آٹھ ستمبر: عالمی یوم خواندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

17 نومبر 1965ء کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی جانب سے یہ طے کیا گیا کہ ہر برس 8 ستمبر کو عالمی یوم خواندگی کے طور پر منایا جائے گا۔ یہ دِن منانے کا بنیادی مقصد افراد، گروہوں اور معاشروں کے لیے خواندگی کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ خواندگی ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کی بدولت افراد کمیونٹی میں، کمیونٹی اور معاشرے اقوام میں اور اقوام عالمی برادری میں کوئی موثر اور قابل قدر کردار ادا کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

اس مرتبہ اس دِن کے موقع پر خواندگی اور صحت عامہ کے مابین اہم ترین تعلق پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ چنانچہ خواندگی کے عالمی دِن کے لیے’خواندگی ہی تدارک کی بہترین صورت ہے ‘کا نعرہ تجویز کیا گیا ہے۔

بالغ افراد میں ناخواندگی کی اُونچی شرح آج بھی سنگین ترین عالمی مسائل میں سے ایک ہے۔ قریباً ہر پانچ میں سے ایک فرد ناخواندہ ہے (اس میں دو تہائی تعداد خواتین کی ہے)۔ اِس وقت بھی دُنیا بھر میں 77 کروڑ 40 لاکھ افراد پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ قریباً 7 کروڑ 21 لاکھ بچے سرے سے سکولوں میں داخل ہی نہیں ہوئے جبکہ اس سے بھی کہیں بڑی تعداد ہر برس یا تو سکول چھوڑجاتی ہے یا پھر باقاعدگی سے سکول نہیں جاتی۔

جنوبی و مغربی ایشیا 58.6 فی صد کی شرح کے ساتھ دُنیا میں پست ترین بالغ خواندگی والے خطوں میں شامل ہے جبکہ صحارائی افریقا کے ممالک بھی اپنی59.7 فی صد کی شرح کے ساتھ ہمارے خطے سے بہتر شمار کیے جاتے ہیں۔

دُنیا کے ناخواندہ افراد کی تین چوتھائی تعداد صرف 15 ممالک میں آباد ہے۔ اِن میں بلند ترین آبادی والے 9 ممالک یعنی بنگلہ دیش، برازیل، چین، مصر، بھارت،  انڈونیشیا، نائیجیریا اور پاکستان شامل ہیں۔

دُنیا کے اُن 101 ممالک میں سے 100 فی صد خواندگی کے ہدف سے اب بھی دور ہیں۔ 72 ممالک ایسے ہیں جہاں خواندگی میں اضافے کی موجودہ شرح اگر برقرار رہی تو اُن کے لیے’ ہزاریے کے ترقیاتی اہداف‘ کے تحت ناخواندگی کو مکمل کرنا تو درکنار موجودہ شرح کو نصف تک لانا بھی ناممکن ہو گا۔

پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے محروم افراد اجتماعی زندگی میں مناسب طریقے سے شراکت سے اُسی طرح قاصر رہتے ہیں جس طرح گوناگوں جسمانی معذوریوں کے شکار لوگوں کو زندگی کے روزمرہ معمولات کی ادائیگی میں بھی کئی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ناخواندہ افراد کو جہاں ایک طرف اپنی پوری صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کی اہلیت سے محروم رہ کر زندگی گزارنا پڑتی ہے وہیں پر انھیں ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں دوسروں کا دست نگر رہنا پڑتا ہے۔

کسی ملک کی افرادی قوت ہی اُس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوا کرتی ہے بشرطیکہ یہ سرمایہ صحت مند، چاق چوبند، بہترین عصری تعلیم اور فنون سے مزین اور عالمی رجحانات سے بخوبی آشنا ہو۔ ایسی باشعور اور تعلیم یافتہ افرادی قوت ہی سے تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی سے لے کر زراعت، صنعت و تجارت سمیت معیشت کے سبھی شعبوں اور سب سے بڑھ کرکھیل کود، ثقافت و ادب اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں اعلیٰ کارکردگی کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •