تیرے قرب کی خوشبو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تآپی فاطمہ شیروانی سے میری پہلی ملاقات گذشتہ برس صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ سی ایم ہاؤس لاہور میں ہوئی جہاں ان کے ساتھ مجھے بھی میری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوے اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا تھا۔ ۔ یہ تقریب آل پاکستان رائٹرز ولفیئر ایسوسی ایشن (اپوا) نے رکھی تھی۔ تب میری پہلی کتاب ”15 پراسرار کہانیاں“ نئی نئی آئی تھی۔ میں نے وہاں آپی کو اپنی کتاب بطور تحفہ دی اور اپوا میں باقاعدہ شمولیت اخیتار کر لی۔

اس کے بعد آپی سے اپوا کے ہونے والے پے در پے پروگرامز میں ملاقات ہوتی رہی اور ان کی شخصیت کے بہت سے رنگ مجھ پر کھلتے رہے۔ میں نے آپی کو اس تمام عرصہ میں نہایت نرم خو، خوش اخلاق، خوش گفتار اور نرم مزاج پایا۔ وہ بات کرتی ہیں تو ایسے دھیمے لہجے میں کہ الفاظ کو بھی درد نہ ہو ان کا ٹھہر ٹھہر کر بات کرنا انہیں انتہائی شائستہ اور مہذب گھرانے کی سلجھی ہوئی لڑکی ظاہر کرتا ہے۔ میں جب اپوا میں آئی اس وقت وہ اس معتبر تنظیم کے خواتین ونگ کی جزل سیکرٹری تھیں۔ بعداذاں ترقی کے زینے طے کرتی ہوئیں سنیئر نائب صدر کے عہدے پر جا پہنچیں۔ بلاشبہ ان میں قائدانہ صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

نئی آے والی اور لکھنے والی لڑکیاں ان سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ آپی کا مزاج اس قدر دھیما ہے کہ مجھے یقین ہے انہیں غصہ بھی آتا ہوگا تو اتنے دھیمے سے کہ آکر کب چلا جاتا ہوگا انہیں خود بھی پتا ہی نہیں چلتا ہوگا۔ مجھے یاد ہے ایک بار آپی نے جب مجھے بتایا کہ ان کی اپنی ایک دوست سے لڑائی ہوگئی ہے اور بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ نوبت بلاک تک آپہنچی ہے میں نے حیرت سے آپی سے استفسار کیا تھا ”آپ کی بھی بھلا کسی سی لڑائی ہوسکتی ہے“ جواب میں وہ ہنس دی تھیں۔ اور میں حیرت سے یہی سوچتی رہی تھی کہ اتنے ٹھندے مزاج کی حامل نفیس انسان کی لڑائی کیونکر اس نہج تک آئی ہوگی۔ بہرحال غصہ ہر ذی نفس کو آتا ہے اور کبھی کبھی آپی جیسی انسان کو بھی آجائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

آپی میں ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ ہر کسی کی کھلے دل سے حوصلہ افزائی کرتی ہیں جس کسی نے بھی کوئی اچھا کام کیا ہو وہ اس کی تعریف کر کے اس کا حوصلہ بلند کرتی ہیں۔

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں سینئیرز اپنے جونیئرز کے حوالے سے ہمیشہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ تعریف کے معاملہ میں اکثر سینئرز کے پاس نئے اور جونیئرز کے لئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں اگر کسی کا دل میں نے ہمیشہ فراغ پایا ہے تو وہ آپی ہیں جو ہمہ وقت چھوٹوں کی مدد اور دلجوئی کے لئے تیار نظر آتی ہیں۔ اس کا عملی اندازہ مجھے تب ہوا جب آپی نے میری پہلی کتاب پر بھی بہت اچھے اور نیک خیالات کا اظہار کر کے بہت محبت اور اپنائیت کے ساتھ میری خوب حوصلہ افزائی کی۔

آپی نے لکھنے کی شروعات ڈائجسٹ سے کی۔ جہاں وہ کہانیاں لکھا کرتی تھیں۔ پھر اس کے بعد وہ افسانے اور کالم بھی لکھنے لگیں۔ آج ایک جانی مانی کالم نگار ہیں۔ کئی ایواڑذ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔

اس تحریر سے چند دن قبل تک میں نے آپی کے صرف افسانے اور کالم ہی پڑھ رکھے تھے۔ جس سے مجھے ان کے اندر موجود ایک مصنف کی پہچان تو ہو گئی تھی۔ مگر آپی کی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں سے مجھے اس وقت شناسائی ہوئی جب حال ہی میں ان کی پہلی کتاب ”تیرے قرب کی خوشبو“ انہوں نے مجھے بطور تحفہ دی۔

یہ معلوم ہونے پر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ آپی ایک کہانی کار بھی ہیں۔ بعدازاں معلوم ہوا انہوں نے شروعات ہی یہیں سے کی تھی۔

انکی اس کتاب میں موجود چھ مختلف کہانیاں ان کے لکھنے کے ابتدائی دنوں کی ہیں۔ جب وہ ڈائجسٹ میں لکھا کرتی تھیں یہ تمام کہانیاں ڈائجسٹ میں مقبولیت کے گراف کو چھو چکی ہیں اب ان کو کتابی شکل میں ڈھالا گیا ہے۔

آپی نے جب مجھے کتاب دی مجھے لگا تھا میں یہ رومانوں کہانیاں بہت مشکل سے پڑھ پاؤں گی کیونکہ مجھے رومانوی کہانیاں کبھی بھی پسند نہیں رہی میرا مزاج ڈراؤنی کہانیاں پڑھنے والا ہے۔ مگر گلابی رنگ کی یہ کتاب اور اس کے ٹائٹل پر موجود دو محبت کے پیاسے جوڑے ساتھ ہی اس کے کاغذوں سے اٹھتی ہوئی دلفریب مہک مجھے کتاب سے زیادہ دن دور نہ رکھ سکی۔ میں نے تین دن کے اندر مکمل کتاب پڑھ ڈالی۔

کتاب تو ختم ہو گئی مگر مجھے ایک جہان حیرت میں مبتلا کر گئی۔ میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ آپی اس قدر شاندار اور جاندار تخلیق کار ہیں۔ ان کے قلم کی روانی اور بہترین کہانیوں نے ہی مجھے اتنی جلدی کتاب ختم کرنے پر مجور کیا۔ کتاب کے اختتام کے بعد میں نے آپی کو بارہا کہا کہ آپ بہت بہترین لکھتی ہیں، اس بات پر وہ بس مسکرا دیتیں۔

رومانوی ادب نا میرا موضوع ہے نا میں نے کبھی اس میں زیادہ دلچسپی لی ہے۔ میرا عام تاثر اس کے متعلق کوئی بہت زیادہ بہتر بھی نہیں تھا۔ مگر آپی کی کہانیوں نے میری رائے اور سوچ کو یکسر بدل ڈالا۔ اتنی بہترین رائٹر اب تک میری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس کے ظہور پذیر ہونے پر میں بہت خوش ہوں۔

کہا جاتا ہے کہ مصنف کی تحریریں اس کی سوچ کی عکاس ہوا کرتی ہیں۔ مگر بعض رائٹر میں نے ایسے بھی دیکھے ہیں جن کی شخصیت ان کی تحریروں سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں وہ لکھتے کچھ ہیں ہوتے کچھ ہیں۔ مگر آپی کے بارے میں مجھے یہ کہتے ہوے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ ان کے ظاہر و باطن بھر ایک جیسا ہے اور جس نفیس شخصیت کی مالک وہ خود ہیں ان کی تحریروں میں ہمیں وہی نفاست دیکھنے جا بجا پڑھنے کو ملتی ہے۔ ان کی کہانیاں ان کے کردار ان کے الفاظ حساس دل سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے کہانیوں کے منفی کردار بھی الفاظ کا انتخاب گویا سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ان میں سخت الفاظ کا استعمال ہرگز نہیں ہے۔ برے سے برے حالات میں بھی آپی اپنے کرداروں کو نہایت نرمی سے مشکل سے نکال لاتی ہیں اور یہ خوبی صرف میں نے ان کے قلم میں دیکھی ہے جو بلاشبہ بہت بڑی صلاحیت ہے۔

کہانیوں کے موضوع رومانوی ہیں۔ مگر روٹین کے ناولز سے ہٹ کر ان کے تمام کردار خاص طور پر صنف نازک بالکل ہی اکاگ رنگ میں پڑھنے والے کے سامنے آتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں صنف نازک کو ہمیشہ کی طرح صرف مظلوم نہیں دکھایا گیا۔ بلکہ عورتوں کے ان سفاک پہلوؤں سے بھی نہایت خوبصورتی سے پردے اٹھاے ہیں۔ جن پر خواتین مصنفین قلم اٹھانے سے کتراتی ہیں۔ وہ کردار کو اس طرح واضح کر کے پڑھنے والوں کے روبرو پیش کرتی ہیں کہ انسان کو عورت ذات سے نفرت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس وقت قاری کی ساری ہمدردیاں مرد ذات سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔ مگر دوسرے ہی پل ان کی کہانیوں میں مرد ذات کی بھی شکی طبیعت اور بدمزاجی کو کمال مہارت سے بیان کیا ہے۔ جس سے پڑھنے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس نہج پر پہنچ چکا ہے۔

ہر تحریر اپنے اندر بہت حساسیت اور گہرائی سموے ہوے ہے۔ کہیں ہمیں عورت ہی اپنے جیسی دوسری عورت پر ظلم کرتی دکھائی دیتی یے تو کہیں ایک بھائی ہی اپنے بھائی سے حسد کا شکار نظر آتا ہے نیز یہ کہ ہر کہانی میں معاشرے اور اس میں بسنے والے نہایت قریبی رشتوں کے گھناؤنے چہرے دکھاے گے ہیں یہ کہانیاں صرف رومانوی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی سنگدلی بے حسی اور ذیادیتیوں کی داستاں پر مبنی ہیں اور ان کہانیوں کو آپی ایک دائرے میں رہ کر بیان نہیں کرتیں بلکہ مذہب جیسے حساس موغوع پر بھی طبع آزمائی کرتی ہیں اور نشہ کی لعنت پر بھی روشنی ڈالتی نظر آتی ہیں ان کے پس منظر میں ہمیں کشمیر کے پیر چناسی کا حسن دکھائی دیتا ہے تو کبھی پاکستان سے باہر نیویارک، پیرس اور سڈنی جیسے شہروں کی بھی رنگینیاں پڑھنے کو ملتی ہیں۔

میں نہیں جانتی میں اپنے قلم سے اس شاندار کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار صحیح سے بیان کر پائی ہوں کہ نہیں جو اردو ادب خاص کر رومانوی کہانیوں کے شوقین خواتین و حضرات کیلے شاندار اضافہ ہے۔ میں آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ مجھ جیسی رومانوی کہانیاں نہ پڑھنے والی لڑکی پر بھی آپی اگر اپنے قلم سے گہرا اثر چھوڑ سکتی ہیں تو یقیناً آپ بھی اس کتاب کو پڑھ کر اس کے جادو کے سحر میں کھو جائیں گے اور آپ کا تجربہ بھی میری طرح بہت شاندار رہے گا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

میں امید کرتی ہوں جلد ہمیں آپی کے قلم سے مکمل ناول پڑھنے کی سعادت حاصل ہوگی۔ اللہ پاک میری آپی کو مزید کامیابیوں و کامرانی سے نوازے آمین۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •