خان صاحب اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا زیادہ پریشان ہو لیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں پچھلے سال انتخابات، مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی مکمل ہونے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد یعنی نومبر کے آخیر میں اسلام آباد گیا۔ اس بار سڑک کے ذریعے گھومتے پھرتے نئی حکومت اور تبدیلی کے بارے میں عوامی رائے اور تبدیلی کے ثمرات جاننے کی خواہش زیادہ تھی۔

خان صاحب کی وزیر اعظم بننے کے بعد پارلیمنٹ میں پہلی تقریر سنتے ہی مستقبل میں ان کی طرزِ حکمرانی کا تھوڑا بہت اندازہ لگا لیا تھا، لیکن پھر بھی ایک خواہش تھی کہ اللہ پاک رحم فرمائے اور میرے اندیشے غلط ثابت ہوں، خان صاحب جو سہانے خواب دکھا کر بلند و بانگ دعوے کر کے اقتدار میں آئے ہیں کہیں وہ سب سراب ثابت ہوئے تو عوام جس نے خوشگوار تبدیلی کو دیکھنے اور اس سے مستفید ہونے کے جو خواب آنکھوں میں سجائے ہیں وہ سب ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔

خان صاحب نے بسم اللّٰہ تو اچھی نہیں کی تھی مگر امید تھی کہ مختصر اچھے نیک نام ایماندار افراد پہ مشتمل کابینہ جب بنے گی، اور خان صاحب اپنے انتخابی نعروں اور وعدوں کی تکمیل کی جانب جب قدم اٹھانا شروع کریں گے تو یقیناً پاکستان میں سیاسی، معاشی بحران کا بھی خاتمہ ہوگا، ملک سے مہنگائی بیروزگاری، بدحالی بھی کم ہونا شروع ہو جائے گی، لوگوں کو چھت بھی فراہم ہونے لگے گی اور ملک استحکام، ترقی کی جانب چل پڑے گا۔ مگر خان صاحب نے جب کابینہ تشکیل دی، صوبہ پنجاب، خیبرپختونخواہ میں وزراء اعلیٰ اور کابینہ بننے کا عمل مکمل ہوا تو ایسا لگا جیسے کہیں کچھ ٹوٹ سا گیا ہو، وہ امیدیں وہ خواہشیں ٹوٹنا شروع ہوگئیں جو خان صاحب نے اپنے چاہنے والوں، ووٹروں، ہمدردوں اور قوم کو دلائی تھیں۔

جب میں حیدرآباد سے نکلا تو پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہی پہلا اسٹاپ صادق آباد میں قومی شاہراھ پہ میڈونلڈ کی ایک فرنچائز پہ کیا، وہاں ریسٹورنٹ میں موجود کچھ لوگوں سے نئی حکومت کی شروعات، اس کی کارکردگی اور ان کی خان صاحب سے وابستہ امیدوں اور آرزوؤں کے بارے میں حال احوال پوچھا تو دس میں نو لوگ ان سے اچھی امیدیں باندھے نظر آئے، وہ خان صاحب کی نیت ان کی امانتداری ملک و قوم کے لئے ان کے دل میں موجود درد اور ان کے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے نہ صرف پرامید نظر آئے بلکہ انہیں یقین تھا کہ خان صاحب قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔

اسی طرح لاہور سے اسلام آباد، پھر راولپنڈی، پشاور، مردان، مینگورہ، ہری پور، ایبٹ آباد، یہاں تک کہ کالام اور کاغان ناران میں بھی خان صاحب کے بارے میں عوامی تاثر پچانوے فیصد مثبت تھا اور لوگ ان سے اچھی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے ان کی اصلاحات اور عوامی بھلائی کے اقدامات کے منتظر تھے۔ ان ڈھائی ماہ میں ان کا طرزِ حکمرانی ان کے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق تو نہ تھا مگر کسی بھی نئی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے ڈھائی ماہ بہت کم ہوتے ہیں سو میں بھی باوجود خان صاحب کے حکومتی اقدامات اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نامناسب رویوں اور ان کی زبان جو کسی طور پہ بھی وزیراعظم کے شایانِ شان نہ تھی پر تحفظات کے یہ امید اب بھی لگائے ہوئے تھا کہ وہ نہ صرف اپنے رویوں میں بہتری لائیں گے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنی کارکردگی کو بھی عوامی امنگوں اور امیدوں کے مطابق بہتر سے بہتر کریں گے۔

خان صاحب نے پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر سے جو غلط ابتدا کی بدقسمتی سے وہ اس غلطی کو سدھارنے کے بجائے غلطی پہ غلطی بلکہ بلنڈر پہ بلنڈر کرتے گئے۔ میں نومبر کے بعد تواتر سے اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں کے چکر لگاتا رہا، عوامی آرا، خان صاحب کی طرزِ حکمرانی پر بڑی تیز رفتاری سے عوام کی ٹوٹتی امیدوں، خان صاحب کے حکومتی اقدامات سے پہلے حیران اور پھر تیزی سے پریشان ہوتی عوام، ان کے ہمدردوں اور ووٹروں کی ان کے بارے میں مثبت سے منفی ہوتی رائے کو دیکھتا اور اس کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کرتا رہا اور اس طرح ایک سال گزر گیا۔

اس گزرتے سال میں آسمان کو چھوتی خان صاحب کی مقبولیت بڑی تیزی سے زمین بوس ہوتی نظر آئی۔ ان کی دعوے وعدے سب ریت کے گھروندے ثابت ہوئے، وہ ایک کروڑ نوکریاں تو نہ دے سکے البتہ اب تک لاکھوں روزگار سے لگے ہوؤں کو بیروزگار ضرور کر گئے، وہ پچاس لاکھ گھر تو نہ بنا سکے مگر لاکھوں گھر مسمار ضرور کر گئے، وہ روپے کی قدر کم تو کیا پر مستحکم بھی نہ رکھ سکے بلکہ ایک سال میں روپے کی قدر میں تیس فیصد کمی ضرور کردی، اسلامی فلاحی اور مدینہ کی ریاست کا نمونہ دینے ملک سے سود سمیت غیر اسلامی لعنتیں دور کرنے کے وعدے کو تو پورا نہ کرسکے الٹا شرح سود سوا چھ فیصد سے ساڑھے تیرہ فیصد تک پہنچا کر ایک ہی سال میں اپنی مدینہ کی ریاست کے خواب کو چکناچور ضرور کر دیا۔

گزرے ایک سال میں ہزیمتوں، شرمندگیوں، ناکامیوں کے ایسے ایسے ریکارڈ فرشتہ صفت، ایماندار، امانتدار، خان صاحب نے قائم کیے جو آج تک ملک کے اقتدارِ اعلیٰ پہ ماضی میں فائز ہونے والے کسی چور ڈاکو نے بھی قائم نہیں کیے ہوں گے۔ اگر اپنے اس مختصر سے کالم میں اس جدید ریاست مدینہ کے حاکم کی کارگزاریوں کی تفصیل میں جائیں گے تو شاید صرف ایک سال کے کارنامے لکھنے کے لئے ہی پانچ سات قسطیں مزید لکھنے کی ضرورت پڑ جائے۔

خان صاحب اور ان کے رفقاء کار نے مرکز سمیت دو صوبوں میں جس طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا ہے اس نے پہلی بار پاکستان کی مڈل کلاس کو صرف ایک سال میں لوئر مڈل کلاس میں تبدیل کردیا ہے جبکہ پہلے سے ہی لوئر مڈل کلاس غربت کی نچلی سطح کو پہنچ چکی ہے اور غربت اور غریب طبقے میں اضافے کی شرح انتہائی تیز رفتاری سے بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی ہے۔ خان صاحب نے اپنی کہی ہوئی ہر بات کے بالکل الٹ عمل کیا، انہوں نے فرمایا کہ ملک کو ایسی ریاست بناؤں گا جہاں دودھ و شہد کی نہریں بہیں گی مگر بھوک و افلاس، مہنگائی و بیروزگاری، جھوٹ و منافقت اور اقربا پروری کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں۔

خان صاحب اس ایک سال میں پہلے دن سے صرف ایک ہی چُورن بیچ کر اور اس کا بے وقتی راگ الاپتے عوام اور ووٹروں کو لبھاتے نظر آئے کہ کسی چور کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کسی کو کھانے نہیں دوں گا کیونکہ یہ عوام کے پیسے ہیں کسی کے باپ کے نہیں۔ مگر چشم فلک نے دیکھا کہ کس طرح عوام کے ٹیکسوں کا عوام کا تین سو ارب روپیہ اپنے حلقۂ یاراں کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر بیکِ جنبشِ قلم ایک ہی جھٹکے میں معاف کردیا۔

قرضے معاف کرنے کے حوالے سے سے اگر پاکستان کی بہتر سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان بہتر سالوں میں کُل ملا کر 267 ارب کے قرضے معاف کیے گئے جبکہ یہ عظیم ترین اور قابلِ فخر ریکارڈ و اعزاز بھی ایماندار و فرشتے عمران خان صاحب کی نام لکھا جائے گا کہ انہوں نے ملک کے انتہائی غریب پسماندہ بھوک بدحالی سے تباہ حال طبقے کے چند افراد پر عوام کے ٹیکسوں کے واجب الادا تین سو ارب اپنے اباجان مرحوم و مغفور اکرام اللہ خان نیازی صاحب کا مال سمجھ کر معاف کر دیے ان کے اس اقدامِ عظیم پر سوائے سر دھننے اور سبحان اللہ کہنے کے اور کِیا کیا جا سکتا ہے۔

ابھی صرف ایک سال ہی گزرا ہے، خان صاحب کو محکمہ زراعت نے عوام کے ساتھ مل کر پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اب دیکھتے ہیں بقایا چار سالوں میں ملک میں کون کون سے ریکارڈ رہ گئے ہیں جو وہ اپنے نام کرتے ہیں یا پھر ایک کروڑ انہتر لاکھ ووٹ لینے والے وزیراعظم اقتدار سے بے دخلی کی کوئی اور ہی انوکھی مثال قائم کرتے ہیں، کیونکہ اس ایک سال میں ترقی کی شرح سے لے کر کاروبار، سیاست، ملکی و بین الاقوامی معاملات میں بے سمتی، مہنگائی اور بیروگاری سمیت ہر ملکی شعبے میں، ہر ملکی ادارے میں ابتری تنزلی اور بربادی کے ریکارڈ قائم کیے گئے ہیں، اب ہر دس میں دس لوگ خان صاحب اور ان کی طرزِ حکمرانی ان کی ریاست مدینہ پر گرجتے برستے نظر آ رہے ہیں اور اگر کچھ خاموش ہیں یا اب بھی ڈھٹائی سے ان کے قصیدے گانے میں لگے ہوئے تو وہ آٹے میں نمک کے برابر وہ لوگ ہیں جو تبدیلی کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنی تنخواہوں کو حلال کرنے میں جُتے ہوئے ہیں مگر ملک کے بائیس کروڑ عوام اللہ ربّ العزّت سے استغفار میں مصروف ہے کیوں کہ اللہ ربّ العالمین نے فرمایا ہے کہ ”جتنے بدتر تم خود ہو، تم سے بھی بدتر تم پہ حاکم مسلط کروں گا“ اللہ ربّ العزّت پاکستان اور پاکستانیوں کو مشکلات و مصائب و آلام سے نجات دلائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •