گلگت بلتستان : نوآبادیات کا گمنام گوشہ۔ (قسط 2 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ شاہد ہے کہ گلگت بلتستان کبھی بھی برصغیر کا حصہ نہیں رہا بلکہ قبل از مسیح سے ہی کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور کوہ قراقرم کے دامن میں واقع اس علاقے میں قدیم یونانی شہری ریاستوں کی طرح تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف خودمختار شاہی ریاستیں قائم تھیں۔

مشہور جرمن ماہر علوم بشریات کارل جٹمر نے اپنی کتاب Bolor&Dardistan میں لکھا ہے کہ اس خطے میں موجود ریاستوں میں Great Bolor اور Little Bolor ریاست اہمیت کے حامل تھے گریٹ بلور کا دارالخلافہ سکردو میں تھا۔ چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے دوران بلور حکمران سکردو میں رہتے تھے اور اپنے سفیروں کو چین بیجھتے تھے، ان ممالک نے صدیوں تک ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے۔

ان ریاستوں کے انتظامی معاملات اور عدالتی نظام کو صدیوں سے رائج علاقائی دستور اور رسم ورواج کے تحت چلایا جاتا تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انہیں بیرونی جارحیت کا بھی سامنا کرنا پڑا بالآخر یہ چھوٹی چھوٹی شاہی ریاستیں دنیا کی دیگر کئی ریاستوں کی طرح تاریخ کی خاک میں گم ہوگئی۔

تاریخ گلگت بلتستان کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ 1840 کے بعد ڈوگرہ افواج نے ان علاقوں پر حملے شروع کیے اور خونی جنگوں کے بعد گلگت بلتستان کو فتح کرکے جموں وکشمیر کے ساتھ جوڑا گیا، حالانکہ تاریخی اعتبار سے یہ علاقے کبھی نہ تو کشمیر کا حصہ رہے ہیں نہ ہی انڈین سب کانٹینٹ کا۔ تاہم اس خطے کی اہم جیؤ سٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے تاج برطانیہ نے ڈوگرہ حکومت کے ساتھ ملکر یہاں اپنا نوآبادیاتی نظام مسلط کیا جس کی بنیاد خالصتاً جبر پر رکھی گئی تھی۔

برٹش انڈین حکومت نے مہاراجہ پرتاب سنگھ کے دور میں بذریعہ میجر جان بڈلف 1877 میں گلگت ایجنسی قایم کی اور 1881 میں اسے ختم کیا گیا اور دوبارہ 1889 میں اس کا قیام عمل میں لانے کے بعد برٹش کرنل Algernon Durand کو پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا۔ 1889 میں گلگت لیویز کا قیام عمل میں آیا جنھوں نے 1891 میں نگر نلت کے مقام پر تاج برطانیہ اور ریاست ہنزہ و نگر کے درمیان لڑی گئی جنگ میں حصہ لیا اور بیرونی تسلط کو ممکن بنایا۔ اس جنگ کو عام طور پر War Brusho Anglo کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 1891 تک ریاست ہنزہ ڈوگرہ حکومت کے کنٹرول سے باہر تھی مگر اس خونی جنگ کے بعد اسے بھی گلگت ایجنسی میں شامل کر لیا گیا۔

جبکہ گلگت اور بلتستان کو 1889 میں ایک انتظامی یونٹ کے زیر انتظام لایا گیا تھا پھر سال 1892 اس کو گلگت وزارت اور لداخ وزارت میں تقسیم کیا گیا۔

1892 میں پہلا برٹش پولیٹیکل ایجنٹ چلاس میں تعینات کر دیا گیا، جس کے جورسڈکش میں داریل اور تانگیر بھی شامل تھے۔ حراموش اور استور کو پہلے بلتستان کا حصہ اور بعد میں گلگت ایجنسی کے ساتھ ملایا گیا۔ 1895 میں یاسین، اشکومن اور کوہ غذر کو بھی گلگت ایجنسی میں شامل کیا گیا۔

تاج برطانیہ نے اس خطے میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر 1935 میں ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ سے گلگت ایجنسی کو 60 سال کے باقاعدہ لیز پر لیا۔ Lease of Gilgit۔ 26 March 1935 ایک صحفہ پر مشتمل اس دستاویز میں کل پانچ آرٹیکل درج ہیں۔

آرٹیکل 1 میں لکھا گیا ہے کہ، اس معاہدے کی توثیق کے بعد وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا کسی بھی وقت اس علاقے میں اپنی سول اور عسکری ایڈمنسٹریشن قایم کرے گی لیکن اس معاہدے کی رو سے یہ علاقے بدستور مہاراجہ آف جموں وکشمیر کی سلطنت کا حصہ رہیں گے۔

آرٹیکل 2 میں لکھا گیا ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ علاقے بدستور مہاراجہ جموں وکشمیر کے ریاست کا حصہ رہیں گے اس لئے رواج کے مطابق اہم تہواروں کے موقع پر بشمول مہاراجہ کے جنم دن پر یہاں کی انتظامیہ مہاراجہ کو سلامی پیش کریں گی ان کے علاوہ دیگر تہواروں پر، جن پر وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا راضی ہوں، مہاراجہ کو سلامی دی جائے گی اور مہاراجہ کا جھنڈا سال بھر گلگت ایجنسی کے سرکاری ہیڈکوارٹرز میں لہراتا رہے گا۔

آرٹیکل 3 میں لکھا ہے کہ عام حالات میں دریائے انڈس کے مغربی کنارے پر واقع گلگت وزارت کے علاقوں کے ذریعے سے برٹش افواج کو نہیں بھیجا جائے گا۔

4۔ مائننگ کے تمام حقوق مہاراجہ جموں وکشمیر کے حق میں محفوظ ہیں۔

5۔ یہ ایگریمنٹ توثیق کے دن سے لے کر 60 سال کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس مدت کے اختتام پر یہ معاہدہ ختم ہوگا۔

گلگت ایجنسی میں اپنی سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ قائم کرنے کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ تاج برطانیہ، روس پر نظر رکھنا چاہتا تھا کیونکہ 1917 کے بالشویک انقلاب کے بعد سے خطے میں ان کا اثر بڑھ رہا تھا۔ اس طرح گلگت ایجنسی اس وقت کی سپر پاورز برٹش ایمپائر اور روسی ایمپائر کے درمیان کھیلی گئی گریٹ گیم کا حصہ بن گئی۔

جنگ عظیم دوئم کے نتیجے میں تاج برطانیہ معاشی طور پر اتنا کمزور ہوگیا کہ سمندر پار اپنی زیر تسلط کالونیوں پر قبضہ برقرار رکھنا ناممکن ہوگیا اس لئے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت تاج برطانیہ نے قبل از وقت ہی گلگت لیز ایگریمنٹ کو، 30 جولائی 1947، ختم کیا اور گلگت ایجنسی مہاراجہ ہری سنگھ کے حوالے کر دی۔ مہاراجہ جموں وکشمیر نے اپنے کزن برگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت بلتستان کا گورنر مقرر کیا جو نومبر 1947 میں بمقام گلگت اپنی گرفتاری تک گلگت وزارت کا گورنر رہا۔

26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ، ریاست جموں وکشمیر، کے انڈیا سے الحاق کے محض چار دنوں کے اندر یکم نومبر 1947 کو گلگت میں ڈوگرہ حکومت کے خلاف، بقول میجر الیگزینڈر بروان، ”بغاوت گلگت“ ہوئی۔ مقامی افراد نے گلگت سکاؤٹس کے ساتھ مل کر گورنر، برگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے یکم نومبر 1947 کو آزادی کاعلان کیا اور اپنی مدد آپ کے تحت گلگت بلتستان کو ڈوگرہ حکومت کے قبضہ اور تسلط سے آزاد کروایا۔

پاکستان انڈیا کے درمیان کشمیر پر پہلی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے جنگ بندی کروائی اور گلگت بلتستان کو بھی متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ قرار دیتے ہوئے متنازعہ علاقے قرار دیا۔ اسی اثنا حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کے نمائندوں کے ساتھ ملکر 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی طے کیا اور اس دستاویز کے تحت گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ایا۔

17 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ”سول ایویشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان“ نامی کیس کے فیصلے میں یہ بات واضح کی ہے کہ ”گلگت بلتستان پر حکومت کرنے کے لیے 1947 سے ایڈمنسٹریٹو سٹرکچرزاور قوانین اپلائی کیے گئے جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

1947 کو فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) گلگت میں نافذ کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں لاگو کیا گیا پہلا قانون ایف سی آر تھا جو برٹش انڈیا کے بنائے ہوئے نوآبادیاتی قانون کا تسلسل تھا جس کے تحت ایک سول بیوروکریسی تمام جوڈیشل اور انتظامی اختیارات کو استعمال کرتی تھی۔ برٹش انڈیا نے 1901 میں ایف سی آر یعنی فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن، جرائم سرحد نمبر 3 کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جو کہ بتاریخ اٹھارہ ستمبر 1901 جناب نواب گورنر جنرل بہادر بااجلاس کونسل کی پیشگاہ سے منظور ہوا۔ دفعہ نمبر 1 کے تحت یہ ریگولیشن ”ریگولیشن جرائم سرحد 1901“ کہلائے۔

اس کے سیکشن 6، 10، 21 اور 22 کے تحت کسی ایک شخص کے جرم کرنے کی صورت میں پورے قبیلے کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اور اس موضع کے باشندوں پر بحثیت مجموعی جرمانہ تجویز کیا جاتا یا بحثیت مجموعی ان کی جائیداد پر سرکار قبضہ کرسکتی یا تلف کرنے کی مجاز تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ سال 1949 میں معاہدہ کراچی طے پایا اور حکومت پاکستان کے سرکاری حکام نے اٹھائیس اپریل 1949 کو آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ ملاقات کرکے ”معاہدہ کراچی“ طے کیا۔ اس معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ گلگت بلتستان کے معاملات حکومت پاکستان چلائے گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لکھا کہ نظر آتا ہے کہ ”اس ایگریمنٹ میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔“

سال 1949 میں ان علاقوں کا نام بدل کر ”ناردرن ایریاز آف پاکستان“ رکھا گیا اور 1950 میں منسٹری آف کشمیر افیرز اور ناردرن ایریاز بنائی گئی۔ شمالی علاقہ جات کے معاملات منسٹری آف کشمیر اور ناردرن ایریاز (KANA)، منسٹری آف کشمیر افیرز کے جوائنٹ سیکرٹری کے حوالے کیا گیا جو ناردرن ایریاز میں بطور Resident کے ذمہ داریاں سر انجام دیتا تھا۔ جس کے پاس سال 1951 تک تمام انتظامی اور جوڈیشل اختیارات تھے۔

1952 میں پولیٹیکل ریزیڈنٹ کو اپوائنٹ کیا گیا۔ لوکل ایڈمنسٹریشن اور جیوڈیشری کا سربراہ جوائنٹ سیکرٹری آف منسٹری آف کشمیر افیرز تھا جو FCR کے نفاذ کا ذمہ دار تھا ساتھ ہی ساتھ وہ فائنانس اور ریونیو کمشنر بھی تھے۔ جبکہ ریزیڈنٹ وفاقی حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورت کرکے شمالی علاقوں میں قانون سازی کے اختیارات بھی استعمال کرتے تھے۔ 1967 میں پولیٹیکل ایجنٹ کو تعینات کیا گیا۔ KANA سے ہائی کورٹ اور ریونیو کمشنر کے اختیارات لے کر ریزیڈنٹ کے حوالے کیے گئے اور ساتھ میں دو پولیٹیکل ایجنٹس، ایک گلگت اور ایک بلتستان کے لئے مقرر کیے گئے۔

1970 میں ایک ایڈوائزری کونسل برائے شمالی علاقہ جات کونسل کے قیام کے لیے آئینی آرڈر جاری کیا گیا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان اکیس منتخب اور غیر منتخب ممبران پر مشتمل اس کونسل کا سربراہ گلگت کے لئے تعینات ریزیڈنٹ تھا جو اس کونسل کا چیرمین تھا۔ 1970 میں ناردرن ایریاز کونسل کے لئے 16 ممبران کو منتخب کیا گیا۔

1975 میں ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا گیا اور ایف سی آر کو بظاھر ختم کر دیا گیا۔ بڑے پیمانے پر انتظامی، عدالتی اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور جاگیر داری نظام کو ختم کیا گیا۔ پاکستان کی طرز پر ناردرن ایریاز میں بھی ڈسٹرکٹ بنائے گئے اور پاکستان کے کرمنل اور سول لا کو ناردرن ایریاز تک پھیلایا گیا۔ ایڈوائزری کونسل برائے ناردرن ایریاز کا نام بدل کر نادرن ایریاز کونسل رکھا گیا۔

1994 میں ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر متعارف کرایا گیا۔ اس انتظامی دستاویز کو KANA ڈویژن نے بنایا تھا۔ اس دستاویز کو ناردرن ایریاز رولز آف بزنس سپلیمنٹ کرتا تھا جو بنیادی قانون کے طور پر کام کرتا تھا مگر بہت ہی محدود ایڈوائزری کا کام کونسل کو منتقل ہوا، درحقیقت یہ کونسل تاج برطانیہ کی برصغیر کے لیے قائم کی گئی کونسل کی بدترین مثال تھی۔

1947 سے 1994 تک گلگت بلتستان میں لاگو کیے گئے ان تمام قوانین کے بنانے میں عوامی نمائندوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں حکمرانی کرنے والوں کا کام ہے کہ وہ ہر قیمت پر ہمیں اندھیرے میں رکھیں اور ہمارا کام محض ان کے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ کی تائید میں سر ہلانا ہے۔ جبر کی بنیاد پر قائم کی گئی ایسی دنیا کو فرانز فینن نے نوآبادیاتی دنیا کا نام دیا ہے۔

بقیہ اگلی قسط میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •