صلاح الدین کا ٹائم آ گیا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کی کئی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ ان ویڈیوز میں تشدد کے ثبوت دیکھ کر اور صلاح الدین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد جس میں لکھا گیا ہے کہ اس پر تشدد کیا گیا تھا، ہمیں محکمہ پولیس کے وہ افسر بہت یاد آ رہے ہیں جنہوں نے بڑے اطمینان سے فرمایا تھا کہ ملزم پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو بھی جعلی قرار دیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ہو گا۔ کیا ان پولیس افسر کو غلط بیانی اور دیدہ دلیری سے قوم کو گمراہ کرنے کے جرم میں ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا جائے گا؟ کیا وہ پولیس والے جنہوں نے صلاح الدین پر بد ترین تشدد کیا تھا انہیں اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑے گی؟ کیا پنجاب میں رونما ہونے والے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ پنجاب استعفیٰ دے دیں گے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ’موت کا ایک دن معین ہے‘ صلاح الدین کی موت کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا ٹائم آ گیا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے چند دن پیشتر کراچی میں چودہ پندرہ سالہ لڑکا ریحان جان کی بازی ہار گیا تھا۔ جس کی شرٹ پر لکھا تھا ’اپنا ٹائم آئے گا‘ ۔ ظاہر ہے اس کی موت کی وجہ بھی سرمایہ دار نوجوانوں کا تشدد نہیں تھا۔ اس کی موت آئی تھی اور وہ مر گیا۔ بعینہ صلاح الدین کی موت کا وقت بھی آ گیا تھا۔ پولیس تو ایک بہانہ بن گئی۔

صلاح الدین ایک ویڈیو میں پولیس والوں سے پانی مانگتا نظر آتا ہے، ایک میں کتے کی طرح بھونک کر دکھاتا ہے اور ایک ویڈیو میں سوال کرتا ہے کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ پولیس کے اعلیٰ افسران اس حوالے سے یہ ممکنہ جوابات دے سکتے ہیں کہ جب انسان زندہ ہو تو اسے پیاس بھی لگتی ہے، چوں کہ صلاح الدین اس وقت زندہ تھا اس لیے اسے پیاس لگی اور اس نے پانی مانگا یعنی ثابت ہوتا ہے کہ جس وقت ویڈیو بنائی گئی اس وقت تک وہ زندہ تھا۔

کتے کی طرح بھونک کر وہ وزیرِاعظم کی توجہ حاصل کرنا چاہتا تھا کیوں کہ اسے کسی نے بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم انسانوں سے بڑھ کر کتوں سے پیار کرتے ہیں اور ان کے آنسو دیکھ کر شدید بے قرار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وزیرِاعظم کے جذبات سے کھیلنا بھی ایک جُرم ہے۔ وزیراعظم کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کی مصروفیات اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کبھی قطر، کبھی چین اور کبھی سعودیہ میں ہوتے ہیں اور جن دنوں پاکستان میں ہوں انہیں باقاعدگی سے ٹی وی بھی دیکھنا پڑتا ہے۔

جس طرح جمشید بادشاہ کا پیالہ مشہور ہے جس میں وہ شراب پیا کرتا تھا لیکن اس کی ایک خاص خوبی اور بھی تھی۔ جامِ جم میں وہ اپنے ملک میں ہونے والے کسی بھی واقعے کو دیکھ لیتا تھا۔ نئے پاکستان میں شراب جیسی خرافات کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے وگرنہ وہ بھی ایک ایسا پیالہ خرید لیتے۔ وزیرِاعظم کو ساری خبریں ٹی وی سے ملتی ہیں ان کے لیے ٹی وی ہی جامِ جم ہے۔ جیسے انہیں گذشتہ دنوں یہ خبر ملی کہ ان کے دستخط شدہ نوٹیفیکیشن کی توثیق کرتے ہوئے صدرِمملکت نے سرمایہ داروں کے قریباً تین سو ارب روپے معاف کر دیے جبکہ ملک بد ترین معاشی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ وزیراعظم نے خبر سنتے ہی واقعے کا سخت نوٹس لیا اور مشہورِ زمانہ یو ٹرن لیتے ہوئے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔ کسی سیانے نے اسی لیے کہا تھا کہ یو ٹرن تو اچھے ہوتے ہیں۔

صلاح الدین کے بارے میں بھی انہیں ٹی وی سے پتا چل چکا ہو گا۔ امید ہے کہ جلد ہی وہ ایک پریس کانفرنس کر کے پاکستانیوں کو بتائیں گے کہ جس کا ٹائم آ جائے اسے پولیس بچا سکتی ہے نہ ڈاکٹر۔ پولیس اسے مہمان بنا کر لائی مگر موت اسے چھین لے گئی۔ ابھی تو پولیس کے خاطر مدارات کے ارمان بھی پورے نہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ یقیناً اس عزم کا اعادہ بھی کریں گے کہ وہ چوروں ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑیں گے اور این آر او نہیں دیں گے۔

صلاح الدین نے پولیس والوں سے یہ بھی پوچھا تھا کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟ یہ سوال بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسے پولیس والوں سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ محض جنرل نالج کے لیے یہ سوال کر رہا تھا۔ اگر پولیس نے اس پر بد ترین تشدد کیا ہوتا تو وہ چیخنے چلانے کے سوا کوئی آواز نکالنے کی سکت نہ رکھ سکتا تھا۔ یہ کون نہیں جاننا چاہتا کہ پولیس والوں کے پاس ایسے کون سے انوکھے طریقے ہیں کہ بندہ اذیت کی آخری حدوں کو چھو لیتا ہے لیکن اس کے زخم کسی کو نظر نہیں آتے۔

جلے ہوئے کا نشان تو کبھی نہیں مٹتا لیکن پولیس کے ہاتھوں جلنے والے کے جسم پر نشان بھی کسی کو نظر نہیں آتے۔ ایسے میں اگر اس نے یہ سوال کیا تھا تو بے جا نہیں کیا تھا۔ یہ سوال اس بات کی دلیل بھی ہے کہ وہ اپنی موت آپ مر گیا تھا۔ پولیس والوں کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ وہ اشرافیہ میں سے تو تھا نہیں وہ ایک عام سا آدمی تھا۔ بڑے لوگ ایسے نہیں مرا کرتے اورعام آدمی تو اچانک ہی کسی روز مر جاتا ہے جیسے کسی بڑے آدمی کے جوتے تلے کوئی کیڑا کچلا جاتا ہے۔ پس اس کا ٹائم آ گیا تھا اور وہ مر گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •