آگسٹ لینڈمیسر: فسطائیت، یہودی لڑکی سے محبت اور دو حرامی بیٹیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرانز کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے اس کو وہ ناز و نعم بھی میسر تھے جو ہیمبرگ کے دوسرے بچوں کے لئے محض حسرت تھے۔ جو چیز اسے پسند آجاتی اس کی ضد اس چیز کو اس کے مقابل لا کھڑا کر دیتی۔ اسے جس کام سے روکاجاتا وہ اس کے لئے کچھ اور جذباتی ہو جاتا۔ اس نے اپنے باپ کی پابندیوں کی پرواہ کبھی نہیں کی سوائے کچھ مخصوص بچوں کے ساتھ کھیلنے کی پابندی کے۔ بچپن سے اسے آریاؤں کی نسلی برتری اور فضیلت کے بارے بتایا جاتا رہا، اس کو اپنے جرمن ہونے پر فخر کرنا سکھایا جاتا رہا اور وہ سیکھتا رہا۔

جب وہ جوان ہوا تو اسے احساس ہوا کہ دنیا کی بہت سی چیزیں نہ اس کے باپ آگسٹ فرانز کی دسترس میں ہیں نہ ہی اس کی ضد میں اتنی قوت ہے کہ وہ ہر پسندیدہ چیز اس کے مقابل لا کھڑی کرے۔ اس کو زندگی کی حقیقت اور حقیقی مشکلات کا احساس ہوا اور حالات کے تھپیڑوں نے اسے سمجھوتا کرنا سکھا دیا۔ اس نے سیکھ لیا کہ نازی جرمنی میں رہنا ہے تو نازیوں کے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔

1931 میں آگسٹ لینڈمیسر نے ہیمبرگ کی نازی پارٹی کی رکنیت حاصل کر لی، اس وقت اس کی عمر 21 سال تھی۔ نازی پارٹی جوائن کرتے ہی اس کو ہیمبرگ کی مشہور زمانہ جنگی بحری جہاز بنانے والی کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ یہ اس کی زندگی کا ایسا موقع تھا جہاں وہ اپنے لئے اپنے مستقبل کو ڈیزائن کر سکتا تھا۔ اسے کچھ خاص کرنا تھا، اسے سب سے الگ دکھنا تھا۔ اس کو پہلا قدم اٹھانے کے لئے موقع کی تلاش تھی جو قدرت نے مسکراتے ہوئے پہلی نوکری کی صورت میں اسے دے دیا۔

آگسٹ کو نازی پارٹی کے نظریات یا سیاست سے اگر کوئی دلچسپی تھی بھی تو وہ ارما ایکلر کے بلا خیز حسن کی چکا چوند نے معدوم کر دی تھی۔ ارما ہیمبرگ کے ایک معمولی یہودی خاندان کی غیر معمولی طور پر حسین دوشیزہ تھی، نوکری ملنے کے کچھ عرصہ بعد ہی اس کی ارما سے ملاقات ہو گئی اور اسی ملاقات میں روز روز کی ملاقاتوں کی بنا رکھ دی گئی۔ شام کے دھندلکے میں بلیو نن کی چسکیاں لگاتے ہوئے وہ کب ایک دوسرے کی ذات میں کھو گئے انہیں پتا ہی نہ چلا، ہوش تو تب آیا جب ارما کے سینے میں اٹھنے والے جذبات کے طوفان میں وہ اپنی آریائی ناؤ ڈبو کر کسی انجان ساحل سے آلگا تھا۔ اسے احساس تھا کہ یہ سب بہت خطرناک ہے، ایسے وقت میں کہ جب جرمن معاشرہ بے جا نسلی تکبر کی آگ میں دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی پسلیاں بھی جلانے کو تیار ہے، ایک عظیم تر جرمن سپوت کا ایک نیچ یہودی لڑکی سے تعلق کوئی بھی برداشت نہیں کرے گا۔

جیسے ہی یہ محبت پک کر عشق بنی اس کی مشک ان کے آس پاس موجود لوگوں نے سونگھ لی۔ ہمدردوں نے پیار اور نازی پارٹی کے ساتھیوں نے قانون اور معاشرے کے ردعمل سے ڈرا کر ان دونوں کے سینوں میں بھڑکتی آگ پر اپنے اپنے حصے کے چھینٹے پھینکے مگر یہ آگ تو بجھنے کے لئے لگتی ہی نہیں! جب ان دونوں کی محبت کا عملی ثبوت ارما کے پھولتے ہوئے رحم کی صورت میں ظاہر ہونے لگا تو انہوں نے معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باقاعدہ شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر یہاں قانون آڑے آگیا اور ان کی شادی کی درخواست رد کر دی گئی کیونکہ ارما ایک نیچ یہودی تھی، وہ آرین سپوت تھا اور جرمنی 1935 کا جرمنی تھا، اسی عرصے میں نازی پارٹی نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے لینڈمیسر کی پارٹی رکنیت ختم کر دی۔

وہ جوں جوں ارما کے عشق میں ڈوبتا جاتا اسے ایڈولف ہٹلر اور نازی پارٹی کے نظریات سے نفرت ہوتی جاتی۔ اپنے تخم پر اس طرح کا بے جا غرور اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ ایک جیسے ہاتھ پیر، ایک ہی سی دماغی صلاحتیں رکھنے والے، ایک زبان بولنے والے اور ایک ہے خطے میں بسنے والے انسانوں کی اس نسلی تقسیم نے اس کے دماغ کو ہر قسم کے ردعمل کے لئے تیار کر دیا۔

یہی وجہ تھی کے 1936 کے نازی پارٹی کے جلسہ عام میں جہاں مجمع میں شامل اس کے ساتھی ورکروں کے ساتھ سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے ایڈولف ہٹلر کو مخصوص نازی سیلوٹ کیا تو آگسٹ لینڈمیسر وہ واحد شخص تھا جس کے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر بندھے رہے۔ محبت کا یہ احتجاج فطرت نے کیمرے کی آنکھ کے ذریعے محفوظ کر لیا، اور گوگل گواہ ہے کہ لینڈ میسر کی سب سے الگ دکھنے والی خواہش بدرجہ اتم پوری ہوئی۔

واضح مخالفت اور سخت ترین سزا کہ خوف کہ باوجود ان دونوں کی محبت پروان چڑھتی رہی، وہ معاشرے اور قانون کی نظر میں ایک ناجائز رشتہ نبھاتے رہے یہاں تک کے انہوں نے معاشرے کے ناتواں کندھوں پر دو ناجائز بیٹیوں کا بوجھ لاد دیا، مگر انہیں اس کی پاداش میں مرنا پڑا کہ یہی کم سے کم سزا تھی جو قسمت نے مسکراتے ہوئے تجویز کی۔

جولَائی 1938 کو آگسٹ لینڈمیسر کو نیورمبرگ قوانین کی خلاف ورزی پر ڈھائی سال کی قید سنا دی گئی۔ اس کے حراستی کیمپ میں جانے کے بعد اس کی ناجائز بیوی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ارما ایکلر کو گسٹاپو نے جب گرفتار کیا تو وہ حمل سے تھی اس نے اپنی دوسری ناجائز بیٹی کو حراستی کیمپ میں جنم دیا۔ جب ارما کو 14000 دیگر یہودی خواتین کے ہمراہ گیس چیمبرز کی نذر کیا جا رہا تھا، تو اپریل 1942 کا سورج افق پر بادلوں سے آنکھ مچولی کر رہا تھا۔

لینڈمیسر کو سزا کاٹنے کے بعد جرمن فوج میں جبری بھرتی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھرتی کے بعد اس کو ایسے مشن پر ہانک دیا گیا جہاں سے زندہ واپسی غیر متوقع تھی، کہ اس جیسے خطرناک مجرم کے لئے یہ کم سے کم سزا تھی۔

کچھ منچلے جرمن فوجوں کی اتحادیوں کے ہاتھوں زبردست شکست کا اعزاز اتحادیوں کی بجائے اس جوڑے کے سر باندھتے ہیں۔ 1951 کے بدلے ہوئیے ہیمبرگ کی بدلی ہوئی سینیٹ نے آگسٹ لینڈمیسر اور ارما ایکلر کے تعلق کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کی شادی کو تسلیم کر لیا۔ یوں قدرت نے دونوں حرامی لڑکیوں کو مسکراتے ہوئی حلالی قرار دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی نثار اعوان کی دیگر تحریریں
علی نثار اعوان کی دیگر تحریریں