صلا ح الدین منہ مت چڑاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اے صلاح الدین! تم منہ کے چڑا رہے ہو ان بینکوں کو جو قاتل مسیحا ہیں جو اربوں روپے کے قرضے تو معاف کر سکتا ہے مگر ہزاروں روپے والے نہیں۔ تمھیں پتہ ہے صلاح الدین قومی روزناموں میں ایک دن پورے صفحے کا اشتہار چھپا تھا اس میں ان لوگوں کے نام تھے جو قرضہ واپس نہیں کر سکے تھے حالانکہ انہوں نے بینک کے پاس اپنا سونا گروی رکھا تھا چنانچہ بینک نے ان کا سونا ضبط کر لیا۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرضہ شاید ڈھائی لاکھ کا تھا اور کم سے ک 15 ہزار روپے کا جس کے بدلے میں 15 ہزار قرضہ لینے والے نے کوئی ڈیڑھ تولہ سونا گروی رکھا تھا۔ اب تم بتاؤ جہاں معاشی ادارے اتنے اصولوں کو پابند ہوں وہاں تم اے ٹی ایم مشین کھولو اور بینک والو کو منہ چڑاؤ۔ کیا اے ٹی ایم تمھارے باپ کا تھا صلاح الدین۔ منہ چڑیا تھا سو اب بھگتو۔

تمھیں پتہ ہے صلاح الدین، تم معیشت کے خسارے کی بہت بڑی وجہ تھے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پکڑے گئے حکومت نے بڑے پیمانے پر جشن کا اعلان کیا اور جشن کے موقع پر جیسے قیدی چھوڑے جاتے ہیں بالکل اسی طرح ملک کے حکمران نے غریبوں کی جھولیاں بھر دیں اور ان غریبوں کے چند ارب کے قرضے معاف کر دیے اور نئے پاکستان میں معاشی انصاف کی نیو رکھ دی۔ اور بیوقوف آدمی تم یاد رکھو کہ ان کے قرضے اس لئے معاف ہوئے کہ انہوں نے تمھاری طرح بینک کو منہ نہیں چڑایا۔

صلاح الدین! کبھی تم نے سوچا ہے کہ اگر تم اشرافیہ سے تعلق رکھتے اور تمھاری منہ چڑانے والی ویڈیو سامنے آتی تو لوگ کیا کرتے۔ اسی سٹائل میں اے ٹی ایم پر جا کر ویڈیو بناتے اور پوسٹ کرتے کہ رواج عام کا راجہ ہولی کھیل رہا ہے مگر تم غریب تھے اس لئے اس مقبولیت سے محروم رہے فقط لوگ تمھاری ویڈیو سے محظوظ ہوئے اور بھول جاتے اگر تم ایک عجیب غریب ہارٹ اٹیک سے نہ مرتے۔ اس سے قبل یہ ہارٹ اٹیک دیکھا نا سنا کہ بندے کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں، جلد جل جائے اور جسم کے نازک حصے تباہ ہو جائیں۔

اب دنیا بھر میں اس دل کے دورے پر تحقیقات ہوں گی کہ یہ کس قسم کا دل کا دورہ تھا۔ ہو سکتا ہے سائنسی تحقیقات کا نتیجہ کچھ فرق نکلے لیکن تمھارے ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں مرنے کے بعد بننے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ تمھاری موت کو انتہائی ڈھٹائی سے ہارٹ اٹیک ہی لکھے گی اور دیگر سائنسی تحقیقات کو تمھاری طرح منہ چڑائے گی۔

اوئے بھولے صلاح الدین! تم نے پولیس والوں سے یہ کیوں پوچھا کہ انہوں نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے۔ ارے کئی دہائیوں سے تمھارے اور میرے جیسی عوام انہیں اپنا بدن پیش کرنے ہیں کہ ”عالی جاہ یہاں پریکٹس کریں۔“ اور تم پڑھے لکھے تو تھے نہیں جو انگریزی کے اس محاورے کا مطلب جانتے کہ practice makes man perfect۔ پر یہ بھی عجیب لوگ ہیں، آدھا محاورہ بنایا ہے ہماری پولیس سے واسطہ پڑتا تو محاورہ یوں لکھتے کہ practice makes man perfect and policeman beast۔ یہ وحشی دراصل مردہ خور ہیں میری اور تمھاری لاش نوچتے ہیں، عام عوام بھلا زندوں میں کب شمار ہوتی ہے۔ جب زندہ لوگوں سے ان کا واسطہ پڑتا ہے تو تب انہیں لگ پتا جاتا ہے۔ یقین نہ آئے تو ذرا چیک کرو کتنے بارسوخ لوگ آج تک پولیس مقابلے میں یا تھانے میں ”ہارٹ اٹیک“ سے مرے ہیں؟

صلاح الدین تمھیں پتہ ہے تمھارا منہ چڑانا کتنے لوگوں کو کَھل رہا ہے؟ ہر کسی کو لگتا ہے کہ تم ان کو منہ چڑا رہے ہو ریاست، سیاست، عبادت، معیشت، انصاف کون کون ہے جسے تم منہ نہیں چڑا رہے؟ تمھاری تصویر تو مونا لیزا کی تصویر سے زیادہ جاندار نکلی، وہ تو سب کو دیکھتی ہے اور تم سب کو منہ چڑا رہے ہو۔۔۔ وہ دیکھو اسمبلیوں والے، وہ دیکھو انصاف والے، وہ دیکھو موٹی توندوں والے، قلم والے، پڑھانے والے، علاج والے، سب نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے ہیں کہ تمھارا منہ چڑاتا چہرہ انہیں نظر نہ آئے کیونکہ اب وہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے سو اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔ اور صلاح الدین اپنا چہرہ دوسری طرف کرو میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے جو تم مجھے منہ چڑا رہے ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •