قصہ کار پارکنگ کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اسلام آباد کے ایک مشہور کاروباری مرکز کی پارکنگ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا کسی کا انتظار کررہا تھا۔ گاڑی کے تیز اور مسلسل ہارن نے مجھے باقاعدہ ڈرا ہی دیا۔ اردگرد دیکھا تو ایک خاتون مسلسل ہارن بجائے جارہی تھیں کہ ان کی گاڑی کے پیچھے کوئی گاڑی پارک کرگیا تھا۔

اب وقفے وقفے سے خاتون کی مشق ستم جاری تھی جو اپنا تمام تر ”جائز“ غصہ ہارن پر نکال رہی اور اپنی بے بسی کے مداوے کی کوشش کررہی تھیں۔ اس پاں پاں کی تکرار کو سن کر اردگرد کے دکاندار، ٹیکسی ڈرائیور، ریڑھی بان گاڑی کے اردگرد جمع ہوچکے تھے لیکن جسے وہاں ہونا چاہیے تھا وہ نہیں تھا یعنی غلط پارک کی گئی گاڑی کا ڈرائیور۔ پاس کھڑے لوگ متاثرہ خاتون کو طرح طرح کے مشورے دے کر اس کے غصے میں مزید اضافہ کرتے اور ہارن کی آواز میں مزید شدت آجاتی۔

کوئی بیس منٹ کے اس تماشے اور سمع خراشی کے بعدایک خاتون ہاتھ میں کپڑوں کا تھیلا لئے سامنے کسی درزی کی دکان سے خراماں خراماں برآمد ہوئیں۔ متاثرہ خاتون نے مناسب غصے سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو موصوفہ ہتھے سے اکھڑ گئیں۔ ابھی تو آئی تھی، پارکنگ نہیں تھی تو اور کہاں کھڑی کرتی، پانچ منٹ صبر نہیں ہوتا آپ سے۔ سب سے دلچسپ جواب پہلی خاتون اس بات کا دیا گیا جب پہلی خاتون نے کہا کہ میری بیٹی بیمار ہے مجھے جلدی ہے تو فرمانے لگیں بیٹی بیمار ہے تو گھر بیٹھنا چاہیے، بازار کیا کررہی ہیں۔ حالانکہ متاثرہ خاتون سامنے میڈیکل سٹور سے نکل رہی تھیں۔

کچھ عرصہ پہلے ایف ایٹ کچہری کی پارکنگ میں میرے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے جب ایک ظالم اس ادا سے میری گاڑی کے ہم خرام پارک کرکے غائب ہوگیا تھا کہ میں کوئی آدھے گھنٹے کے لئے بے بسی کی تصویر بنارہا تھا۔

کوئی پچیس منٹ کے بعد ایک نوجوان خراماں خراماں سامنے کی عمارت سے برآمد ہوا۔ میں نے پیار سے میاں صاحبزادے کو سمجھانے کی کوشش کی تو فرمانے لگے میں تو بس ایک کاغذ ہی تو ڈراپ کرنے گیا تھا اور گاڑی میں بیٹھ یہ جا وہ جا۔

چند دن پہلے آئی ایٹ مرکز میں انتظامیہ حرکت میں آئی اور سڑک کنارے کھڑی گاڑیوں کو لفٹر کے ذریعے اٹھایا جانے لگا۔ آئی ایٹ مرکز میں پارکنگ عظیم الشان مسئلہ بن چکی اور چار بڑے بڑے پلازے اس وقت زیر تعمیر ہیں۔ جس دن وہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گئے اس کے بعد کیا بنے گا، سوچ کر ہول اٹھتے ہیں۔ ایک آدھ دن پولیس نے کارروائی ڈالی اب پھر وہی ڈھاک کے بلکہ کاروں کے کئی کئی پات آگے پیچھے، دائیں بائیں۔

اسلام آباد جیسے شہر میں بھی نہ ٹریفک کا کوئی اصول ہے نہ سزا یا جرمانہ۔ ابھی شہر چونکہ دوسرے شہروں کی نسبت کھلا ہے اس لئے محسوس نہیں ہورہا لیکن کچھ برسوں میں شہر اقتدارکے باسی اور انتظامیہ سر پکڑ کے رویا کریں گے۔ لیکن اس میں قصور کس کا ہوگا قانون بنا کر عمل نہ کروانے والوں کا یا عمل نہ کرنے والوں کا؟ حالانکہ دونوں ہی متاثرین بھی ہوں گے اورظالم بھی۔

ڈرائیونگ اور صفائی کے موضوعات پر مسلسل لکھنا چاہتا ہوں کہ ان سے روز متاثر ہوتا اور دوران خون میں اضافہ کرتا اور دانت پیستا ہوں۔ روزانہ بلاناغہ پلان بناتا ہوں کہ اس پر ڈاکومینٹری سیریل بنائی جائے کیونکہ جن کا کام ہے نہ وہ تربیت دے رہے ہیں نہ عام لوگ تربیت لے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •