پاکستان، اسرائیل تعلقات؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بننے کے بعد بھارت نے ’اکھنڈ بھارت‘ کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بعداس نے فخر سے کہا کہ ’دو قومی نظریہ‘ کو دریا برد کردیا ’۔ جناح ؒ کو پہلے ہی کرم خوردہ پاکستان ملا تھا۔ اس دوران اسرائیل بھی عربوں کو شکست دے چکا تھا۔ اب بھارت و اسرائیل مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کو آگے بڑھانے لگے۔ سوویت یونین پاکستان کی سرحدوں تک پہنچ گیا۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے جن طالبان نے سرخ ریچھ کے خلاف جہاد کرکے اپنے وطن سے نکالا تھا، آج وہی سرخ ریچھ، امریکا کو ضمانت دے رہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کی سرزمین، ”دہشت گردی“ کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔

ایران جن سے افغان طالبان کے تعلقات بدترین تھے۔ خمینی انقلاب کے بعد افغانستان میں ایران اور امارات اسلامیہ افغانستان کے درمیان شدید تلخی، تناؤ اور جنگ رہتی تھی۔ دنیا نے دیکھا کہ اب ایران، افغان طالبان کا سب سے بڑا اتحادی ہے اورافغان طالبان کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ افغان طالبان، امریکا کے مخالف تھے، اور ایران، امریکا کا خمینی انقلاب کے بعد ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تھے اس لئے تمام ترجیحات تبدیل ہوگئیں۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف تھے، لیکن ایران کی مخالفت کی وجہ سے انہوں نے اسرائیل کو قریب کرلیا۔ ترکی اب بھی اسرائیل سے اپنی سیکورٹی فورسز کے ہتھیار خریدتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل 40 برس سے زائد عرصے سے پاکستان سے قریبی و سفارتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ و سلامتی کونسل میں دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے امریکا کے سفارت خانے یروشلم منتقل کیے جانے پر ووٹ دیا۔ لیکن اس سے اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی پرواہ نہیں کی۔

پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کیں ہیں۔ بھارت جیسے ازلی دشمن سے مذاکرات و دوستی کی مخدوش راہ کو ہموار کرنا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ اسی طرح فلسطین بھی تنازعے کا سبب ہے۔ دونوں مقبوضہ علاقوں میں کئی معاملات میں مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔

پاکستان مقبوضہ کشمیر میں تمام تر زیادتی، ظلم و جبر کے باوجود خطے میں جنگ نہیں چاہتا۔ وزیر اعظم پاکستان بار ہا کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتے کیونکہ جنگ شروع تو کی جاسکتی ہے لیکن ختم کب ہوگی کسی کو نہیں علم۔ موجودہ حکومت آنے کے بعد کچھ ایسے الزامات تواتر سے لگ رہے ہیں جن کی بازگشت اب عالمی سطح پر بھی سنی جارہی ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان کی وزرات خارجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو واضح کرے۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ پاکستان نے پہلے عرب ممالک سے قریبی تعلقات کی وجہ سے اپنے پڑوسی ملک ایران کو ناراض کیا، اور اب یہ افواہیں بھی آرہی ہیں کہ ایران کے لئے اب عرب ممالک کو ناراض کیا جارہا ہے۔

اسرائیل یہودی ریاست ہے۔ قرآن کریم میں یہود و نصاریٰ کو مسلم امہ کا دوست قرار نہیں دیا گیا۔ پھر سمجھنے کی بات اس میں یہ ہے کہ نصاریٰ کو تو ہم نے دوست بنایا ہوا ہے یہود سے دوری کیوں؟ کیا پاکستان تمام اسلامی ممالک کا غیر اعلانیہ ٹھیکدار ہے جس نے مخالفین کو اپنا دشمن بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ پھر یہود و نصاری کو ایک پلڑے میں کیوں تولا نہیں جاتا۔ جب یہود ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں تو نصاریٰ ہمیں کہاں سے فائدہ دیں گے۔ وہ بھی تو اسلام کے کھلے دشمن ہیں۔

پاکستان داخلی مسائل میں الجھا ہوا بھی اسی وجہ سے ہے۔ یہود، نصاریٰ اور ہنود کی سازشیں اور پراکسی وار پاکستان کو سر اٹھانے کے قابل نہیں رکھنا چاہتے۔ پاکستان کو دو لخت کرنے میں ہنود ہی نہیں، یہود و نصاریٰ نے بھی مکمل حصہ ڈالا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کو عالمی برداری کے علاوہ عرب اسلامی ممالک کی طرز پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم بھی وہی کچھ کررہے ہیں جو عرب و دیگر مسلم اکثریتی ممالک کررہے ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے کھل کر بات کرنی ہوگی۔ کسی مسئلے کو دبانے سے وہ دبتا نہیں بلکہ شدت سے سر اٹھاتا ہے۔ عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے سفارتی تعلقات کی طرح ہمارا چلنا ضروری ہے یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •