سینما سکینڈل، وجوہات اور حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے مگر کچھ کا پتہ چلتا تھا اور کچھ دب کر رہ جاتے تھے، اخبارات کے بعد ٹی وی چینل اور اب سوشل میڈیانے جہاں بہت سے مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے میں کردار ادا کیاہے وہیں اس کا غلط استعمال بھی نئی نسل کو تباہی کی طرف لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ خاص طور پر اس بات سے عاری ایسے لکھاریوں کی چند سطور معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہیں جنہیں یہ احساس نہیں کہ الفاظ کا انسانی ذہن پرکتنا گہرا اثرپڑتا ہے اور اس سے بعض دفعہ مثبت سوچ بھی منفی بن جاتی ہے، پھرمعاملہ مزیدخطرناک تب ہو جاتاہے جب غلط کوصحیح کہنے والوں کے پاس من گھڑت دلائل بھی ہوتے ہیں۔

امپوریم مال لاہورمیں بنے سینما ہال کے مبینہ غیراخلاقی ویڈیوسکینڈل پرمیرا ویسے تو کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا مگر کچھ تحریریں سوشل میڈیا پر دیکھ کرلکھنے پرمجبورہوا۔ خاص طور پر ایک صاحب نے تو ایسے واقعات روکنے کا حل یہ بتایا کہ والدین بچوں کو اعتماد دیں، انہیں چونکہ ”پیار“ کرنے کے لیے مناسب جگہ دستیاب نہیں ہوتی اس لیے اپنے گھروں میں ہی یہ عمل ہنسی خوشی کرنے دیں تاکہ وہ معاشرے میں ذلیل نہ ہوں۔ یہ حل پڑھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ سوشل میڈیا کی ”برکت“ سے ہمارے پاس اپنی اگلی نسلوں کو تباہ کرنے کا کتناسامان دستیاب ہے۔

سب سے پہلے تو یہ معلوم ہوناچاہیے کہ بے راہ روی کوئی آج کے زمانے کی ایجاد نہیں، یہ ہرزمانے میں رہی ہے۔ اگر ایسا پہلے نہ ہوتا تو پھر اسلام میں زنا کی سزا مقرر نہ ہوتی، ہاں البتہ اس دور میں اس میں اضافہ ضرور ہواہے جس کی چندایک وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو انسان کو ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ قدرت نے اپنے بندوں کو بنا کردنیا میں ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا۔ اسے زندگی گزارنے اور اچھے برے کی بھی تمیز دی یعنی دو راہیں بتا دیں، ایک نیکی کی راہ اوردوسری برائی کی۔ دونوں کی سزا و جزا کا نظام بھی بنایاجس سے متعلق اپنی کتابوں اورانبیاءکرام کے ذریعے انسان تک آگاہی پہنچائی کہ اگراچھا کام کرو گے توپھر اس کا صلہ ملے گا اور اگر برا کیا توپھر سزاملے گی جس کے لیے ایک دن مقرر کیا تب تک انسان آزاد ہے جیسا کہ امتحانی سنٹرمیں بچہ سوالات کے جوابات اپنی تیاری کے حساب سے دیتاہے اور پھر نتائج کا انتظارکرتاہے اس کے بعد اسے فیل قراردیاجاتاہے یا پھر پاس ہوجاتاہے۔

سیدھی راہ کی نشاندہی ویسے تو عقل بھی کرتی ہے مگر انسان مسلمان ہے تو پھر کلام پاک میں سب کچھ بتایا گیاہے، صرف قرآن پاک پڑھنے اور اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کامقام تب ہوتاہے جب عقل کو استعمال نہیں کیاجاتا اور احکامات الہی سے رو گردانی کی جاتی ہے۔ دیکھاجائے تو ہم نے اپنے پاؤں پرخود ہی کلہاڑی ماری ہے۔

وہ معززتھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اورہم خوارہوئے تارک قرآں ہوکر

انسان کے بگڑنے یا سدھرنے کی شروعات تب ہی ہو جاتی ہیں جب وہ آنکھ کھولتاہے اور رفتہ رفتہ شرارتیں اورتوتلی زبان میں باتیں شروع کرتاہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے یعنی سکول میں باقاعدہ داخلے سے پہلے ہی اس کی پڑھائی شروع ہوجاتی ہے۔ اب یہ منحصر ہے اس درسگاہ پر کہ وہاں کیسامواد دستیاب ہے۔ بعض دفعہ یہ درسگاہ ویران ہوتی ہے یعنی کچھ والدین کو بچوں کی تربیت کاشعور نہیں ہوتا اور وہ صرف ان کی جسمانی نشو و نماکوہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، پھر بچے کامستقبل اس کے مقدر کے ساتھ جڑ جاتاہے۔ شعور نہ رکھنے والے والدین بھی اولاد کو برائی سے بچانے کے خواہش مند ہوتے اوران کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں مگر یہاں بات صرف دعاؤں سے بننے والی نہیں۔

کسی بھی گھر کا ماحول بچے کو بولنے سے پہلے ہی سکھاناشروع کردیتاہے، گھرمیں نماز پڑھنے والے لوگ ہوں گے تو بچے اسی عمل کو نقل کریں گے نتیجتاً بچے نمازی بن جائیں گے، قرآن پاک کی تلاوت کی آوازسنیں گے تو انہیں بھی اس کلام کو پڑھنے میں دلچسپی پیدا ہو گی۔ اگرگھرمیں ہروقت ٹی وی پرغیرمناسب پروگرام، بگاڑ پیدا کرنے والے ڈرامے اور خاص قسم کی فلمیں دیکھیں گے تو وہ بھی اس کا اثرلیں گے۔ پھربچہ بڑا ہوتاہے تو اسے اچھے برے کی تمیزسکھاناوالدین کی ذمہ داری ہے، انہیں یہ بتاناضروری ہے کہ اچھے کاموں کی اہمیت کیا ہے، انسانیت کیا ہے، رشتے کیا ہوتے ہیں، والدین اوربہن بھائیوں کا احترام اوراخلاقیات پر درس دینا ضروری ہے۔ا

نہیں بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ جو تمہاری بہن ہے اسی طرح کی لڑکیاں گھرسے باہربھی ہوتی ہیں، وہ بھی کسی کی بہنیں ہوتی ہیں، کسی کی عزت ہوتی ہیں لہذا ان کا احترام اور ان کے ساتھ تمیز سے بات کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے گھرکے افراد کے ساتھ کی جاتی ہے۔ ماں کی گود کی درس گاہ سے اچھے نمبرز لے کر بچہ سکول میں پہنچتاہے، بہت سی چیزوں میں اس کی بنیاد پہلے ہی بن چکی ہوتی ہے اب اساتذہ ان بنیادوں پر بچے کے مستقبل کی عمارت کھڑی کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔

سکول میں جانے کی عمرمیں بچے کا ذہن کھلتاجاتاہے اور وہ گھر میں حاصل کی گئی تعلیم وتربیت سے مزید آگے کی دنیادیکھتاہے۔ اسی دوران وہ سن بلوغت میں قدم رکھتاہے اور اس میں جنس مخالف کی طرف مائل ہونے کی حس جاگتی ہے۔ اب یہ مرحلہ بہت نازک ہوتاہے ایسے میں اساتذہ کو اس کی عمرکے حساب سے مناسب انداز میں رہنمائی دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اب اپنامستقبل بنا رہا ہے، اب اسے اچھا انسان بنناہے، یہ کام کرنے سے آپ نیکی کے راستے پر جاؤ گے اوریہ راستہ برائی کاہے، اس میں نقصان ہے، کسی کی عزت نہ کرنے سے اپنی عزت بھی نہیں رہتی، کسی کی بہن پربُری نظر رکھنے سے اپنی بہن کی عزت کی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی۔

مختصریہ ہے کہ استاد پر یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اسے اچھا انسان بنائے، اس دوران والدین بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوجاتے۔ بچوں کی مانیٹرنگ ان کی ذ٘مہ داری ہے انہیں یہ عادت ڈالیں کہ وہ صبح سے شام تک کی تمام روٹین آپ سے شیئرکریں۔ جب وہ سب کچھ بتانے کے عادی ہوں گے تو وہ آپ کو وہ کام بھی بتادیں گے جو ان کی نظرمیں برے نہیں ہوں گے مگرحقیقت میں وہ راستہ غلط ہوگا، یوں آپ بچے کی رہنمائی کر سکتے ہیں کہ بیٹا کہ یہ راستہ درست نہیں۔

پرانے وقتوں میں بچوں کے بالغ ہونے کے ساتھ ہی ان کی شادی کی فکر کی جاتی تھی اورانہیں ایک شریک حیات تک محدود کردیاجاتا تھا تاکہ وہ یکسوہوجائیں اوریوں وہ معاشرے میں عزت بھی پاتا اوربرائی کاسبب بھی نہیں بنتاتھا۔ اب چونکہ زمانہ جدیدہے اور والدین یہی شکوہ کرتے نظرآتے ہیں کہ بچے کہاں مانتے ہیں، اولاد کہاں انہیں اہمیت دیتی ہے، اپنی مرضی کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے خودکرسکتے ہیں، تو ایسے والدین سے گزارش ہے کہ بچے اب آپ کو اس لیے اہمیت نہیں دیتے کیوں کہ آپ نے ان کی ضرورت کے وقت انہیں اہمیت نہیں دی اور اب وہ سکون بے راہ روی میں تلاش کرتے ہیں۔

سینماسکینڈل بھی اسی کانتیجہ ہے جوغلطیاں ان افراد کے بڑوں نے کیں جیسا کہ اوپربیان کیاہے، اس سے پہلے بھی ایسے سکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ یہ سب بہت کچھ پہلے سے ہو رہا ہے اور ہر روزہوتاہے، ہوٹلوں میں، جوس کارنرزمیں، پارکوں میں، سیاحتی مقامات پر، فارم ہاؤسزپر، ایک کال، ایک میسج پربرائی مطلوبہ جگہ پر پہنچ جاتی ہے، اگرسوچنے کی ضرورت ہے تویہ ہے کہ اس برائی کو روکنا کیسے ہے۔

دوسرا پہلوسینما انتظامیہ اورسی سی ٹی وی کیمروں کے ذمہ داروں کی غیرذمہ داری ہے۔ یہ معاملہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ چونکہ معاشرے میں اچھائی برائی ہمیشہ سے ہی رہی ہے اورانسان جب کسی ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتاہے تووہ حتی الامکان کوشش کرتاہے کہ اسے کوئی دوسرا اس حالت میں نہ دیکھے۔ خدا بھی انسان کی برائی پر پردہ ڈالتاہے تاکہ وہ خوداحتسابی کرے اوراپنی غلطی پرمعافی مانگ کر سیدھے راستے پرچلے۔ جب خدا گناہوں کومعاف کرنے والا اور پردہ فرمانے والاہے تو پھرسی سی ٹی وی کیمرے سے یہ فوٹیج لے کرسوشل میڈیاپروائرل کرنے والاکتناغیرذمہ دارشخص ہے۔

اس کی یقیناً انکوائری ہونی چاہیے کیوں کہ ایسی جگہوں پرلڑکیاں لڑکے ہی نہیں، فیملیزبھی تفریح کے لیے جاتی ہیں جو یقیناًفرصت کے لمحات کویادگاربناتے ہیں، ایسی جگہیں اب فیملیزکے لیے بھی خطرناک مقامات کی شکل اختیارکرگئے ہیں۔

ایک طرف والدین، اساتذہ اورمعاشرے کے ذمہ دارشہریوں کوبے راہ روی روکنے کے لئے سرجوڑنے کی ضرورت ہے تودوسری طرف تفریحی مقامات پرسی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ کرنے والوں پربھی کڑی نظررکھنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •