پاکستان بیت المال، ویمن ایمپاورمنٹ سنٹرز زندگیاں بدل رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سریاب روڈ کوئٹہ کی رہنے والی والی ماہ جبیں عالم ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو خاندان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کرسکیں۔ انھیں جب اپنے علاقے میں پاکستان بیت المال کے ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے وہاں مفت فنی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیاجس نے ان کے لئے مستقبل میں آگے بڑھنے کے مواقع پید اکر دیے۔ ماہ جبیں نے مذکورہ سنٹر میں فیشن ڈیزائننگ سے متعلقہ کورسز سیکھے اور اس شعبے میں عبور حاصل کیا۔

اس سب کے ساتھ وہ اپنے بیمار ماں باپ کی تیمار داری بھی کرتی رہیں۔ والدہ کی وفات کے بعد اپنے والد کی حوصلہ افزائی سے انھوں پاکستان بیت المال کے ویمن ایمپارمنٹ سنٹر سے حاصل کردہ مہارتوں کے بل بوتے پر گھر کے پاس اپنا ذاتی دستکاری سنٹر کھولا۔ گواس سنٹر کو کھولنے کے دوران ان کو مالی مشکلات پیش آئیں لیکن ان کے آہنی ارادے نے اسباب پیدا کر دیے۔ یہ سنٹر چل پڑا اور ان کے خاندان کی کفالت کے لئے معقول ذریعہ آمدن کا وسیلہ بن گیا۔

باپ کی وفات کے بعد بھائیوں کی پسماندہ سوچ آڑے آ گئی جنھوں نے اس پر سنٹر بند کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا اور بالآخر انھیں یہ سنٹر وقتی طور پر بند کرنا پڑا۔ ایک سال کی تگ و دو کے بعد ماہ جبین اپنے ماموں کی مدد سے بھائیوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ماہ جبین نے اپنے سنٹر کو ڈائریکٹوریٹ آف انڈسٹریز اینڈ کامرس بلوچستان سے رجسٹرڈ کروایا اور اس سنٹر میں خواتین کو ہنر مند بنانے کے لئے کئی ایک شعبوں کا دوبارہ آغاز کر دیا۔

وہ اپنے ادارے کی اب تک تین برانچز قائم کر چکی ہیں اور ایک ایسے علاقے میں جہاں خواتین کے آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہیں ماہ جبین نے ایک کامیاب بزنس وومین کے طور پر اپنی شناخت حاصل کی ہے جس کا سہرا پاکستان بیت المال کو جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جب کہ ان اداروں سے تربیت حاصل کرنے والی مختلف عمر کی ہزاروں خواتین آج اپنے پاؤں پہ کھڑی ہیں اوران ویمن ایمپاورمنٹ مراکز کی بدولت ہنر مندی کے جوہر دکھا کراپنے خاندان کی کفالت میں عملی مدد کر رہی ہیں۔

ان میں سے بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے فیس ب۔ ک کی ملازم بھی ہیں اور کئی ایک کمپیوٹر کورسز کرنے کے بعد آن لائن قرآن مجید پڑھانے کی سروسز فراہم کرر ہی ہیں۔ ان مراکز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زیادہ تر غریب اور پسماندہ علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں تاکہ غریب دیہی خواتین کو ہنر مند بنا کر انھیں اپنے خاندانوں کی مدد کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایک اچھے اور متوازن معاشرے کے قیام کے لئے خواتین کی تعلیم و تربیت مرد سے بھی زیادہ ْضروری ہے۔

خواتین کی خود مختاری اور تعلیم و تربیت کیونکر اہمیت رکھتی ہے اس حوالے سے مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کے ذرّیں الفاظ ہمارے لئے مینارہ نور ہیں۔ وہ فرماتے ہیں : ”ہمارے ہاں یوں ہوا کہ ہم نے اپنی عورتوں کو محکوم بنایا اور انھیں ذلیل سمجھا، اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی فضا محکومی اور ذلّت سے آلودہ ہو گئی ہے۔ ہم اس فضا میں سانس لیتے ہیں اور ہمارے بچے اسی میں پلتے ہیں۔ چنانچہ ہماری اس گھریلو زندگی کا اثر ہماری گھر سے باہر کی پوری زندگی پر پڑا اور جس طرح ہم نے گھر کے اندر اپنی عورتوں کو ذلیل اور محکوم سمجھا، اسی طرح ہم گھر کے باہر خود بھی ذہناً، طبعاً اور اخلاقی لحاظ سے محکوم اور ذلیل ہو گئے اور ہماری اولاد اس سانچے میں ڈھلتی چلی گئی۔“

 مولانا آگے جا کے فرماتے ہیں کہ ”سچ پوچھو تو ہماری موجودہ قومی پستی، جمود، بے ضمیری اور عدم ثبات و استقامت بہت حد تک ہماری اس گھریلو زندگی کی وجہ سے ہے۔ اب اگر ہمیں آزاد ہونا ہے اور اس دنیا میں اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے کی ہمت پیدا کرنا ہے تو ضرورت ہے کہ ہم اپنی عورتوں کے اندر عزّت نفس اور رفاقت کا شعور پیدا کریں۔ “

سماجی خدمات کی فراہمی میں پیش پیش وفاقی گورنمنٹ کے اہم ادارے پاکستان بیت المال نے پورے ملک میں اب تک 154 ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر قائم کیے ہیں اور موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال عون عباس بپی ان مراکز کی تعداد، اضافی سہولیات اوران مراکز کی افادیت میں مزید اضافے کے لئے بھر پور کاوشیں کر رہے ہیں۔ پچھلے روز ایک ایسے ہی ادارے کی افتتاحی تقریب میں مجھے شرکت کا موقع ملا جو اسلام آباد کے نواحی علاقے ڈھوک پراچہ میں قائم کیا گیا ہے۔

یہ علاقہ ممبر قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا حلقہ انتخاب بھی ہے۔ افتتاحی تقریب میں موجود اسد عمر اور اسلام آباد کی نمائندگی کرنے والے ممبرپاکستان بیت المال زاہد اکبر نے اس سنٹر کے قیام کے لئے خصوصی دلچسپی لی اور یوں اس علاقے کی دیرینہ ضرورت پوری ہوئی جبکہ ممبر پاکستان بیت المال بلوچستان کلثوم پانیزئی جو اس موقع پر موجود تھیں نے خواتین کو حوصلہ مند بنانے کے اس پروگرام کو سراہا۔ پاکستان بیت المال کے زیر انتظام اس وقت پنجاب میں 58، سندھ میں 32، کے پی کے میں 30، بلوچستان میں 21، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں 8 اور گلگت بلتستان میں 5 ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر میں اس وقت مجموعی طور پر 12372 خواتین ووکیشنل ٹریننگ سے متعلق مختلف مہارتیں حاصل کر رہی ہیں جبکہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ خواتین ان مراکز سے کامیاب ہو چکی ہیں۔

منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسل سروس فنڈ اور مائیکروسافٹ کے تعاون سے 122 مراکز میں جدید کمپیوٹر لیب تعمیر کی گئی ہیں جہاں ہر لیب میں بیس کمپیوٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز بیوہ، یتیم اور غریب عورتوں کو بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ ڈریس ڈیزائننگ، کشیدہ کاری، بیسک اینڈ ایڈوانسڈ کمپیوٹر کورسز، کھانا پکانے، بیوٹیشن کورس، ٹائی اینڈ ڈائی اور فیبرک پینٹنگ جیسی جدید پیشہ ورانہ مہارتوں سے بہرہ مند کر رہے ہیں۔

ایم ڈی پاکستان بیت المال ان مراکز میں سکھائے جانے والے کورسز میں جدت لانے اور ان کی کمرشل افادیت کو بڑھانے کے لئے پُر جوش ہیں۔ ان مراکز میں تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو حاضری کی بنیاد پر پچاس روپیہ روزانہ کے حساب سے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے اور کورس کی تکمیل کے بعد سرٹیفکیٹ کے علاوہ پاکستان بیت المال کاروبار کے آغاز کے لئے ضرورت پڑنے پر ان کو مناسب مدد بھی فراہم کرتا ہے۔ داخلہ لینے کی خواہشمند خواتین کی کثرت کی وجہ سے سنٹر میں دو شفٹیں رائج ہیں۔ علاوہ ازیں اساتذہ اور تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے لئے وقتا ً فوقتاً خصوصی تربیتی نشستوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہمیں اس احساس کمتری اور عمومی تاثر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں کُچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں بہت سے لوگ اور بہت سے ادارے بہت اچھا کام کر رہے ہیں جن میں پاکستان بیت المال سرفہرست ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اور دانشور طبقہ اچھے کاموں کی تشہیر میں بُخل سے کام لیتا ہے اور یوں معاشرے میں بددلی اور نا امیدی پھیلتی ہے۔ ہمیں ہر معاملے میں بال کی کھال اتارنے کی عادت ہے۔ آج سوشل میڈیا ایک بہت بڑی قوت ہے۔

کیا ہی اچھا ہو اگر تعمیری سوچ کے ساتھ پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے حکومت کا دست بازو بنا جائے۔ اچھے اقدامات کو سراہا جائے اور غلط اقدامات کا محاسبہ کیا جائے، نہ کہ اسے ہمیشہ محض تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ عوام حکومت سے باہر نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی نہ کسی صورت اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ حقیقی تبدیلی کے لئے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی، مثبت طرز فکر کو فروغ دینا ہو گا، خواتین کو با اختیار بنا نا اورمعاشرے میں موجود ماہ جبین جیسے کرداروں سے عزم، حوصلے اور استقامت کا سبق حاصل کرنا ہو گا جو کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •