پورٹو ریکو میں شاپنگ مال پر کشمیر کی بات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرانڈ کناریا پورٹو ریکو میں ایک بہت بڑا شاپنگ مال ہے۔ کل شام ہم وہاں گئے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں بارگینینگ ہو سکتی ہے۔ یعنی بھاؤ تاؤ کر سکتے ہیں۔ خوبصورت چوڑی سڑک کے ایک جانب بڑی سی مارکیٹ اور بیسیوں دکانیں۔ ٹیکسی سے اترتے ہی جس عمارت پر نظر پڑی وہ ایک انڈین ریسٹورینٹ تھا تاج۔ وہاں گاندھی جی اور مدر ٹریسا کی بڑی بڑی تصاویر تھیں۔ چلتے چلتے مینو پر نظر ڈالی۔ چکن تکا مصالحہ، سیخ کباب، پاپڑ، مصالحہ قورمہ وغیرہ۔

باہر کھڑی نیپالی لڑکی نے میٹھی آواز میں اندر آنے کی دعوت دی۔ دل للچایا لیکن پھر وہی بایئکاٹ والا خود سے کیا وعدہ۔ آگے بڑھ گئے۔ ساتھ ہی اٹالین ریسٹورنٹ تھا۔ اس آگے میکسیکن فوڈ۔ سوچا شاید یہیں کہیں کوئی پاکستانی کھانوں کا مرکز بھی ہو۔ لیکن یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ ہمارے تکے کباب اور پراٹھے لذت میں بے مثال ہیں۔ لیکن پھر بھی انڈین فوڈ ہر جگہ جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس کی مارکیٹ بھی ہے۔ ہم یہاں بھی سستی کر گئے۔ یورپ میں کوئی دو چار پاکستانی ریسٹورنٹ ہیں بھی تو وہ انڈین فوڈ کے نام سے چلتے ہیں۔ ہم اپنے کھانے بھی متعارف نہ کرا سکے۔ ایک ترکی فوڈ شاپ نظر آئی۔ ڈونر کباب کی۔

اب دکانوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہلی دکان پر بچوں کے کھلونے وغیرہ دکھائی دیے۔ ایک چینی لڑکی نے خوش آمدید کہا۔ ساتھ ہی اس کے عمر رسیدہ والد تھے۔

” وات آل یو لوکینگ فور مدام“

دکان کی ہر چیز پرکشش تھی۔ آرمان { پوتا} کے لئے سپر ہیروز کی فیگرز خریدیں۔ ماہین { پوتی} چمکیلے فراک پسند کرتی ہے ایک خرید لیا۔ یہاں ہر جگہ جا کر جو پہلا سوال آپ سے کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ”آپ کہاں سے ہیں؟ “ شاید اسی سے وہ حثیت دیکھ کر دام بتاتے ہیں اور آپ کی سیٹیزن شپ جان کر اتنی ہی لفٹ کراتے ہیں۔ یہی کچھ ترکی میں ہمارے ساتھ ہوتا رہا ہے ادایئگی کے وقت لڑکی نے پوچھ ہی لیا۔ اور بتانے پر بولی۔

” مادام میں آپ کو 15 پرسنٹ ڈسکاونٹ دے رہی ہوں کیونکہ ناروے کے لوگ بارگینینگ نہیں کرتے“

ہائے ابھی تو ہم نے ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی کا کوئی حوالہ نہیں دیا شاید ڈسکاونٹ کچھ بڑھ جاتا۔ ۔ شکریہ ادا کر کے آگے بڑھے۔ ایک ہیئر سیلون تھا اور سامنے ہی افریقن خواتین لڑکیوں کی ہیئر بریڈینگ کر رہی تھیں یعنی چوٹیاں بن رہی تھیں۔ سفید فام بچیاں اپنے بلانڈ بالوں میں رنگ برگے موتیوں بھری چٹیاں بنوا رہی تھیں۔ اچھا نظارہ تھا۔

اس سے آگے سپورٹ کی دکان تھی۔ نظر انداز کر کے اور آگے بڑھے۔ یہاں بیگز ہی بیگز تھے۔ یہاں بھی پھرتیلے چینی بھائی تھے۔ گوچی سے لے کر مایئکل کورش اور کوکو شینل سے لے کر لوئس ویتونگ تک۔ قیمت عام سے ایک چوتھائی۔ پر ظاہر ہے یہ دو نمبر مال تھا۔ میڈ ان چائنا۔ سب کھلے عام بک رہا ہے۔ دونمبر مال کی بھی مختلف کالیٹیز ہیں۔ ایک معمولی سی ہے اور ایک قدرے بہتر اور ایک بہت اچھی اصل اور نقل میں تمیز عقل والے ہی کر سکتے ہیں۔ یہاں بھی دل للچایا لیکن ناروے میں بیرون ملک سے نقلی برانڈ کی چیزیں لانا ممنوع ہے۔ اس پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ہم آگے بڑھ گئے۔

ایک جگہ ایک اچھی خاصی عمر کی خاتون کیریکچیر بنا رہیں تھیں۔ ہم نے بھی بنوائے۔ مزا رہا۔

ایک کیمرے کی دکان پر پرویز لپک کر آگے بڑھے۔ انہیں اپنے کیمرا کے لئے مزید لینس خریدنے تھے۔ یہاں بھی ایک خوش اخلاق صاحب نے مطلوبہ چیزیں دکھانے میں مدد کی۔ لینسیز کی رینج اور اس کا زوم کرنے کا طریقہ بڑی وضاحت سے بیان کرنے لگے۔ اب اکتانے کی میری باری تھی۔ میرے لئے تو میرا آئی فون کافی ہے تصویریں لینے کو۔ لیکن پرویز کو فوٹوگرافی کا شوق بھی اور ذوق بھی۔

سیلز مین کی طرف سے آخر کار وہ سوال آ ہی گیا جس کی توقع بھی تھی اور انتظار بھی۔

” سر آپ کہاں سے آئے ہیں؟ “

” ناروے سے“ پرویز نے جواب دیا۔

” اوہ گریٹ۔ میں انڈیا سے ہوں۔ اٹھارہ سال سے یہاں ہوں۔ ابھی تک نیشنیلیٹی نہیں ملی“

” کب تک مل جائے گی؟ “ پرویز نے پوچھا۔

” دس سال رہنے کے بعد آپ اپلائی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد میں ایک ٹسٹ دینا ہوتا ہے اگر پاس ہو جایں تو دو چار سال بعد مل جاتی ہے۔ میں نے ٹسٹ دیا ہوا ہے۔ “ وہ ایک ہی سانس میں بتا گئے۔

میرا دل گھبرایا۔ وہ جو انڈین مصنوعات کا بائکاٹ کا عہد کیا تھا اس کا کیا ہوگا۔ دام لگ گئے۔ ادائیگی ہو رہی ہے۔

پھر سوچا کہ یہ کینن کمپنی کا کیمرا لینس ہے اس کا انڈیا سے کیا تعلق۔ سیلز مین بھارتی ہے تو کیا ہوا۔ پرویز کو بھی اپنی اردو جھاڑنے کا یہی موقعہ ملا۔ وہ گرمجوشی سے بولے۔

” کیا حال ہے جناب آپ کا؟ “

سیلز مین حیرت اور خوشی سے اچھل پڑا۔

” ارے آپ تو ہندی جانتے ہیں۔ بہت بڑھیا۔ افغانستان سے ہیں شاید۔ “

” نہیں میں ایرانی ہوں اور اردو بول رہا ہوں۔ میری بیوی پاکستانی ہیں“ تعارف مکمل ہوا۔

کچھ رسمی باتوں کے بعد آخر میں نے پوچھ ہی لیا۔

” کشمیر کے مدے کو لے کر آپ کے وچار کیا ہیں؟ “ میں نے انہی کی طرح بات کرنے کی کوشش کی۔

” کشمیر کا مدا؟ میرے وچار؟ میرے وچار یہی ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ بہت برا ہو رہا ہے۔ مودی جی بہت گلت کر رہے ہیں۔ یہ بیک فائر کر گا۔ “

” وہ کیسے؟ “

” آپ کیسے ایک پوری جنتا کو دھونس سے اپنا بنا کر رکھ سکتے ہیں؟ آپ تو اپنی بیوی کو بھی جبردستی ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ کشمیری اٹھیں گے اور لڑیں گے۔ پھر بہت کھرابی ہو گی۔ پاکستان بھی چپ چاپ نہیں بیٹھنے کا۔ ویسے آپ کے عمران کھان بہت اچھے سے کام کر رہے ہیں۔ پر جنگ ہو سکتی ہے“

” حل کیا ہے؟ “

” یہی کہ کشمیریوں کو ادھیکار ملے کہ وہ کھد بتایں کیا چاہتے ہیں۔ یوں آشتی کے ساتھ مدا حل ہو جائے“

” یہ تو آپ کی سرکار مانتی نہیں نا“

” انہیں ماننا پڑے گا۔ پوچھنا پڑے گا کی وہ کیا چاہتے ہیں۔ کس کے سنگ رہنا چاہتے ہیں یا اگر آجادی چاہتے ہیں۔ آپ کیسے کسی پر اپنی مرجی لاد سکتے ہیں؟ “

اور میں سوچ میں پڑ گئی کہ ہمارا نعرہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ درست ہے؟ یہ کشمیریوں پر اپنی مرضی ٹھونسے جیسا تو نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •