بھارت کشمیر پر قبضہ کر سکتا ہے، کشمیری روح ہمیشہ آزاد رہے گی
y جب سے کشمیر پر جبراً کرفیو لگا کر لاکھوں لوگوں کو گھروں تک محصور و مجبور کر دیا گیا ہے تب سے مجھ سے کچھ اور لکھا ہی نہیں جا رہا، سوچا ہی نہیں جا رہا، بولا ہی نہیں جا رہا۔ ہر لمحہ، ہر پل، ہر لحظہ صرف کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کا خیال دل میں بیٹھ سا گیا ہے۔ آج بھی لکھنا تو کچھ اور تھا دراصل لکھنا شروع بھی کر دیا تھا صلاح الدین اور ریحان پہ ڈیڑھ صفحہ لکھنے کے بعد پھر چھوڑ دیا اور کشمیر کی وادی میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگی۔
بچپن سے ہی مجھے سرینگر جانے اور ڈل جھیل کے شکارے میں بیٹھ کر بَوٹ ہاؤس میں دو تین دن گزارنے کی تمنا رہی لیکن ہمیشہ امّاں منع ہی کرتی رہی کشمیر جانے کو ان کو لگتا تھا وہاں اب ہر وقت گولیاں ہی چلتی رہتی ہیں۔ کیا اگلے سال تک حالات ٹھیک نہیں ہو جائیں گے؟ میں ہر سال گرمیوں میں یہی پُوچھا کرتی۔ امّاں سردیوں کی لمبی کالی راتوں میں سرینگر کے شکاروں سے خریدی ہوئی پشمینہ کی شالیں اوڑھتیں تو انہیں وہاں گزارے ہوئے وہ چند دن یاد آ جاتے اور وہ ہمیں کہانیوں کی طرح کشمیر کے قصے سناتیں کہ وہاں اتنی ٹھنڈ پڑتی ہے، وہاں چنار اور صنوبر کے پتوں کی خوشبو میں جیسے عطر گُھلا ہوتا ہے۔
ڈل جھیل کے شکاروں میں بہت سٹالز لگے ہوتے ہیں جہاں انواع و اقسام کی چیزیں ملتی ہیں۔ یہ سب سن کر میرا دل پھر سے کشمیر جانے کو تڑپتا۔ پتہ نہیں مجھے کشمیر کی وادی کیوں اتنی اچھی لگتی تھی حالاں کہ نہ ابّا نہ امّی کوئی بھی تو کشمیر سے نہیں تھا۔ ہاں البتہ ہمارے ہمسائے تھے جو جموں کے رہنے والے تھے۔ اس زمانے میں پڑوسی رشتے داروں سے بڑھ کر ہوتے تھے میں یوں بھی ان سے کشمیر کی کہانیاں پوچھتی رہتی تھی یوں تو ان کو بھی جموں گئے ہوئے دہائیاں بیت گئی تھیں۔
پڑوسن خالہ کی سگی بہن شوپیاں میں رہتی جن سے ملے ہوئے انہیں بھی 28 برس بیت گئے تھے۔ پتہ نہیں کیوں میرا دل ہمیشہ کشمیر جانے کو مچلتا ہی رہا لیکن میں اب تک ڈل جھیل کے پانیوں کو اپنی کُھلی آنکھوں سے دیکھنے کی تمنا لیے ہوئے ہوں اب تو میرا دل بھی چنار کے سُرخ ہوتے ہوئے پتوں کی طرح لرزنے لگا ہے۔ ابھی یہ لکھتے ہوئے اچانک ٹی۔ وی کھولا تو ایک ویڈیو خبر سامنے آئی کہ کرفیو لگے ہوئے 31 روز گزر گئے ہیں لیکن صورتِ حال معمول پہ نہیں آئی بلکہ اس کا اثر شادی بیاہ پہ بھی پڑا ہے تا حال سینکڑوں شادیاں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
سرینگر میں ایک ایسی ہی دلہن کی خبر تھی جس کی شادی پہ 800 افراد کو دعوت دی جا چکی تھی لیکن شادی میں صرف 7 لوگ شامل ہوئے۔ دلہن حنا رخسار کئی مہینوں سے اپنی شادی کی تیاریاں کر رہی تھی اس کا کہنا ہے کہ میرے بہت سارے منصوبے تھے میں نے اپنی شادی پہ lightingکا ایک الگ انتظام رکھا تھا decorکی themeتھی gazeboکہ وہ ہمیشہ سے اپنی شادی کے موقعے کو تازہ پھولوں سے سجانا چاہتی تھی۔ حنا رخسار کی سب کزنز نے بھی dress codeرکھا ہوا تھا لیکن یکا یک سب کچھ بدل گیا رخسار کا کہنا ہے کہ میرا شادی کا جوڑا بھی پتہ نہیں آئے گا کہ نہیں. یا وہ صرف پِھرن (کشمیروں کا مخصوص کُرتا) ہی پہن سکے گی۔ دلہن کا باپ کہتا ہے کہ ہم پریشان تھے کہ اتنے لوگوں کو بلایا ہے اور خوب دُھوم دھام سے ناچتے گاتے ہوئے بیٹی کی شادی کریں گے لیکن اب وہ خوشی، وہ دھوم تو رہ گئی بس اب ایک formality ہے ایک باپ کی کہ اُس نے اپنی بیٹی کو وداع کرنا ہے۔ رخسار کا کہنا کہ پہلے تو مجھے ایک جوش ایک عجب سی خوشی تھی کہ ”واہ میری شادی ہے وہ تو رہ گئی بس اب صرف یہ احساس ہے کہ شادی ہو رہی ہے۔
” I just want to cry and just want to tell Modi that you spoiled my deal day۔ “
رخسار نے نم آنکھوں سے سپاٹ چہرے ہی سجی بناوٹی سی مسکراہٹ کے ساتھ آخری جُملہ ادا کیا۔ قارئین! مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگ ایک مہینے سے مسلسل بد ترین المیے کا شکار ہیں۔ رخسار کی خبر دیکھ کر مجھے یکخلت مشال ملک، یٰسین ملک کی اہلیہ کا خیال آگیا جو ہر فورم پہ کشمیر کی آزادی کی مشعل جلاتی رہتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مشال خصوصاً خواتین کے ساتھ بھارتی ملٹری کی زیادتیوں کو عالمی سطح پہ بے نقاب کرتی رہتی ہیں۔
انہوں نے کئی مرتبہ بتایا کہ ان کے مظلوم شوہر یٰسین ملک کو تہاڑ جیک کے ڈیتھ سیل میں بند کیا ہوا ہے جہاں انہیں کسی قسم کی طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں۔ مشال ملک کہتی ہیں آر ایس ایس کے غنڈے وہاں عورتوں کی عصمتیں لوٹ رہے ہیں، سینکڑوں لوگ زخمی پڑے ہیں، ہر گھر کے باہر اسلحہ بردار فوجی کھڑا ہے۔ دنیا اس دورِ جدید میں بھی کشمیریوں کی نسل کشی پہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے اور عرب ممالک کی طرف سے مودی جیسے فاشسٹ ملعون کو اعزازات سے نوازنا شرم ناک عمل ہے۔
کشمیر کا واحد حل plebiscite ہے۔ لیکن مودی باہر ممالک میں کہتا ہے یہ پاکستان اور بھارت کا bilateral معاملہ ہے اپنے ملک میں کہتا ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور کشمیریوں کو بتاتا ہے جاؤ بھاڑ میں مَیں نے 370 کا آرٹیکل ختم کر دیا ہے جو کرنا ہے کر لو اور پھر انہیں زبردستی کرفیو کے دباؤ میں رکھتا ہے۔ یہ دہشت گردی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ بغل میں چُھری منہ میں رام رام نہیں تو اور کیا ہے؟ قارئین! چلیے ذرا سا پیچھے 1942 کے دور میں چلتے ہیں جب گاندھی کی آل انڈیا نیشل کانگریس نے ”Quit India Movement“ شروع کی اور انگریزوں کو کہا ”ہندوستان کو فوراً چھوڑ“ دو جس میں گاندھی نے ہندوؤں سے کہا تھا ”یا تم ان کو مار دو یا مر جاؤ“ نتیجتاً اس وقت 940 افراد چار ماہ کے عرصے میں مارے گئے۔
لیکن قائدِ اعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ اس ”Quit India“ تحریک سے الگ رہی۔ یہ تحریک بھی دراصل مسلمان اور دوسری اقلیتوں کو بائی پاس کر کے اپنی حکومت بنانے کے لیے ایک اقدام تھا ان کا مہان لیڈر گاندھی بھی بس طاقت اور قتدار کابُھوکا تھا۔ گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا فاشسٹ مودی دوبارہ بھی الیکشن مہم میں پاکستان دشمنی کی بنیاد کا پتہ کھیل کر منتخب ہوا ہے۔ دراصل مودی بھارت میں اپنی کرپشن چُھپانے کے لیے یہ سب گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔
جس ریفرنڈم کا وعدہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کیا تھا وہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ سرینگر کے مظالم دیکھ کر ایک بھارتی افسر نے خود کشی کر لی۔ ریاست دادرہ کے DCگوپی ناتھ نے استعفیٰ دے دیا کہ وہ کشمیریوں پہ ڈھائے جانے والے مظالم نہیں سہہ سکتا۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے کاٹنا ہماری سلامتی کو خطرہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین پامالیوں کے باوجود کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دی جا رہی ہے۔
دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پر متواتر جنگ کا سا ماحول پیدا کیا ہوا ہے اور افغانستان کی زمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کرتا ہے جس کا اعتراف کلبھوشن یادیو اپنے ویڈیو پیغام میں کر چکا ہے۔ اس وقت پوری دنیا چیخ رہی ہے کشمیر پہ ظلم بند کیا جائے، کرفیو اٹھایا جائے لیکن بزدل بھارت اپنی ہٹ دھرمی قائم رکھے ہوئے ہے۔ یاد رکھیے! جس دن بھی کشمیر سے کرفیو ہٹایا گیا وہاں کے لوگوں کے احتجاج کی گونج سے کشمیر کے پہاڑ اور چنار لرز اٹھیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کہا کرتے تھے مودی تم ایک قدم بڑھاؤ ہم دو قدم بڑھائیں گے تو مسٹرا پرائم منسٹر! مودی فاشسٹ نے تو ایک قدم بڑھا دیا ہے آپ بھی دو قدم بڑھائیے کشمیر کے سچے سفیر بنیے اورمت بُھولیے :
”India can kill Kashmiris but not their ideology۔ “ انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا!





