دیسی ریاست مدینہ کے گندے بھانڈے قلعی کرالو قرضے سارے معاف کرالو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دادی بتایا کرتی تھیں کے پہلے وقتوں میں پیتل کے اور تانبے کے برتنوں کو پالش کرانے والے گلی گلی آوازیں لگایا کرتے تھے کے بھانڈے قلعی کرالو برتن نئے چمکالو۔ اس قلعی گر کی تانیں سن کر خواتین میں جیسے کرنٹ دوڑ جایا کرتا تھا جلدی جلدی اس کے پاس اپنے پیتل اور تانبے کے برتن لے کر آجاتیں تھیں۔

اس کے بعد بھاؤ تاؤ کیے جاتے کبھی روپے پیسے سے، کبھی کوئی پرانا برتن تو کبھی گندم اور چنے بھی اس بھانڈے والے کی خدمات کی پیش نظر دیے جاتے تھے۔

کبھی کبھی ادھار بھی چل جایا کرتا تھا ہاں لیکن برتن چمک جایا کرتے تھے۔ کالے برتن چمک کر صاف برتن والے بھی خوش اور برتن صاف کرنے والے بھی خوش۔

ایسے ہی ہمارے حکمران جب بھی اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ کر حکومت کا تاج اپنے سر پر رکھتے ہیں ویسے ہی ان کو اپنی آنکھ کا شہتیر تنکا جبکہ دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی شہتیر نظر آنے لگتا ہے۔ یہی حال ریاست مدینہ بنانے والوں کا ہے جب اقتدار میں نہیں تھے تو سوال کیا کرتے تھے کہ یہ تمہارے باپ کا پیسہ ہے جو معاف کردیا۔

ہاں لیکن نجانے یہ تین سو ارب ضرور پتہ نہیں کس کے باپ کا پیسہ ہے جو معاف کیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ قرض پلک جھپکتے ہی محض ایک صدارتی آر ڈیننس سے معاف کردیا گیا ہے۔ یہ عام معافی ریاست مدینہ میں کسی عام آدمی کا مقدر نہیں بن سکی۔ اس کی قسمت میں تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے، بجلی گیس کے بڑے بڑے بل اور نت نئے ٹیکس ہیں۔

ہاں مگر بڑے صنعتکاروں، کھاد فیکٹریوں اور سی این جی مالکان کو یہ قرضے بغیر کسی فرانزک کے معاف کردیے گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ یہ قرضے معاف نہ کرتے تو معیشت کا پہیہ کیسے چلتا۔ جیسے پہلے تو ہماری معیثت ریس لگاکر دوڑتی پھررہی تھی۔

جب پرانے پاکستان کی کرپٹ اور نا اہل حکومتیں کسے سرمایہ کار جاگیردار کو نوازتی تھیں تو یہ ریاست مدینہ کے داعی اہل ترین چیخیں مارتے پھرتے تھے کہ کرپشن ہورہی ہے۔

لیکن اب عارف حبیب، حسین داؤد، جہانگیر ترین اور عبدالرزاق داؤد کو نوازنا تو عین انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جو رقم معاف کی گئی ہے اس رقم کو قومی خزانے میں جمع ہونا تھا تاکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ، ٹاپی منصوبہ اور توانائی کے کچھ منصوبے مکمل ہوجاتے۔ مگر بھاڑ میں جائیں یہ چوروں اور ڈاکوؤں کے ذہنی غلام آخر الیکشن انویسمنٹ بھی تو واپس کرنا ہیں۔

جیسے بھانڈے صاف کرنے والا قلعی گر پرانے اور کالے برتن کو آگ کی بھٹی پر رکھ کر شعلوں کی حدت سے برتن کو تپا کر سرخ کردیتا اور اس پر المونیم کلورائیڈ کے چھڑکاؤ کے بعد اس پرانے برتن کے میل کچیل صاف کرکے چمکادیتا ٹھیک اسی طرح ریاست مدینہ میں بھی پرانے کالے بھاری برتن صاف ہورہے ہیں طریقہ کار بھی وہی ہے۔

بس یہ ہے کہ ہر برتن کا وزن بہت زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی کسی کے باپ کے پیسوں جتنی دو سوآٹھ ارب روپے ہے بس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •