تھر میں موت کا رقص

روزمرہ کی طرح میں اپنے کاموں میں مشغول تھاکہ ایک ٹیلی ویژن اسکرین پرچلنے والے ٹکرز پر نظر پڑی کہ تھرمیں بچوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے باعث تین مزید بچے جاں بحق ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام ٹی وی چینلز خبر بریک کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے، ہر کسی نے اپنے اپنے انداز سے تفصیلات بتائیں۔ حتی کہ ایک دو بیپر بھی لئے گئے۔ بریکنگ نیوز میں چلنے والے ٹکرز چینلز پر کچھ وقت تک نمودار ہوتے رہے اور پھر غائب ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے تھر میں جاری اموات کا ماتم تین منٹ تک مناکر اپنا حق اداکردیا اور اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔

ضلع تھرپارکر صوبہ سندھ کا ایک پسماندہ ضلع ہے، اس کے شمال میں عمر کوٹ اور میرپور خاص، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جیسلمیر کے اضلاع، مغرب میں بدین اور جنوب میں رن کچھ کا متنازع علاقہ واقع ہے۔

Read more

مصنوعی بارش سے تھر میں موت کا رقص روکا جائے

روزمرہ کی طرح میں اپنے کاموں میں مشغول تھاکہ ایک ٹیلی ویژن اسکرین پرچلنے والے ٹکرز پر نظر پڑی کہ تھرمیں بچوں کی اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا، سول ہسپتال مٹھی میں غذائی قلت کے باعث تین مزید بچے جاں بحق ہوگئے، دیکھتے ہی دیکھتے تمام ٹی وی چینلز خبر بریک کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگئے، ہر کسی نے اپنے اپنے انداز سے تفصیلات بتائیں حتی کہ ایک دو بیپر بھی لئے گئے، بریکنگ نیوز میں چلنے والے ٹکرز چینلز پر کچھ وقت تک نمودار ہوتے رہے اور پھر غائب ہوگئے، اس کے ساتھ ہی ہم نے تھر میں جاری اموات کا ماتم تین منٹ تک مناکر اپنا حق اداکردیا، اور اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔

ضلع تھرپارکر صوبہ سندھ کا ایک پسماندہ ضلع ہے۔اس کے شمال میں عمر کوٹ اور میرپور خاص، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جیسلمیر کے اضلاع، مغرب میں بدین اور جنوب میں رن کچھ کا متنازع علاقہ واقع ہے۔ یہ اضلاع چار تحصیلوں ڈیپلو، چھاچھرو، مٹھی، ننگرپارکر پر مشتمل ہے، قدرتی وسائل سے مالامال تھرپارکر میں گزشتہ چھ سالوں سے قحط کے باعث موت کا رقص جاری ہے، ایک اندازے کے مطابق 2012 سے 2018 تک تھرپارکر میں 3 ہزار 9 سو سے زائد جبکہ رواں سال کے دوران اس کالم کے لکھنے تک تراسی بچے خوراک کی کمی اور علاج کی ناکافی سہولیات ملنے کے باعث ابدی نیند سوچکے ہیں، یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی تھرپارکر میں غربت اور بے روزگاری سے تنگ آکر کئی تھری اپنی زندگی کاخاتمہ کرچکے ہیں، جبکہ تھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگانے والے سینکڑوں مور بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

Read more