تشددکی نفسیات اور ہمارا سماج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تشدد ایک ایسا رویہ یے جس میں نفرت یا غصے کے جذبے سے مغلوب ہو کے وکٹم کو اذیت پہنچائی جاتی یے۔ یہ رویہ ایک طرح کا ردعمل ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یہ وجوہات فرد کی ذہنی، جذباتی، ذاتی تجربے کی بنیاد پہ بھی ہو سکتی ہیں اور سماج سے منسلک بیرونی عوامل بھی ان کا باعث ہو سکتے ہیں۔

کسی فرد کا سماج میں رتبہ، اسے معاشرے کی طرف سے ملنے والی عزت و احترام، یا معاشرے کا اس سے رویہ فرد کی نفسیات کی ڈیولپمنٹ میں خاطر خواہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسا سماج جس میں افراد کو بنیادی ضروریات زندگی، تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں ایک سلجھا ہوا اور ذمہ دار معاشرہ ہوتا ہے، ان افراد میں شہری شعور موجود ہوتا ہے اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض سے آگاہ ہوتے ہیں اسی وجہ سے ان میں ہمدردی اور محبت کا جذبہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لیے بھی پایا جاتا ہے۔

ایک ایسا سماج جس میں انسانی حقوق موجود نہ ہوں، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوں، انہیں بنیادی حقوق حاصل نہ ہوں، بے چینی کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے میں ایک مخصوص رویہ پایا جاتا ہے۔ جس میں لوگ اپنے سے زیادہ با اختیار اور رتبے والے افراد کی عزت کرتے ہیں اور خود سے رتبے میں کم اور کمزور طبقے پہ حاکمیت کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے اپنی ذات منوانے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے اختیارکردہ رویہ ہے۔ ایسا معاشرہ متشدد ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں کسی ظلم یا زیادتی حتی کہ چھوٹی موٹی باتوں پہ بھی شدید غصے کا ردعمل دیکھنے میں آتا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ پہلو یہ یے کہ اگر جس شخص پہ غصہ ہے اور وہ سماجی رتبے سے، طاقت میں یا ویسے ہی کسی بھی لحاظ سے کمزور ہے تو اسے شدید ایذا پہنچائی جائے لیکن اگر برتر، طاقتور ہے اور بلند مرتبہ ہے تو اس کے غلط کو بھی صحیح کہا جا ائے۔ یہ رویہ عمومی رویہ بن جاتا ہے۔ فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر ہجوم کی صورت تک ایسے انتقام پہ مبنی ظلم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسانیت سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

ہمارا معاشرہ اسی پرتشدد راہ پہ ہے۔ ڈنڈے والا یا طاقت والا اپنی حاکمیت منوا کے ہی رہتا ہے۔ آئے روز تشدد کے واقعات اسی رویے کے عکاس ہیں۔ کراچی میں کم عمر ریحان کو تذلیل و تشدد کرکے مارنے والے یا ذہنی معذور صلاح الدین تشدد سے موت کے گھاٹ اتارنے والے پولیس اہلکار ہم آپ میں سے ہی ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا غصہ دلوں میں لیے گھومتے ہیں اور اس کے بدلے کا موقع ملنے پہ ہرحد کراس کر جاتے ہیں۔ سماج کے یہ لوگ اپنی محرومیوں، عدم تحفظ، معاشی و شناختی بحران، بے وقعتی کے احساس سے لتھڑے ہوئے ہیں۔

جو بخوبی جانتے ہیں کہ انصاف محض ایک لفظ ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اپنی محرومیوں کا بدلہ اپنے غصے کا اظہار جہاں موقع ملے کر دو، ۔ اپنے من کا بوجھ ہلکا کرو چاہے کسی کی جان جائے۔ یوں بھی کمزور کی زندگی کی وقعت ہی کیا ہے۔ ایک نفسیاتی بحران کے شکار معاشرے سے ہم کسی ایجاد، دریافت، نئی سوچ کی توقع نہیں کر سکتے، توقع کر سکتے ہیں تو کٹی، پھٹی تشدد ذدہ لاشوں کی، ان پہ چار دن نوحہ کرنے اور واویلا کرنے کی، اورپھر سب بھول جانے کی جب تک کہ ایک نیا واقعہ نہ ہو مار دو، جلا دو، ذلیل کر دو کا شور بلندنہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •