صلاح الدین اس کھوکھلے نظام کو منہ چڑا کر چلا گیا مگر کیا یہ آخری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کل ہی کی بات ہے پیٹرول پمپ پر میں پیٹرول بھروانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی، آج ذرا معمول سے زیادہ رش معلوم ہو رہا تھا یا میں جلدی میں تھی؟ خیر میری باری آنے میں ابھی وقت تھا مگر بے چین افراد پیچھے سے ہارن اس طرح دے رہے تھے کہ جیسے میں نے بیچ روڈ پر گاڑی روک دی ہو اور یا تو موبائیل فون پر کسی سے باتوں پر مصروف ہوں یا سگریٹ کے دھوئیں کے چھلے ہوا میں اڑا رہی ہوں۔

خیر میں نے بھی صحافت کا شعبہ اختیار کرنے کے بعد ذرا سی ڈھیٹ ہو گئی ہوں لہٰذا کانوں میں پڑنے والی پی پی پوں پوں کی آواز سے بے خبر کراچی کی سٹرکوں کی بدحالی دیکھ دل ہی دل میں کڑھ رہی تھی کہ ان کا کوئی پرُ سانِ حال نہیں۔ کراچی صرف سیاست کا شکار ہے اب تو کوئی معجزہ ہی ہے جو کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور کچرے کے ڈھیرکو ٹھکانے لگائے۔ اس برس جون میں لاہورجانے کا اتفاق ہواوہاں بہترین نکاسی اور صفائی کے انتظامات دیکھ کر آنکھیں خیرہ رہ گئیں اور نکلی تھی دل سے یہ صدا کہ اے کاش ’کراچی بھی ایسا ہوجائے‘ مگر کراچی میں تو جگہ جگہ کھڑا بارشی پانی اور کچرے کے ڈھیر سندھ حکومت کی لاپروائی اور نا اہلی کو ’منہ چڑا‘ رہے ہیں۔

’منہ چڑا نے‘ سے یاد آیا کہ ابھی پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس میں ایک شخص اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کرکے اے ٹی ایم مشین اور سی سی ٹی وی کو منہ چڑا رہا تھا جس کا نام ملزم صلاح الدین تھا اور جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پرخوب وائرل ہو ئی۔

زیر لب ایک مسکراہٹ آئی اور یہ خیال بھی کہ اس شخص کی ویڈیو دیکھ کر کتنی ہنسی آئی تھی۔ مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ یہ ہنسی بہت جلد خوف، کرب اورغصے میں اس وقت بدل جائے گی جب اس ہی مسخرے کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ کرانسان اور انسانیت کے پر منہ زوردار طمانچہ مارے گی، جس میں ذہنی معذور صلاح الدین کے دونوں ہاتھ کمر کی جانب موڑ کر اس سے اس کا نام، اس کے باپ کانام اور رہائشی علاقہ پوچھ کر منہ چڑانے کا کہا جا رہا تھا۔ اور وہ بے بس، مظلوم، مجبور اور ذہنی معذور شخص اپنی لمبی سی زبان نکال کر دیکھا رہا ہے۔ ہائے ری قمست۔ کیا معلوم تھا اس بے وقوف مریض کو کہ اس کا یہ مزاحیہ انداز اس کی جان لے گا۔

31 اگست کو گرفتار ہونے والے صلاح الدین کی موت کی خبر یکم ستمبر کو شائع ہوئی۔ اس کی موت کے حوالے سے رحیم یار خان کی پولیس کا کہنا تھاکہ ”ملزم صلاح الدین کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور حوالات میں عجیب حرکتیں کرنے لگا جس پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔“ پولیس حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزم طبیعت خراب ہونے کے باعث اسپتال میں انتقال کر گیا۔

کتنی اچھی اسٹوری ہے نا بالکل نقیب اللہ جیسی۔ یاد ہے 13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیرمیں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کیے گئے لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ خیر صحافی کا قلم بھی عجیب ہو تا ہے لکھنے کیا بیٹھتا ہے اور کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کر نے والی خبروں اور ویڈیوز کے مطابق صلاح الدین مرا نہیں، مارا گیا ہے۔ کہتے ہیں وہ پانی مانگ رہا تھا اور پولیس والا اس سے کتے کی آواز نکلنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ بھلا پانی کی پیاس سے کتے کی آواز کا کیا تعلق؟

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہمارے معاشرے میں لوگ اس پولیس گردی کا شکار ہوتے رہیں گے؟ آخر کرپشن کرنے والوں اور ملک کو لوٹنے والوں کو پولیس کی حراست میں ایسا ہارٹ اٹیک کیوں نہیں آتا جس میں ان کی ہتھلی کا گوشت پھٹ جائے، بازو کی بوٹیاں باہر آجائیں، پسلیاں ٹوٹ جائیں، بازو کے پٹھے اور سینے کے اطراف کی جلد کا اوپری حصہ جل کے ختم ہو جائے اورسارے جسم پر نیل پڑ جائیں؟ ان کی حالت کیوں ایسی خراب نہیں ہوتی کہ وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ دیں؟ ان کا ایسا جسمانی ریمانڈ کیوں نہیں لیا جاتا جس میں وہ اعتراف جرم کرکے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں؟

آ خر کب تک ایسا چلتا رہے گا؟ پولیس گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے قبائلی خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسو د، جسے دہشت گرد کہہ کر جان سے مارا گیا۔ انتظار احمد جسے کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں پولیس نے گولیاں مار کے ہلاک کیا تھا۔ زیادہ دور نہیں جاتے ہیں رواں برس جنوری میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے ساہیوال جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر دشت گردوں کی موجودگی کے شبہ میں فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچی اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں سے کچھ یاد ہیں تو کچھ کی شبیہ دماغ میں ہے اور اب یہ صلاح الدین کا تازہ ترین وا قعہ ہوا ہے جس کی ویڈیوز نے دل و دماغ کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ وہ معصوم ذہنی طور پر معذور تھا جسے پولیس نے بہیمانہ تشدد کر کے موت کے گھات اتاردیا اور جس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد ثابت بھی نہیں ہوا! اس کا روتا ہوا باپ انصاف مانگ رہا، بلکتی ہوئی ماں بیٹے کی موت پر ترپ کر کہہ رہی ہے کہ ”سب جانتے تھے کہ صلاح الدین کا بچپن سے ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔“

چلو مان لیا سوشل میڈیا خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے مگر صلاح الدین کی منظر عام پر آنے والی ہر وڈیو سے یہ واضح ہورہا ہے صلاح الدین کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

پولیس کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں مگر ان سوالات کا جواب کیا ہے؟ وہی انکوئری، وہی تاریخ پر تاریخ وہی پیشیاں،وہی ضمانت قبل از گرفتاری یا واقعے کے ٹھنڈا ہونے کے بعد الزامات غلط ثابت ہونے پر با عزت بری؟ آخرکب تک یہ رکھوالے، یہ محافظ اس ہی طرح شک و شبہہ کو بنیاد بنا کر معصوم لوگوں کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بناتے رہیں گے؟

صلاح الدین اس کھوکھلے نظام کو منہ چڑا کر چلا گیا مگر کیا یہ آخری ہے؟ اب کوئی بے گناہ، بے قصور، مظلوم، بے بس اور بے کس شخص پولیس کے ہاتھوں مارانہیں جائے گا؟ کیا حکومتِ پنجاب کی جانب سے ان ظالم پولس والوں کے خلاف ایسی سخت کارروائی کی جائے گی جس کے بعد کوئی بھی کسی مجرم اور ملزم پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے پچاس بار سوچے گا؟ صلاح الدین پیچارا اگر مجرم تھا بھی تو دنیا کا کوئی بھی قانون اس سے ایسا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ درد کی شدت اور کرب سے خود پو چھ اٹھے کہ ”آپ نے یہ مارنا کہا ں سے سیکھا؟“ ذرا سا سوچیں ہم تو صرف ایک شہری کی حیثیت سے یہ ویڈیو دیکھ کے دکھی ہو گئے کیا گزر رہی ہوں گی اس کی ماں پر جس نے اسے جنم دیا، کتنی ازیت ہوئی ہوئی ہوگی بوڑھے باپ کو اپنی اولاد کا لاشہ اٹھاتے ہوئے۔

کہاں گئے وہ عام آدمی تک انصاف کی فراہمی کے دعوے، کہاں گئے اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے وعدے؟ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارہ اور اس ملک کے حمکران ستو پی کے سو رہے ہیں؟ اور صرف ٹوئٹ کرنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں؟ ہم مظلوم کشمیریوں کے حق میں بول رہے ہیں مگر ملک کے اندر کیا ہورہا ہے اسے تو دیکھ لیں اسے تو سدھار لیں۔

حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ان تمام اہلکاروں کوسخت سے سخت سزا دے کر جلد ازجلد کیفر کردار تک پہنچائے کیونکہ اس وقت پورے ملک کی توجہ اپنے کشمیری مظلوم بھائیوں کی طرف ہے اور اس طرح کے اپنے فرض سے غافل اہلکار صرف ملک کے داخلی اور خارجی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی نا کوئی ایسا کارنامہ کر دیتے ہیں جس سے پوری قوم لرز اٹھتی ہے۔

خیر میں اپنی خیالی سوچ کی دنیا میں اتنی جذباتیت سے کھوئی ہوئی تھی کہ میرے کانوں میں ایک زور دار تھپڑکی آواز آئی جس سے میرے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا اور میں نے گردن گاڑی سے نکال کے دیکھا تو مجھ سے آگے والی گاڑی سے اترا ایک لحیم شحیم اور جاندار آدمی چھوٹے سے پیٹرول بھرنے والے لڑکے کو ایک کے بعد ایک تھپڑ رسید کر رہا تھا اور بول رہا تھاکہ ”مجھ سے بد تمیزی کی ہے بولا ہے لاؤ گاڑی کی چابی۔“ لڑکا زاروقطار رو رہا تھا، ہاتھ جوڑ رہا تھا، مگر وہ ایک سننے کو تیار نہیں تھا کہ اس ہی اثنا میں باقی پمپ پر کام کرنے آگے بڑھے تاکہ بیچ بچاؤ کرواسکیں اور وہ وہ دیو قامت موٹی ناک اور نکلی توند والا آدمی ایک ہی سوال کر رہا تھا ”مجھے جانتا نہیں ہے میں کون ہوں؟“ ان کا تو نہیں پتا مگر مجھے معلوم تھا کہ یہ آدمی نہیں ’پولیس اہلکار‘ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •