کاش، ایم ایم عالم یہ سب دیکھ سکتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستمبر 2006 کا پہلا ہفتہ، کراچی میں پی اے ایف بیس فیصل کے گیسٹ روم کا ایک کمرہ، میں اور جمال حسین انتظار میں بیٹھے تھے، خدمتگار کا کہنا تھا کہ صاحب مسجد میں نماز پڑھ کر آتے ہی ہوں گے، میں رشک بھری نظروں سے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا، داخلی دروازے سے لے کر اندر تک کتابیں ہی کتابیں تھیں، سب کی سب انگریزی زبان میں، کارپٹ پر صرف گزرنے کا راستہ تھا، کارنس بھی کتابوں سے بھرا، حتیٰ کہ سنگل بیڈ کا بھی صرف اتنا حصہ خالی کہ سونے کی جگہ تھی، ان کتابوں کے موضوعات میں سٹریٹیجک افیئرز سب سے زیادہ نمایاں تھا، مجھے بار بار اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا تھا اور انتظار میں شدت آ رہی تھی، جمال حسین مجھ سے ہلکی پھلکی گپ شپ کر رہے تھے لیکن میری توجہ کتابوں اور ان کتابوں کے پڑھنے والے کی طرف تھی کہ کب ملاقات ہو۔

آخر انتظار ختم ہوا، دروازہ کھلا، ایک درمیانے سے بھی ذرا چھوٹے قد کا شخص، دبلا پتلا، بالکل سادہ سفید لباس، سر پر موسم کی گرمی کے باوجود گرم گول افغان ٹوپی، داڑھی نہ بہت لمبی نہ بہت چھوٹی، بہت تپاک سے گلے ملے اور جمال حسین صاحب نے کہا، یہ ہیں ایم ایم عالم، پھر میرا تعارف کرایا، یہ ظفر ملک ہیں، جرنلسٹ ہیں، آپ سے ملنے کا انہیں اشتیاق تھا، میں ساتھ لے آیا، مجھے لگا کہ آخری جملہ ایم ایم عالم صاحب کو اچھا نہیں لگا، ان کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے، میری طرف بہت سنجیدگی سے دیکھا اور قدرے سخت لہجے میں بولے، آ گئی میری یاد میڈیا والوں کو، 6 ستمبر جو آ گیا، اب ایم ایم عالم بکے گا، اب یہ مارکیٹنگ کی حکمت عملی ہے کہ یوم دفاع آیا تو ایم ایم عالم کو بیچ کر اشتہار لو، کیا خیال ہے آپ کا، میں بکاؤ چیز ہوں، نہیں دے رہا میں کسی کو انٹرویو، میں نے منع کر دیا ہے، آیا تھا پی ٹی وی سے بھی فون، لیکن میں نے کہا کہ نہیں اس بار کچھ اور بیچ لو، مجھے معافی دے دو۔

میں نے وضاحت کی کہ نہیں سر آپ سے ملنے کا شوق تھا، جمال حسین صاحب نے ذکر کیا کہ آپ سے یہاں ملاقات ہو سکتی ہے تو میں نے ان سے ملوانے کی درخواست کر دی، لیکن ایم ایم عالم کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ان سے ملاقات کوئی بغیر انٹرویو کی درخواست کے بھی کرنے آ سکتا ہے۔

میری بار بار کی یقین دہانی کو انہوں نے مشکل سے ہی قبول کیا، کہ سر میں صرف آپ کا ایک مداح ہوں جو آپ سے ملنے کی خواہش لے کر آیا ہوں۔

پھر جمال حسین صاحب نے موضوع بدلا اور پاک افغان تعلقات کا ذکر چھیڑ دیا، ایم ایم عالم صاحب نے اس قدر سیر حاصل گفتگو کہ میں سنتا اور دیکھتا رہ گیا، انہوں نے امریکی حکمت عملی، روسی عزائم اور حتمی طور پر طالبان کی کامیابی کے بارے میں ایسے دلائل دیے جو چونکا دینے والے تھے، انہوں نے اپنی افغانستان آمد و رفت اور وہاں متحارب قوتوں سے اپنے روابط کا تفصیلی ذکر کیا، وہ چاہتے تھے کی کسی طرح افغان طالبان کو فضائی قوت حاصل ہو جائے تو پانسہ فوری پلٹ سکتا ہے۔

ستمبر 2006 میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں آخری کامیابی افغان طالبان کی ہو گی، امریکا وہاں ٹھہر نہیں سکے گا، امریکا کو جانا ہو گا، انہیں جنرل پرویز مشرف کی افغان پالیسی سے شدید اختلاف تھا، وہ پرویز مشرف کو امریکی پٹھو سمجھتے تھے اور ان کی رائے تھی کہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس میں جنرل پرویز مشرف امریکا کے آگے جھک گئے ہیں اور اس کا پاکستان کو نقصان ہو گا، ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے جہاں بھی گفتگو میں جنرل پرویز مشرف کا ذکر آیا انہوں نے نام نہیں لیا صرف ”ایس او بی“ کہا (یہ مخفف میں نے بنایا ہے، وہ پورا لفظ بولتے تھے ) ۔

آج تیرہ سال گزرنے کے بعد میں افغانستان کی جانب دیکھتا ہوں جہاں امریکا بستر بوریا لپیٹ رہا ہے، افغان طالبان اپنی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں، یہی تھیوری ایم ایم عالم پیش کرتے تھے کہ امریکا اس خطے مین کبھی قدم نہں جما سکتا، بالاآخر اسے نکلنا ہو گا، افغانستان کے معاملات افغانوں کے سپرد کرنے ہوں گے، ستبمر کے ان دنوں میں جہاں تمام میڈیا ادارے ایم ایم عالم کے ہاتھوں 9 بھارتی طیاروں کی تباہی کے کارنامے بیان کر رہے ہیں، تو میں اس جینیئس کو اس کے سٹریٹیجک تجزئیے کی وجہ سے یاد کر رہا ہوں، کاش ایم ایم عالم یہ سب دیکھ سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •