قندیل بلوچ کے قتل پر شریف لوگوں کی گمبھیر سمسیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”وہ راتوں کو دیر تک گھر سے باہر رہتی تھی۔ غیر مردوں کے ساتھ شراب پیتی تھی اور وہ مرد اس کے ساتھ کیا کیا نہیں کرتے ہوں گے۔ قندیل بلوچ تو اپنی مرضی کی زندگی گزار رہی تھی لیکن آپ نے کبھی اس تکلیف کا اندازہ لگایا جس سے اس کے بے چارے بھائی اور والد ہر روز گزرتے ہوں گے۔ کیسے سامنا کرتے ہوں گے وہ ہر صبح اپنے پڑوسیوں کا۔ “

قندیل بلوچ کے قتل کے معاملے پر میرا آرٹیکل جب ”ہم سب“ میں شائع ہوا تو کئی ایک بہت پڑھے لکھے اور حقیقی شریف آدمیوں نے نہایت جذباتی تبصرے انباکس کیے۔ انہیں لڑکی کی قتل ہونے کا افسوس تو ہے لیکن قندیل کے بھائیوں کی تکلیف (بے عزتی) بھی ان سے برداشت نہیں ہو پا رہی۔ یہ کنفیوژن صرف اس لیے کیونکہ ہم کسی عورت کو مرد کی ملکیت کے باہر سوچ ہی نہیں سکتے۔

ایک پاکستانی حقیقی شریف مرد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ”زن، زر، زمین“ کی گردان سنتے اور دیکھتے بڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے عورت گھر کے مردوں کی پراپرٹی ہے، ملکیت ہے، بالکل ایسے ہی جیسے زمین اور مال و دولت۔ اپنی ملکیت کا اپی مرضی کے مطابق استعمال ہمارا حق اور حفاظت ہمارا فرض اور فخر ہے۔

زن، زر اور زمین کی فہرست میں دل، دماغ، جذبات، سکھ اور دکھ کا احساس، پسد نا پسند اور مرضی جیسی انسانی خصوصیات صرف ”زن“ یعنی کہ عورت میں ہیں۔ اور وہ خصوصیات صرف اتنی اور ایسی ہی ہیں جیسی کہ مرد میں ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات کے پیش نظر ہم زبانی کلامی طور پر تو اسے انسان مانتے ہیں لیکن کہیں اندر ابھی تک ہم میں سے ایک بھاری اکثریت نے اس بات کو پوری طرح اپنایا نہیں ہے۔ اس کو اپنانا آسان بھی نہیں ہے کیونکہ سائنس دانوں کے بقول انسان پچھلے بارہ ہزار سال سے ایک پدر سری نظام کے تحت رہ رہا ہے جس میں عورت کی حیثیت ایک برابری کے انسان کی نہیں ہے۔ وہ مرد کی ملکیت ہی ہے۔

ابھی تو حالات کافی بہتر ہیں ورنہ انسانی معاشروں میں ایسے نظام بھی تھے کہ کسی عورت کا ریپ قانوناً بھی کسی مرد کی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے زمرے میں ہی آتا تھا۔ عورت کے ریپ کا متاثرہ شخص ریپ ہونے والی عورت نہیں بلکہ اس کا مرد مالک یعنی باپ، بھائی یا شوہر کو سمجھا جاتا تھا اور اس جرم کی سزا کے طور پر بھی ملکیت رکھنے والے مرد کو ہی کچھ ادائیگی کی جاتی تھی۔ زیادہ تر تو یہ ہوتا کہ ریپ کرنے والا عورت کے مالک کو ”برائیڈ پرائیس“ ادا کر دیتا اور عورت کی ملکیت بدل جاتی یعنی عورت کو ریپ کرنے والے کی ملکیت میں دے دیا جاتا۔ (جیسے آپ نے سڑک پر اپنی گاڑی سے کسی دوسرے کی گاڑی کو ہٹ کر دیا تو اس کو گاڑی کے پیسے دے دیں اور ٹوٹی ہوئی گاڑی آپ کی ملکیت ہو گئی۔ ) اب فرق یہ پڑ گیا ہے کہ جب عورت کا ریپ ہوتا ہے تو قانوناً یہ جرم عورت کے خلاف ہی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اب بھی یہ جرم اس عورت کے مردوں کے خلاف ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ ان کی پراپرٹی ہے۔ اور ایک عورت کے ریپ کا بدلہ ریپ کرنے والے کی عورت کو ریپ کر کے لیا جا سکتا ہے۔ عورت کا ہماری پراپرٹی ہونا ہزاروں سال سے ہماری عادت میں شامل اور یہ عادت جاتے جاتے جائے گی۔

معاشرے کو یہاں تک پہنچتے کہ جہاں ہر بالغ شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہو گا، بہت دیر لگے گی۔ یہ تبھی ہو گا جب عورت ”زن، زر، زمین“ کی لسٹ سے نکلے گی۔ وہ پراپرٹی نہیں ہو گی اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا اس کا حق ہو گا۔ دیر ہے اندھیر نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسا ہو کر رہنا ہے۔

ترقی یافتہ دنیا جہاں عورت کا مقام ہمارے معاشرے کے مقابلے میں آج بہت بہتر ہے، ان کی تاریخ بھی ہم سے مختلف نہیں ہے۔ آج سے سو سال پہلے امریکہ میں عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں تھا اور آج وہ امریکہ کی صدر بن سکتی ہے۔ برطانیہ میں پچاس سال کی جدوجہد کے بعد عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق آج سے نوے سال پہلے ملا تھا آج ووٹ تو کیا وہ برطانیہ کی وزیراعظم بھی بنتی ہے۔

انسانی تاریخ میں یہ بات ہہت مثبت ہے کہ انسانوں کے درمیان تفریق کم ہوتی رہتی ہے اور شخصی آزادیاں بتدریج بڑھتی رہتی ہیں۔ کوتاہ نظر حکمران مذہب یا کلچر کے بہانوں سے اس پروسیس کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ہار انہی کی ہوتی ہے۔ کوئی بھی اس عمل کو روک نہیں سکا۔ سعودی عرب کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے۔

منزل ہماری بھی وہی ہے جہاں سارے انسان برابر ہوں گے۔ ہر اگلی دہائی پہلے سے بہتر ہے اور ہو گی۔

وہ وقت آئے گا جب کوئی قندیل بلوچ اپنے بھائیوں کی ملکیت نہیں ہو گی۔ وہ اپنے اعمال کی خود ذمہ دار ہو گی، اور اس کے بھائیوں کو اس کے اعمال پر پڑوسی طعنے نہیں دیں گے۔ اس طرح سے انسانوں کے قتل کرنے کا ایک اور بہانہ کم ہو جائے گا۔ جیسے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ عورت کے ووٹ ڈالنے کے حق سے گھبراتے تھے اور آج عورت کا الیکشن لڑنے کا حق بھی عام سی بات ہے ایسے ہی کل اس کا مردوں کی ملکیت میں نہ ہونا بھی عام سی بات لگے گا۔ وقت کے دھارے کو کوئی روک نہ پائے گا۔ انسانی شخصی آزادیوں نے ہی فتح یاب ہونا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 217 posts and counting.See all posts by salim-malik