کامیابی آپ کی تقدیر میں نہیں لکھی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پابندی تقدیر کہ پابندی احکام

یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مرد خرد مند

اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر

ہے اس کا مقلد ابھی ناخوش ابھی خورسند

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات

مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

(علامہ اقبال )

دنیا کے تمام لوگ، بلا تفریق مذہب و ملت، تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ یقین کسی کے یہاں ایمان کا درجہ رکھتی ہے اور کوئی بس یوں ہی یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ تقدیر کی کارفرمائی ہے۔ تقدیر پہ یقین رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ پہلے سے لکھا ہوا تھا اور مستقبل میں جو کچھ ہوگا وہ بھی لکھا جا چکا ہے۔ ہم نے لوگوں کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنا ہے ”ہونی کو کون ٹال سکتا ہے“۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ قدرت نے سب کچھ طئے کر دیا ہے اور دنیا کا ہر عمل اسی طئے شدہ نظام کے مطابق ہو رہا ہے۔

اس کو کوئی بھی بدل نہیں سکتا۔ بحیثیت مسلمان تقدیر کو ماننا ہمارے لیے فرض ہے۔ اگر تقدیر پر ہمارا ایمان نہیں ہے تو ہم مسلمان نہیں ہیں۔ تقدیر پہ ہمارا ایمان اس قدر مضبوط ہے کہ ہم یہ کہتے نہیں تھکتے ”جو ہماری قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور ملے گا“۔ میں آپ کو بتاوں کہ یہ جملہ دنیا کا سب سے زیادہ تباہ کن جملہ ہے۔ اس جملے نے ہزاروں اور لاکھوں نوجوان بچوں کو سست اور کاہل بنایا ہے۔ ہم نے اپنی اسی سوچ کی وجہ سے محنت کرنا چھوڑ دیا۔

ہم نے جستجو کے چراغ کو نصیب کی پھونک سے بجھا دیا۔ ہمارے سامنے قسمت کو اتنے غلط انداز میں اور پاورفل بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ ہم نے کبھی عمل کی طاقت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ قران و حدیث میں ہمیں صرف اس بات کا حکم ملا ہے کہ ہم تقدیر پہ ایمان رکھیں۔ ہم تقدیر کے نہیں بلکہ احکام شرع کے مکلف ہیں۔ ہماری تقدیر میں کامیابی لکھی ہے یا ناکامی اس کا علم کسی مخلوق کے پاس نہیں ہے۔ یہ علم خالق کائنات کے پاس ہے کہ اس نے کس کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔

اللہ نے قران پاک میں یہ کہیں پر نہیں کہا کہ تم تقدیر پہ ایمان رکھو تم کامیاب ہو جاوگے۔ تقدیر پر ایمان رکھنے سے ہماری اخروی زندگی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ اس کے لیے عمل کرنا ضروری ہے۔ قران میں یہ لکھا گیا ہے کہ اللہ نیک لوگوں کے اعمال کو ضائع نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آخرت کے دن وہی انسان شاد و کامران ہوگا جس نے نیک اعمال کیے ہو نگے۔

دنیاوی زندگی میں کامیابی کا واحد طریقہ محنت و مشقت ہے۔ کامیابی کے لیے عمل پر یقین رکھنا ضروری ہے اور ایسا کرنا کوئی غیر مذہبی عمل بھی نہیں۔ قران میں صاف لفظوں میں کہا گیا ہے ”و ان لیس للانسان الا ما سعی“۔ یعنی انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشس کرتا ہے۔ آپ تقدیر پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں اس سے آپ کی کامیابی اور ناکامی کا کوئی سروکار نہیں۔ آپ نے کوشش نہیں کی توآپ کو کامیابی نہیں مل سکتی۔ کوشش نہ کرنے کی وجہ سے ناکامی آپ کی تقدیر بنتی ہے۔

یہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ در اصل میری تقدیر میں کامیابی لکھی ہی نہیں تھی اس لیے نہیں ملی۔ آپ کو کہنا چاہیے کہ ہم نے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اس لیے ہم ناکام رہے۔ آپ نے یہ عزم مصمم کیا کہ آپ کو اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ہے۔ آپ اس کے حصول میں تن من سے جٹ جاتے ہیں۔ کچھ سال بعد آپ اپنی محنت و لگن سے اپنے ہدف کو پا لیتے ہیں۔ محنت کے بعد آپ جو چیز حاصل کرتے ہیں وہ در اصل آپ کی محنت کا پھل ہوتا ہے اور وہی تقدیر بھی۔ اس کو دوسرے لفظوں میں ایسے بھی لکھا جا سکتا ہے کہ کوشش کے بعد کامیابی انسان کا مقدر ہوجاتی ہے۔

ہمارے مسلم سماج میں تقدیر کو لے کر بہت گمراہی اور جہالت ہے۔ خاص کر نوجوان نسل قسمت اور تقدیر کو سمجھنے میں ناکام بھی ہے اور پریشان بھی۔ اس میں ان کی غلطی بھی نہیں ہے۔ ہمارے علماء نے اپنے بیانوں میں تقدیر کا صحیح مفہوم پیش ہی نہیں کیا۔ عام طور پر تقدیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ دی جاتی ہے کہ اللہ نے سب کچھ پہلے سے لکھ دیا ہے۔ آپ کو وہی ملے گا جو آپ کی قسمت میں لکھا ہے۔

آپ کچھ بھی کر لیں آپ کو وہی ملے گا جو آپ کی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ یہ بات سچ ہے لیکن تقدیر کی یہ مکمل توضیح و تشریح نہیں ہے۔ اس تشریح سے ہمارے اور آپ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب سب کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے تو انسان کے عمل سے لکھے ہوئے فیصلے پر کیا فرق پڑے گا۔ تقدیر کی یہ توضیح کسی بھی انسان کو عمل کی طرف راغب نہیں کرتی۔ یہ تعریف سن کر کوئی بھی انسان کسی بھی چیز کے لیے کوشش نہیں کرے گا۔

وہ کہے گا کہ جب سب کچھ لکھا ہوا ہے تو اس کے لیے دوڑ بھاگ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس چیز کو پانے کے لیے خون پسینہ کیوں بہانا جو ہمیں ملے گی یا نہیں وہ پہلے سے طئے کیا ہوا ہے؟ بہتر ہے کہ انسان گھر بیٹھ جائے اور تقدیر کا کھیل سکون سے دیکھے۔ میں پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی تقدیر آپ کو کچھ نہیں دیگی۔ آخر میں کچھ ہاتھ نہ آنا ہی در اصل آپ کی تقدیر ہوگی۔

ایک تقدیر پرست دوست سے گفتگو کے دوران میں نے ان سے یہ کہا کہ کامیابی آپ کی تقدیر میں نہیں لکھی ہے۔ انہوں نے برہم ہو کر یہ سوال کیا کہ تقدیر کا معاملہ علم غیب سے ہے کیا آپ غیب کا علم رکھتے ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ در اصل آپ کوشش نہیں کرتے اس لیے ایک دن ناکامی آپ کی تقدیر بن کر آپ کے سامنے کھڑی ہو جائے گی۔

تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ خالق تقدیر نے سب کچھ لکھ دیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس دنیا میں ہر کام کا واقع ہونا پہلے سے طئے ہے۔ جی بالکل تقدیر کا یہی مطلب ہے۔ لیکن اس میں ایسا کیا ہے کہ انسان کوشش چھوڑ دے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ تقدیر کے باب میں اللہ نے کسی بندے کا نام لے کر نہیں کہا کہ اس نے فلاں کی قسمت میں ناکامی لکھ دی ہے۔ تقدیر تو علم الہی کا نام ہے اور اللہ کے علم میں کیا ہے اسے انسان معلوم نہیں کر سکتا۔

انسان کو بس یہ یقین رکھنا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہوگا وہ اللہ کے علم میں ہے۔ ہماری کامیابی اور ناکامی کا علم بھی صرف اسی کے پاس ہے۔ اس کے علم میں کیا ہے ہم اس کی کھوج نہیں کر سکتے۔ اس نے ہم سے یہ کہا کہ تم کوشش کرو کیونکہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ تقدیر کا تعلق علم غیب سے ہے تو پھر اس علم کو کام میں کیوں نہ لا جائے جو ہمارے پاس ”و ان لیس للانسان الا ما سعی“ کی شکل میں موجود ہے۔ تقدیر کی اس تعریف کے بعد کامیابی کے لیے ہمارے پاس اپنی بہترین صلاحیتوں اور تدبیروں کے استعمال کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں