جنگ صرف تباہ کرتی ہے


عمر اعظم

\"omar\"گزشتہ کچھ دِنوں سے الیکٹرانِک میڈیا اور سوشل میڈیا جنگ کی باتوں سے بھرا پڑا ہے۔ جنگ کیا ہوتی ہے؟ پاکستان اور ہندوستان کی نسلِ نو اِس سے نا آشنا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ دونوں طرف اچھے خاصے\” تجربہ کار\” لوگ بھی نہ صرف جنگ کے آئیڈیا کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ بڑے بے دھڑک ہو کر \”نیوکلئیر سٹرائیک\” کی بات تک کر دیتے ہیں۔ شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ جب دو ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو ہار جیت سے قطع نظر، دونوں کو بھاری نقصاں اُٹھانا پڑتا ہے۔ نہ صرف اِن ممالک کی \”یوُتھ\” جو کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جنگ کی بھٹی میں جھونک دی جاتی ہے بلکہ اُن کی آنے والی کئی نسلوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ جنگ کے بعد کے اندوہناک حالات نہیں سنبھال پائے۔ انیسویں صدی میں جرمنی کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے والے آٹو وان بسمارک کے الفاظ میں، \” وہ شخص کبھی جنگ کی تمنا نہیں کرے گا جس نے دورانِ جنگ کسی مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کا نظارہ کیا ہو\”۔
جنگوں میں افواج کا نقصان تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ عام شہریوں کو بھی بُری طرح متاثر کرتی ہے۔ جنگ ایک ایسی آگ ہے جو خاندانوں کے خاندان کھا جاتی ہے، اس کی لپٹوں سے عورتیں، بچے، بوڑھے کوئی نہیں بچ پاتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں میں عام لوگوں پر مصائب کا طوفاں اُمڈ آتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پہلی جنگِ عظیم میں مرنے والے \”بیس ملین\” لوگوں میں 70 لاکھ لوگ عام شہری تھے جبکہ ایک کروڑ سے زائد فوجی مارے گئے۔ یہ تب تک کا انسانی جانوں کا سب سے بڑا ضیاع تھا۔ لیکن اس قیامت خیز جنگ اور اس کے نتائج کے باوجود لالچ اور ہوس سے بھرے انسان کا جی نہیں بھرا تھا کہ جنگ عظیم دوم چھیڑ بیٹھا۔ یعنی جنگ عظیم اول کے صرف بیس سال بعد انسانی تاریخ کی سب سے بڑی خونریزی ہوئی۔ اپنے ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کو آگے لے جانے کی خاطر انسان انسانیت کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ آٹھ کروڑ لوگ جنگ کی نذر ہوئے لیکن اس بار عام شہریوں کو جنگ کی قیمت پچھلی بار سے بھی زیادہ چکانا پڑی۔ ان آٹھ کروڑ لوگوں میں پانچ کروڑ \’\’سولین\’\’ تھے۔ گولیوں، بمباروں اور توپوں کا نشانہ بننے والوں کے علاوہ زیادہ تعداد میں وہ لوگ تھے جنھیں جنگ کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں اور قحط سالی نے مارا تھا۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ساری عمر کے لئے اپاہج ہو گئی، لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی گئی، کروڑوں بچے یتیم ہوئے۔ ایک امریکی تاریخ دان کے مطابق \’\’جنگ کے بعد سکون صرف اُن لوگوں کا مقدر بنتا ہے جو مر چکے ہوتے ہیں\’\’۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد روس میں ہونے والی قحط سالی جس میں 50 لاکھ لوگ بھوک سے بلک بلک کر مر گئے، دوسری جنگِ عظیم میں مشرقی یورپ بالخصوص مشرقی جرمنی کا جو حال ہوا، سلطنتِ برطانیہ جس طرح ایک جزیرے تک محدود ہو کر رہ گئی، سوویت افغان جنگ میں جس طرح رُوس کی معیشت دیوالیہ ہوئی، اِن تمام واقعات سے \’\’Post War Consequences\’\’ کا انداز بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
رہ گئی بات ’’نیوکلئیر سٹرائیک‘‘ کی تو نیوکلئیر بم کوئی دیوالی یا شب برات کا بم پٹاخہ نہیں، یہ مکمل تباہی ہے۔ جب کسی جگہ پر گرتا ہے تو اس کے\’\’ ایپی سنٹر\’\’ کے کچھ کلومیٹر کے ریڈئس میں ہر چیز بھاپ بن کر اُڑ جاتی ہے، دھماکے کی شاک ویو اس قدر تیز ہوتی ہے کہ کئی کلومیٹر تک عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں، چند منٹوں میں لاکھوں لوگ اس کے غضب سے خاک ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کا سب سے تباہ کُن مرحلہ وہی تھرمل ریڈی ایشنز جو نہ صرف اُس وقت موجود لوگوں کو متاثر کر کے نہ صرف ان میں کینسر جیسی موذی بیماریاں پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کی آنے والی نسلیں تباہ کر دیتی ہیں۔ لہٰذا جنگ کی بات کرنے سے پہلے ان تمام پہلوؤں کو ذہن نشین کر لیں! امید ہے کہ آپ بھی جنگ سے پناہ ہی مانگیں گے۔

Facebook Comments HS