بہشتی دروازہ اور افکارِ بابا فرید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکپتن شریف، حضرت بابا فریدالدین مسعود گنجشکر کی درگاہ کی نسبت سے پوری دُنیا میں منفرد اور مقدس مقام رکھتا ہے۔ حضرت بابا فریدؒ برِصغیر پاک و ہند کے بہت بڑے ولی، دانشور اور صوفی شاعر تھے۔ سلسلہِ چشتیہ کے ایک بلند پایہ صوفی کے ساتھ ساتھ انسانیت کے بامِ عروج پر فائز ایک دُنیا دار شخصیت بھی تھے۔ انہیں پنجابی کا پہلا شاعر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ کے وصال کے بعد خواجہ نظام الدین اولیاؒ نے آپ کا مزار نہایت عقیدت سے پاکپتن میں تعمیر کروایا۔

اس مزار کے دو دروازے ہیں ایک مشرقی جانب جہاں سے عام دِنوں میں زائرین گزر کر بابا صاحب کی لحد تک پہنچتے ہیں۔ دوسرا دروازہ جنوبی جانب ہے جسے بہشتی دروازہ (بابِ جنت) بھی کہا جاتا ہے۔ اس دروازے کے بارے میں ایک بشارت ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے بچشمِ باطن حضورﷺ کو اس دروازے سے گزرتے دیکھا اور حضورﷺ نے ان سے کہا کہ ”اے نظام الدین اولیا آپ با آوازِ بلند یہ کہہ دیں کہ جو کوئی اس دروازے سے گزرے گا امان پائے گا۔ “

چنانچہ حضورﷺ کا یہ فرمان بہشتی دروازے پر ان الفاظ میں رقم ہے

”من داخل ہذا لباب امن“

(ترجمہ: داخل ہوا جو اس دروازے سے اس نے امان پائی)

اس ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیا ؒ نے مسجد کے مینار پر چڑھ کرلوگوں کو توجہ دلانے کے لئے تین مرتبہ تالی بجائی اور یہ ارشاد پڑھ کر سنایا۔ آپ کے اس عمل کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی بہشتی دروازہ کھولتے ہوئے تین مرتبہ تالی بجائی جاتی ہے۔

بہشتی دروازہ عرس کے دوران 5 محرم سے 9 محرم تک نمازِ عشاء تا نمازِ فجر کھولا جاتا ہے۔ جس سے لاکھوں زائرین گزرتے ہیں۔ 3 سے 4 کلو میٹر لمبی لائن میں کھڑے، چلتے اور دوڑتے بچے، بزرگ اور نوجوان عقیدت مندان کا مقصد اس دروازے سے گزرنے کی سعادت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تقریبًا ساری لائن ساہیوال روڈ سے گزرتی ہے اس لئے اس کے مشرق اور مغرب کی جانب شہر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ زائرین مشرقی جانب سے لائن میں داخل ہوتے ہیں مغربی جانب سے بہشتی دروازہ گزر کر درگاہ سے انخلاءکرتے ہیں۔

یہ زائرین نہایت سادہ لباس میں ملبوس، معصومیت سے بھر پور چہرے، آنکھوں میں عقیدت کا نور لئے محنت کش طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں

”اللہ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید، حق فرید یا فرید“ کے نعرے لگاتے رقص کرتے طویل لائن میں چلتے جاتے ہیں۔ راستے میں انہیں پولیس کی لاٹھیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور بھگدڑکے باعث بہت سے زخمی ہوتے ہیں اور ماضی قریب میں مارے بھی جا چکے ہیں۔

اس کے بر عکس شہر کے مشرقی جانب ایک وی وی آئی پی گیٹ ہے جو دربار سے چند میٹر کی مسافت پر ہے۔ سرکاری سطح پر وی آئی پیزکو بابِ جنت گزارکر روانگی تک کے لئے خصوصی پاسز کا اجراء کیا جاتا ہے۔ جس سے سیاستدان، سرکاری افسران، گدی نشینوں کے مہمان، وڈیرے، جاگیردار اور سرمایہ داروں کو اس دروازے تک آسان رسائی دی جاتی ہے۔ سلام سے قبل انہیں وی وی آئی پی لنگر کروایا جاتا ہے اور مختلف کیمپوں میں ان کی خاص تواضع کی جاتی ہے۔ جب وہ اس تواضع سے فارغ ہوتے ہیں تو بہشتی دروازہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ عام زائرین کی پھرتیلی لائن کو روک دیا جاتا ہے اور اس اشرافیہ کو اپنی مکمل عقیدت جھاڑنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ ہر وی وی آئی پی کو بابِ جنت تسلی سے چومنے کے بعد انہیں سلام کرنے اور فاتحہ خوانی کے لئے مزید وقت مہیا کیا جاتا ہے۔

جیسے ہی ایک پروٹوکول زدہ عقیدت کا خاتمہ ہوتا ہے تو یہ وی وی آئی پی صاحبان مشرقی دروازے سے نکل کر مزار کے احاطہ سے واپس درگاہ میں داخل ہو جاتے ہیں اور انسانوں کی بھیڑ نما لائن کو دوبارہ گھوڑوں کی طرح چلا دیا جاتا ہے۔ اور یہ حضرات اسی پروٹوکول کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ یعنی ایک طبقہ کو دروازے تک پہنچنے میں 3 سے 4 گھنٹے لگتے ہیں جس میں محنت بھی زیادہ ہے جبکہ دوسرا طبقہ 5 سے 10 منٹ میں نہایت آسانی کے ساتھ یہ دروازہ گزرتا ہے۔

بابافریدؒ کے افکار اس طبقاتی تفریق کے بالکل منافی ہیں۔ ان کا انسان دوستی کا پیغام آج بھی ان کی شاعری کی صورت زندہ ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے دور میں ہونے والے طبقاتی استحصال پر سوالات اٹھائے۔ بہشتی دروازہ کھولتے وقت رسمی قوال فارسی کلام ”ایں درِ ابنِ فلاں ابنِ فلاں چیزِ نیست“ آستانہ بابا فرید کے احاطہ میں چلتے چلتے پڑھتے ہیں اس فارسی کلام کا مفہوم ہی بابا فرید کی مساوات کی شعوری تعلیمات ہیں۔

عقیدت کی مد میں ان کے افکار کو پسِ پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ بہشتی دروازے کی رسائی تک کے اس سارے منظر نامے کی رُو سے جنت کے حصول میں ایک بہت بڑا طبقاتی امتیاز پایا جاتا ہے۔ جسے ہر ذی شعور شہری کی طرف سے حرفِ تنقید بھی بنایا جاتا ہے مگر روایتی افسر شاہی، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام نے اس عقیدت میں بھی ایک واضع تقسیم ڈال دی ہے۔ بہت سے زائرین پروٹول کی وجہ سے لائن میں دیر تک کھڑے رہنے کے باوجود اس دروازے سے نہیں گزر پاتے اور ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ اس پروٹوکول میں روکی گئی لائن میں بھگدڑ سے بہت سے عام شہری اپنی جان سے جاچُکے ہیں۔

بابا فریدؒ کے افکار تو اس طبقاتی تقسیم کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا اشلوک ہے

روٹی میری کاٹھ کی، لاون میری بھکھ

جنھاں کھادی چوپڑی گھنے سہن گے دکھ

اس شعر میں انہوں نے اپنی پہچان محنت کش طبقے سے کی ہے۔ محنت اور مشقت سے کمائے گئے رزق کی تعریف کی اور غریبوں کے استحصال سے کمائی گئی دولت کی مخالفت کی۔ یہ شعر جدید سرمایہ دارانہ نظام کے اصولوں کی مخالفت کرتا ہے جس میں ایک طبقہ دوسرے طبقہ کا استحصال کر کے ان کی حق تلفی کرتا ہے۔ مگربہشتی دروازہ سے گزرنے کے لئے بابا فرید سے عقیدت کے نام پر ان کے ان افکار کو فراموش کیا جاتا ہے اورعقیدت کے پیرائے میں بھی ایک عام عقیدت مند کا حق چھین کر ایک خاص عقیدت مند کو دیا جاتا ہے۔ جو ان کے پیغام اور افکار کے مترادف ہے۔

بابا جی ایک جگہ فرماتے ہیں

اکناں آٹا اگلا، اکناں ناہیں لون

اگے گئے سنجاپسن، چوٹاں کھادیاں کون

( ایک طرف رزق کی فراوانی ہے، ایک طرف رزق کی کمی ہے )

( یہ آگے جا کر پتہ چلے گا، کہ کسے اس کا نقصان چکانا پڑے گا)

اس شعر میں وہ طبقاتی سماج کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس میں انہوں نے دوسروں کا استحصال کرنے والوں کو مستقبل میں نقصانات بھرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ان کے نزدیک اپنی ذات کی نفی ہی بہترین نسخہ حیات ہے۔ ایک ولی، دانشور، شاعر اور عظیم رتبہ رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی ذات کی نفی کی۔ اور کسی بھی معاشی و معاشرتی رتبہ رکھنے کے باوجود سادگی، عاجزی اور انکساری کو پسند کیا۔ ان کا ایک شعر مجھے حد درجہ پسند ہے۔

فریدا میں نوں مار کے مُنج کر، نِکی کر کر کُٹ۔

بھرے خزانے رب دے جو چاہویں سو لُٹ

(فرید، اپنی میں (انا) کو مارو اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرو)

(اللہ کے خزانے بھرے ہیں جتنا لوٹ سکتے ہو لوٹ لو)

ایسے خیالات رکھنے والے عظیم انسان کے عقیدت مندوں کے ساتھ اتنا امتیازی سلوک کیوں؟ کیا ہی اچھا ہو اگر وی وی آئی پی بہشتی کلچر ختم کر دیا جائے تا کہ بابا فرید ؒ کے حقیقی عقیدت مندوں کی پہچان ہو سکے۔ ایسے عقیدت مندوں کے لئے بابا فرید کاہی ایک پیغام ہے

جے توں عقل لطیف، کالے لکھ نا لیکھ

آپنے گریوان میں سر نیواں کر ویکھ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •