تھرپارکر، ریت کے ٹیلوں سے سرسبز و شادابی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم تھرپارکر کی حدود میں داخل ہوئے جہاں سڑک کی دونوں جانب چندماہ قبل ریت کے ٹیلوں اور دور دور تک ریگستانی علاقہ تھا وہاں آج ہر طرف ہریالی، لہلہاتے درخت اور سبزہ ہے، حالیہ بارشوں نے تھر کے باسیوں میں زندگی کی ایک نئی امید پیدا کردی ہے، جس کی وجہ سے تھری کھیتی باڑی کرسکتے ہیں، فصلیں اگاسکتے ہیں، اور اپنا روزگار چلاسکتے ہیں۔

تھرپارکر کی مرکزی سڑک پر سفر کرنے کے دوران راستے میں آپ کوتھری اپنے جانورچرواتے ہوئے نظرآئیں گے، جبکہ کئی سالوں سے قحط اور پیاس کا شکار تھر کے مویشی برساتی پانی کے باعث جمع ترائی (پانی کے تالاب ) سے پانی پیتے ہوئے ملتے ہیں، کبھی تو اونٹ بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں، کیونکہ بارش ابھی تازہ ہوئی تھی تو تھر کے چھوٹے بچے راستے بھر پرآ پ کو پولیتھین کی تھیلیاں لے کر کھڑے ملیں گے، (Mushroom) جن میں تازہ سفید‘ کھمبھیاں ہوتی ہیں جو فقط بارش کے موسم میں اگتی ہیں اور ان کا سالن بہت لذیذ بنتا ہے۔

تھر کا صحرا پونے دو لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ دنیا کا 17 واں بڑا صحرا ہے اور Subtropical Desert کے حوالے سے 9 ویں نمبر پر آتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ یعنی تقریباً 85 فیصد انڈیا کی طرف ہے اور 15 فیصد کے لگ بھگ ہمارے پاس ہے۔

تھر میں بے شمار این جی اوز کام کررہی ہیں، تھر میں تھر کول منصوبہ بھی اپنی مثال آپ ہے، جس سے امید کی جارہی ہے کہ ”تھر بدلے گا پاکستان“، ابھی حال ہی میں تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ میں کراچی کی معروف یونیورسٹی کی جانب سے ایک انجیئرنگ یونیورسٹی کا بھی اعلان کیاگیاہے۔

مرکزی سڑک سے لنک روڈ پر آنے کے بعد ’بھالوا‘ ہے اور وہ کنواں ہے جس سے عمر ماروی کی مشہور لوک داستان وابستہ ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ وہ کنواں ہے جہاں سے عمر نے ماروی کو اٹھایا تھا اور عمرکوٹ کے قلعے میں قید کر دیا تھا۔ اب ماروی کے کنویں کو محکمہء ثقافت کی طرف سے چار دیواری دے کر محفوظ کیا گیا ہے۔ آپ جب اس چار دیواری کے اندر جاتے ہیں تو وہاں کے مقامی فنکار اپنے ساز و آواز سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ کنویں میں ابھی تک پانی ہے جسے لوگ استعمال کرتے ہیں۔

ہم جب اسلام کوٹ سے گوڑی مندر اور بھالوا دیکھنے کے لیے نکلے تو وہ ہی شاندار ریت کے ٹیلے اور ان ٹیلوں پر لوگوں کے بنے ہوئے مخصوص قسم کے گھر (مقامی طور پر اس کو ’چوئنرو‘ کہتے ہیں، جو مقامی گھاس سے ہی بنتا ہے، خاص کر اس کی چھت ایک جھاڑی ’کِھپ‘ (BrushBroom) سے ڈھانپی جاتی ہے۔

ننگرپارکر ہماری منزل تھا، جہاں آپ پہنچتے ہیں تو کچھ جھونپڑی نما اور چند پختہ دکانیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ ننگرپارکر کو سیاحتی شہر بھی کہا جاسکتا ہے اس کی وجہ شہر کی خوبصورتی اور صاف ستھری سڑکیں ہیں۔ شہر میں ضروریات زندگی کی ہر چیز دستاب ہے۔ ننگرپارکر میں کارونجھر جبل کے نام سے پہاڑ واقع ہے، ننگر پارکر پورے تھر میں اپنی الگ ہی پہچان رکھتاہے، کارونجھرجبل نامی پہاڑ کے دامن میں ایک تالاب ہے، جبکہ پہاڑ پر جانے سے قبل آپ کو چند حکیم جڑی بوٹیاں لیے بھی اپنی دکان سجائے بیٹھے ملیں گے جن کے بقول یہ جڑی بوٹیاں کارونجھر جبل سے نکالی گئی ہے جو انسانی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کارون جھر جبل کی چوٹی پر چڑھنے کے بعد آپ کو دور دور تک سبزہ ہی سبزہ دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ فضاؤں میں موروں کی آوازآپ کو سحر زدہ کردیتی ہے۔

تھر کے باسی بہت مہمان نواز لوگ ہیں، یہ پورے تھر میں آپ کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہ لوگ تھر کے لیے بہت حساس ہیں۔ تھر میں ہندوآبادی اکثریت میں ہونے کے باجود وہاں کے مسلمان اور ہندوبرادریوں میں امن، بھائی چارہ اور محبت کا رشتہ قائم ہے، جوہر دکھ، سکھ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ تھر میں دورے کے دوران ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہم جس علاقے یا گاؤں میں داخل ہوتے تو وہاں رشتہ حب الوطنی دیکھنے کو ملتا، جھونپڑی نما دکانوں اور کچے گھروں کی چھتوں پر قومی پرچم لہراتے ہوئے ملے، جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تھر کے عوام مشکل وقت میں آخری وقت تک پاکستان کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •