نکل گئی تو پھرمخصوص قسم کے شاہ دولے شاہ کے چوہے کہاں سے بنیں گے اور پھر ہم نے دیکھا کہ ضیاء کے دور میں جب جماعت اسلامی، ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کی مجلس شوریٰ میں شامل ہوگئی تو جمعیت کا پنجاب یونیورسٹی پر ان نورا کشتی کے باوجود قبضہ مضبوط تر ہوتا گیا۔

12۔ جس آخری یونین الیکشن کا ڈیٹا، ساجد سلطان صاحب نے شئیر کیا ہے، اس کا تجزیہ شعبہ جات کے لحاظ سے کرنے کی ضرورت ہے۔ کہ کس شعبہ تدریس سے انہیں زیادہ پزیرائی ملی اور کہاں سے نہیں، تو پھر وہی بات کہ لاء، کامرس، آئی ای آر سے زیادہ ووٹ اور باقی شعبہ جات میں پی ایس ایف نے کافی مقابلہ کیا۔ پھر انفرادی شعبہ جات کے الیکشن میں بھی جمعیت مخالف طلباء فتح سے ہمکنار ہوئے۔ پھر کئی ڈیپارٹمنٹ کے غیر جماعتی عہدداروں کو زبردستی جمعیت میں شامل کرلیا گیا۔ ان میں ہمار ا شعبہ بھی شامل تھا۔ اور سلطان صاحب کا یہ چیلنج کہ کوئی جماعت یا مل کر ساری جماعتیں بھی شائد ان کا مقابلہ نہ کرسکتیں۔ قبلہ اتنا غروربھی مت کیجیے گا۔ سیر کو سوا سیر مل جاتا ہے۔ کراچی میں آپ کا صفایا ہوا ہے تو یہاں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے اندر ہمت، حوصلہ اور قوت برداشت کا ذرا سا بھی مادہ ہے تو باقی طلباء تنظیموں کو بھی پنجاب یونیورسٹی میں کھلے دل سےخوش آمدید تو کہیں پھر دیکھیں یونیورسٹی کی فضا چند مہینوں میں ہی کیسے بدلتی ہے۔ اسی ضمن میں پھر اس سوال کا جواب مانگ رہا ہوں کہ کہ جمعیت کس حیثیت سے اپنے اجتماع، یونیورسٹی کی حدود میں کرتی ہے۔

13۔ رہی بات جماعت اسلامی کے جنرل الیکشن میں کارکردگی تو جناب سب جانتےہیں کہ جب بھی جماعت نے کوئی سیٹ لی ہے تو چور دروازے سےہی انہیں، خواہ حالیہ برسوں میں کراچی ایم کیوایم کے بائیکاٹ کی بدولت یا نواز لیگ سے اتحاد کرکے یا پھرکتاب کے انتخابی نشان کو قران قرار دے کر لوگوں کو مزہبی بلیک میل کرکے۔ یا آجکل تحریک انصاف کے سیاسی اتحاد کرکے۔ ورنہ جب بھی جماعت نے سولوفلایٹ کرنا چاہی ان کو ووٹ، چند سو سے زیادہ نہیں پڑتے۔ یہ چند سو ووٹ ان کے اپنے پکے کارکنوں کے ہوتےہیں۔ جس کا میں ان کو کریڈٹ دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لوں گا۔

 رہا سوال موچی نائی ترکھا ن کا، تو میرے بھائی میں نے وضاحت کردی تھی کہ میں موچی نائی ترکھان جیسے محنت کش طبقے کی دل وجان سے عزت کرتا ہوں۔ مجھے اعتراض ان سے ہے جو طاقت یا اقتدار میں آکر انسان کو انسان نہیں سمجھتے۔

14۔ اب یونیورسٹی کی تعلیمی کارکردگی پر آجائیں۔ کہ آپ کا کہنا کہ دوسری یونیورسٹیاں جہاں جمعیت نہیں ہے وہاں کون سے علم و تحقیق کی بڑی بڑی گتھیاں سلجھ رہی ہیں ؟ تو جناب، یونیورسٹی پر قبضہ جمعیت کا ہو یا ایم کیوایم کا، ان دونوں میں نظریاتی اختلاف تو ہوسکتا ہے مگراصل اغراض و مقاصد اپنے اپنے پیرائے میں مشترک ہی ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے علاقوں میں جامعات پر قبضہ برقرار رکھ کر، اپنے نظریات کےمطابق عوام کو چلانے کی کوشش کرنا۔

رہا سوال تعلیمی معیار کا ؟ تو سلطان بھائی ! ایم کیوایم تو کہیں بھی اپنی پارسائی اور تقوے کا دعویٰ نہیں کرتی جبکہ جمعیت اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار اور اصلی تے خالص دینی ماحول کی دعوے دار ہے۔ جس سے پتہ چلا کہ جمعیت، پنجاب یونیورسٹی میں جہاں اتنے عظیم اور آئیڈیل قسم کے مثالی انسان پیدا کررہی ہے تو یقیناً وہ عقل سلیم کے مالک بھی ہوں گے۔ اب اتنے عظیم مرتبے پر فائزافلاطون ثانی طلباء کی موجودگی میں تو یونیورسٹی کا معیار ِتعلیم، ھاورڈ، آکسفورڈ یونیورسٹی کے برابر نہ سہی، مگر ان کے کہیں قریب قریب تو ہونا چاہیے۔ کیا وجہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کا معیار اس حد تک پستی کا شکار ہے کہہ ابھی تک جمعیت کی اتنی عظیم انسانی سازی و خود سازی کے با وجود، دور دور تک قابل قدر تحقیقات یا کوئی نئی دریافتیں، ایجادات یا نظریات ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آ سکے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم اپنی فرسودہ روایات، متروک علم اورمخصوس طرز فکر سے، بجائے تخلیق کار پیدا کرنے کے صرف مستری ٹائپ پروفیشنل پیدا کررہے ہیں ؟

15۔ جہاں جمعیت نہیں ہے وہاں کے تعلیمی اداروں کا معیار، بہرحال قدرے بہتر ہے، حتیٰ کہ پنجاب یونیورسٹی کے ان شعبہ جات کی حالت بھی تسلی بخش ہوتی ہے جہاں جمعیت کے نظریات کے مخالف بھی، ابھی تک سانس لے رہے ہیں اور جہاں جمعیت کی دقیانوسی سوچ موجود نہیں ہوتی۔ مگر بات وہی ہے کہ دیگر جامعات، جمعیت کی طرح اپنے آپ کو فرشتہ اور عقل کےبلند درجہ پر فائز نہیں کرتے۔

16۔ اب یہا ں جو آپ نے جمعیت کے شہدا ء گنوانے شروع کردیئے ہیں تو پھر وہ پوسٹر اور وہ خبریں بھول گئے جو آپ کے خلاف این ایس ایف، پی ایس ایف سے لے کر ایم ایس ایف، انقلابی کونسل، آئی ایس او جیسی تنظیموں نے اپنے اپنے مارے جانے والےساتھیوں کی یاد میں لگائے یا اب تک لگا رہے ہیں۔ جن کو مختلف مواقع پر مبینہ طور پر جماعت کے غنڈوں نے مارا۔ اگر لسٹ لے آئیں گے تو کے۔ ای کے بخاری کو ٹارچر کرکےمارنے سے لے کر پولیس پر فائرنگ اور ھلاکتیں آپ کے کھاتے میں بھی ہیں۔ اور پھر اپنے ہی ناظم کا اپنے ہی سابقہ ناظم کا قتل وی سی کے کھاتے ڈالنا اور پھر اپنے مخالفین کو جہاد کے نام پر بہانے سے قبائلی علاقہ غیر میں لے جا کر قتل کرنا کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اور آپ نے اگر قتل وغارت کی تاریخ پر ہی آنا ہے تو پھر اس پر بھی الگ سے اوپن مکالمہ کرلیتے ہیں اور یقین کریں اس قتل و غارت میں آپ کا پلڑا ہی بھاری نکلے گا۔ جہاں تک 1994میں، ایس۔ ٹی۔ سی ھال کے احاطے میں چلتی بس سے ISO کی بس پر فائرنگ کا واقعہ ہے اس میں بھی آپ نے پھر دروغ گوئی سے کام لیا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ اہل تشیع طلباء کا سالانہ مذہبی اجتماع تھا جو کئی سالوں سے ہو رہا تھا۔ اس اجتماع کو روکنے کے لیے جمعیت نے اس پر ھلہ بولا تو فائرنگ اور جوابی فائرنگ سے پولیس کی موجودگی میں، چار افراد اپنی جان سے گئے۔ جس میں سوھدرہ کا رہنے والا جمعیت کا ناظم دیگر دو حملہ آور ایک یونیورسٹی ملازم بھی شامل تھا۔ آپ ذرا اس دور کےاخبارات میں جمعیت کا موقف ہی پڑھ لیتے آپ کی بات اور اس دور کے ناظمین کی بات میں تضاد نہ ہوتا کہ اس وقت جب ان سےپوچھا گیا کہ اہل تشیع کے مذہبی اجتماع میں ناظم جمعیت کیا لینے گئے تھے تو جمعیت کے اکابرین کا جواب دیا کہ دراصل اس مجلس پر جھگڑا سپاہ صحابہ اورآئی ایس او کے درمیان ہورہا تھا کہ جمعیت کے ناظم وہاں تصفیہ کروانے گئے کہ اسی دوران، ان پر مجلس کے شرکاء کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ جبکہ آئی ایس او کا موقف تھا کہ جمعیت کے ناظم کی قیادت میں نہ صرف پُرامن مجلس پردل آزار نعروں سے کے ساتھ پتھرائو کیا گیا بلکہ فائرنگ بھی کی گئ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعد میں جب آئی ایس او کے نامزد لڑکے تو گرفتا ر ہوگئے تو حملہ کرنے والی سپاہ صحابہ کدھر گئی؟ آئی ایس او نے تو اس وقت کہا کہ کسی سپاہ صحابہ نے حملہ نہ کیا تھا بلکہ یہ جمعیت ہی تھی یا دوسرے لفظوں میں جمعیت اور سپاہ صحابہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اور پھر بس سے ISOکی فائرنگ کی بات بھی خوب کہی پھر کہتا ہوں کہ کم از کم جمعیت کا پچھلا موقف ہی پڑھ لیتے۔

اگر بس سے فائرنگ ہوئی تھی تو فائرنگ کرنے والے کونسی بس پر تشریف لائے تھے؟ اور پھر یہ کہ اس بس کی فائرنگ سے کیسے پتہ چلا کہ یہ آئی ایس او کے طلباء ہیں۔ اور پھر یہ کہ انہوں نے فقط لان میں بیٹھے ہوئے افراد پر ہی فائرنگ کیوں کی ؟ لگتے ہاتھ باقی علاقوں میں بھی فائرنگ کردیتے؟پھر کیا یہ یونیورسٹی کی بس تھی یا آئی ایس او کی کوئی ذاتی بس اور پھرکیا پولیس وہاں موجود نہ تھی ؟ اگر تھی تو پولیس کی موجود گی میں اتنی بڑی بس کہاں فرار ہوگئی؟

اور دسمبر 2012 میں بھی اہل تشیع طلباء  کے مذہبی اجتماع پر دھاوا، جمعیت نے کس خوشی میں یا انتقام میں بولا؟ کہ کئی شرکاء کوتشدّد کا نشانہ بنا کر کئی افراد کو شدید زخمی کیا۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر اب بھی موجود ہے۔ اور اس خبر کوہم نے لائیو ایک نجی چینل پر بھی دیکھا۔

17- جہاں تک جمعیت کے کمرے سے شراب برآمد ہونے کا سوال ہے، وہ کیوں برامد ہوبھائی، بھلا اپنے آپ کو کون پکڑوائے گا مگر شراب ہوسٹلوں میں نہیں چلتی ہے اس سے بڑا جھوٹ اورکوئی نہ ہوگا۔ یہ جملہ بھی میں نے ایک پینے والے جماعتیے ہی سے سنا تھا کہ  Holy water comes in , truth comes outاور یہ بھی کہ ہم یہاں یعنی اس جہاں میں پئیں گے تو شراب طہورا کا مزا آئےگا ناں۔ جہاں تک میرا سوال ہے کہ میں نے شائد منافقت سے دن گزارے تو میرے بھائی جہاں جان کا خطرہ ہو وہاں بے ضرر خاموشی بہتر ہے اور میری طرح سب غیرجماعتیوں کا نظریہ بھی یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح اپنا سیشن گزارو اور یونیورسٹی چھوڑو ہم نے کون سی یہاں فصل لگانی ہے جبکہ جماعتیوں نے تو ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔ کون ان کے منہ لگتا پھرے۔

-18جی یہ بھی آپ نے ٹھیک فرمایا کہ ’’جمعیت کا ماضی تو کھلی کتاب اور قربانیوں کا روشن باب ہے۔ آپ لبرل لوگ یا جمعیت مخالفین اپنا بھی تو بتائیں کہ آپ کی کون سی پارٹی ہے اور اس نے کون سے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس ملک کے لیے؟ ‘‘

 قبلہ اگر قربانیوں سے آپ کی مراد اپنے مذموم نظریات کی خاطر غریب بچوں کو مروانا اور ان کی لاشوں کی سوداگری کرنا ہے تو اس سے لبرل کیا کوئی بھی ذی شعور انسان اس برات کا اظہارہی کرے گا۔ مگر آپ کیا یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کے نام نہاد مخصوص مائنڈ سیٹ کی بدولت ملک کو کیا ملا یا مل رہا ہے؟ سپاہ صحابہ، طالبان، القائدہ اور داعش جیسی بے گناہ انسانوں کی قاتل تنظیمیں ؟کیا آپ نے بازاروں، مزاروں، امام بارگاہوں، اسکولوں، پاک فوج کے تنصیبات پر خودکش حملوں کی کبھی کھل کر، اگر مگر کے بغیر، مذمت کی ہے؟ کاش آپ اپنا نظریہ دوسروں پر تھوپنے کی بجائے مودودی صاحب کے اس فرمان پر ہی عمل کرلیتے کہ بقول انکے ’’آپ کے جذبات، آپ کے اخلاق، آپ کا برتائو، آپ کے معاملات، آپ کا سلوک، آپ کی عادات اور آپ کے طور طریقے۔ ۔ ۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اگر لوگوں کو اسلام کی طرف متوجہ نہیں کررہیں، تو کسی منہ سے آپ کہتےہیں کہ آپ ’اسلامی انقلاب‘ کے داعی ہیں؟اب آپ مولانا مودودی کے اس فرمان کی روشنی میں ہی بتا دیجیے کہ آپ نے ملک کو کیا دیا ؟ سوائے کشت و خون کی داستان کے۔ اور ملک کو جہنم کی آگ میں جھونکنے کے؟

تم نے ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے ہیں

اب زمیں خوں اگلتی ہے تو شکوہ کیسا؟

 اگر آپ کا انقلاب اور نظریہ دھشت گردوں کی مادرانہ و پدرانہ سرپرستی ہے تو یہ آپ کو مبارک ہو۔ او ر ہماری جیسی سوچ کے حامل لوگوں نے اس ملک کو کیا دیا ؟ تو تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ ہم نے قائداعظم پاکستان بنانے والے سے لے کر بھٹو، بے نظیر، اکبربگٹی، باچا خان جیسے سیاستدان، عبدالستار ایدھی سے لے کر ڈاکٹر ادیب رضوی اور ملالہ جیسے گوہر نایاب، ڈاکٹر مبارک علی جیسے تاریخ دان اور ڈاکٹر مہدی حسن جیسے بابائے صحافت سے لے کر نئی تھیوریز دینے والے ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر ہود بائے جیسے سائنسدان دئیے ہیں، اس طرح گل جی، استاد اللہ بخش، سےکر صادقین تک، اور پھر کس کس ادیب و شاعر کا نام لوں، عبداللہ حسین یا یا فیض کا جنہوں نے بغیر کسی کا خون کئے صر ف ملک کی خدمت کی ہےاور علم و فن سے ہمیں سوچنے کی نئی نئی راہیں دکھائیں ہیں۔ اور ہم جمعیت کے شاہ دولے شاہ کے مخصوص سوچ کے سانچوں سے اپنے سر نکال کر انسانیت کی راہ پر چلنے کے قابل ہوسکے۔ دوسری طرف آپ جن لوگوں کی نظریاتی حمایت کرتے ہیں ان لوگوں نے آپ سمیت اس ملک کو سوائے تکفیری سوچ، مخالفین کو کافرو مرتد قرار دے کر نفرت، تنگ نظری اورتعصب کے سوا کیا دیا؟ یاور براہ مہربانی لبرل کے اپنے خود ساختہ معنی تراش کر انہیں اسلام سے خارج مت کیجیے بلکہ یہ پلے سے باندھ لیجیے کہ لبرل وہ ہوتا ہے جو بقول شخصے’’مذہب پر نہیں بلکہ آپ جیسے لوگوں کی مذہب پر خود ساختہ اجارہ داری پر حملہ کرتا ہے۔ وہ دین پر نہیں بلکہ آپ کے تصورِ دین کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ اسلام سے نہیں، آپ کے فہم اسلام سے انکار کرتا ہے۔

19- اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر معاشرے کی اقدار ہوتی ہے مگر آپ لوگوں نےاسے کنفیوز در کنفیوز کرکے تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کہ لوگوں کو پتہ نہیں چل پا رہا کہ یزید اور حسینؓ میں سے کون حق پر ہے۔ اور اب ہمارا معاشرے میں برتری کا معیار یہی رہ گیا ہے کہ کس کے کاندھے پر کتنی لاشیں ہیں؟ جتنی زیادہ لاشیں اتنی زیادہ کامیاب تنظیم، کم لاشیں، ناکام تنظیم

20-یہا ں آپ نے ٹھیک کہا کہ ’’اقدار ایسی ہونی چاہیں جن کو تمام طبقات اور رشتوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جا سکے آپ کے لیے قدریں اور ہوں اور میرے لیے اور، تو پھر معاشرے قائم نہیں رہ سکتے۔ ‘‘ تو قبلہ و کعبہ معاشرہ تو دور کی بات تمام طبقات اور رشتوں پر ایسی قدریں جو سب کےلیے یکساں طور پر نافذ کی جا سکیں اس پر کیا جمعیت کا فلٹر لگانا ضروری ہے؟ اگر نہیں تو اس پر عمل آپ پنجاب یونیورسٹی میں کیوں نہیں کرتے؟ کیوں خاص طرز فکر ہی یونیورسٹی پر نافذ کرنا چاہتے ہیں؟

 معاشرے کو اپنی نہیں دوسروں کی نظر سے بھی دیکھنے کا حوصلہ پیدا کیجیے۔ یاد رکھیے بقول آپ کے، آپ چند مٹھی بھر لبرلز کو رو رہے ہیں ذرا آنکھیں تو کھولیے اور دیکھیے کہ آپ کے قول و فعل میں تضادکی وجہ سے لبرل سوچ کی بجائے سرے سے دین کا ہی انکار کرکے الحاد کا رخ کر رہے ہیں۔ اور اس کے ذمہ دار آپ ہیں یقین نہ آئے تو فیس بک پر فی تھنکرز، جرات و تحقیق جیسی ویب سائیٹس اور فیس بک صفحات پر پر بھی نظر ڈال کر اپنا سر پیٹ لیجیے گا کہ ہم نئی نسل کے ساتھ کیسا سلوک کررہے ہیں کہ اسکا نتیجہ یہ نکل رہا ہے؟

21-سلیم صاحب سے شراب، نکاح طلاق، حج زکوۃ وغیرہ پر سوال ایسے ہی ہے جیسے کہ سلطان صاحب، سلیم صاحب کو اس وجہ سے کافر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انہوںنے جمعیت کے خلاف اپنا موقف بیان کرکے اور کچھ نہیں تو اپنا نکاح تو تڑوا ہی لیا ہے۔ اور ایمان بھی شائد خطرے میں ہی ہے لہذا جب تک سلیم صاحب، کسی جماعت اسلامی کے امیر یا جمعیت کےکسی پرہیز گارناظم سے تجدید ایمان نہیں کرواتے، انکا نہ صرف نکاح باطل رہے گا بلکہ وہ ارتداد کے درجے پر بھی فائز ہوسکتےہیں۔

 سلطان بھائی! سلیم صاحب کا موقف مجھے بڑا کلیر لگتا ہے کہ وہ مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں اور ہر کسی انسان کو کسی خاص مذہب یا فرقے جیسے سنی، وہابی، اہل حدیث، شیعہ، پرویزی، احمدی، غامدی وغیرہ کی نظر سے نہیں بلکہ اسے ایک فقط ایک انسان کی نظر سے ہی دیکھتےہیں۔

اب ہم نے حقائق پھر ایک دفعہ قارئین کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے۔ اگر کسی کو یہ فیصلہ کرنے میں دقت پیش آرہی ہو جمعیت کی وجہ سے جامعہ پنجاب ایک مثالی درس گاہ ہے جہاں آپ کے عظیم مقصد کی تکمیل ہوسکتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ آپ کا بیک گراونڈ جماعت اسلامی سے بھی نہیں ہے تو پھر پنجاب یونیورسٹی میں کچھ عرصہ اپنی سوچ کے مطابق ہوسٹل میں رہائش اور تعلیم حاصل کرکے دیکھ لیجیے گا۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ابھی تو چند متاثرین جمعیت نے اپنا اپنا احوال ’’ہم سب‘‘ میں بیان کیا ہے تو جمعیت کی طرف سےہاہا کار شروع ہوگئی ہے۔ اور انہوں نے مختلف طریقے سے اپنے آپ کو پوِتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چونکہ پاکستان کے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ اہم کسی بھی موڑ پر اپنی غلطی سے سیکھنے اور اصلاح کرنے کی بجائے، اس غلطی کی تاویل در تاویل کرکے اسے بلنڈر یا غلطان بنا کر رکھ دیتے ہیں۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ جمعیت نے پنجاب یونیورسٹی کو علم کے بہتے ہوئے شفاف پانی کے بجائے، اسے اپنے فرسودہ، دقیانوسی، اور شدت پسندانہ نظریات کو زبردستی مسلط کرکے اسے ایک متعفن جوہڑ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور جب تک اس جامع سے جمعیت نہیں نکالی جاتی علم کے جنازے کی سڑاند، شدت پسند اور دہشت گردی کی صورت میں معاشرے میں پھیلی رہے گی۔

Facebook Comments HS