خان کا دیسی مدینہ کوفے سے زیادہ جھوٹا اور کربلا سے زیادہ ظالم نکلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پہ وزیراعظم صاحب کی کرسی پہ بیٹھی تصویر کے پیچھے لگی صلاح الدین کی منہ چِڑاتی فوٹوشاپڈ تصویر دیکھی تو ایسا لگا جیسے صلاح الدین خان صاحب کو کہہ رہا ہو کہ ”پیچھے دیکھو پیچھے، پیچھے تو دیکھو“ لیکن خان صاحب بدستور سب کو نظر انداز کرکے اپنی میں مگن میں ہی لگے ہوئے ہیں۔ صلاح الدین کی منہ چِڑاتی تصویر خان صاحب سے شکوہ کرتی نظر آتی ہے کہ آپ کا مدینہ تو کربلا سے بھی زیادہ ظالم نکلا، میں نے تو اے ٹی ایم سے پیسے ہی چرانے کی جسارت کی تھی اور مجھے اس طرح انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر آپ کی ریاست مدینہ کے محافظوں نے منوں مٹی تلے دبا ڈالا۔

اسلام آباد سے اغوا ہوئے ایس پی طاہر داوڑ ریاست مدینہ کے دارالحکومت سے اغوا ہوتا ہے اور لاش ملتی ہے افغانستان سے، شہید کے بچوں ان کے لواحقین سے وعدے اور دعوے کیے جاتے ہیں کہ اس قتل میں ملوث پوشیدہ ہاتھ سامنے لائے جائیں گے، قاتل قانون کے آہنی ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے انہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے، مگر اہل وطن گواہ ہیں کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کے بیوی بچے ان کے غمزدہ لواحقین آج بھی اپنے پیارے کے قاتلوں کے چہرے دیکھنے کی متمنی ہیں، وہ آج بھی اس انتظار میں ہیں کہ کب ایس پی طاہر داوڑ کے قاتل اپنے انجام کو پہنچیں گے اور ان کی انصاف کے سرگرداں بے چین روح کو قرار نصیب ہوگا۔

آج بھی سانحۂ ساہیوال کے وقوع پذیر ہونے کے بعد خان صاحب نے سانحے کے متاثرین جن میں شہداء کے تین معصوم بچے ان کے والدین ان بھائی بہن و دیگر رشتیداران شامل تھے سے تعزیت کرنے ان کے غمِ عظیم کو بانٹنے ذمے داروں کے تعین اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے احکامات صادر کرنے اور پھر ان کے عملدرآمد ہونے پر نظر رکھنے کے بجائے قطر جانے کو ترجیح دی اور جاتے جاتے فرمایا کہ وہ قطر واپسی پر بہت ہی سخت آہنی ہاتھوں سے ذمے داروں کے خلاف ایکشن لیں گے اور پولیس میں اصلاحات متعارف کروائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے محفوظ رہا جا سکے، اور سانحہ ساہیوال کے شہداء کے بچے اور ان کے لواحقین آج بھی خان صاحب کی قطر سے واپسی کے منتظر ہیں۔

ایک بار پھر خان صاحب کا یہ دعوا بھی ان کے ماضی کے دعوؤں کی طرح محض ہوا میں چھوڑے ہوئے سگریٹ کے ایک کش کی طرح ہی تھا جو اسی وقت ہوا کے ساتھ ہوا ہوگیا۔ بات آئی گئی ہوگئی سانحہ ساہیوال کے متاثرین سے خان صاحب کی ملاقات ہی ایک ڈیڑھ ماہ بعد ہوئی جب مدینہ کی ریاست کے حاکم نے معصوم بچوں اور ان کے سرپرستوں کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہاؤس بلوا کر ان سے تعزیت بھی کی اور (ریاست کی رعایا کے محافظوں کے ہاتھوں ) بے دردی سے قتل کیے گئے بے گناہوں کے خون کی قیمت کا ایک چیک بھی ان کو تھمایا، ساتھ یہ بھی عہد کیا کہ اس سانحے میں ملوث اہلکاروں اور ذمے داروں کو کسی قیمت نہیں چھوڑا جائے گا انہیں ہر صورت نشانِ عبرت بنایا جائے گا، مگر آج اس خونی سانحے کو وقوع پذیر ہوئے آٹھ ماہ ہونے کو آئے ہیں نہ تو پولیس کے اس زنگ آلود نظام کو بدلنے کے لئے اصلاحات لائی گئیں نہ ہی دہشتگرد قرار دے کر ناحق قتل کیے گئے معصوم و بے گناہ میاں بیوی ان کی بیٹی اور ان کے دوست کے قاتلوں کو سزا مل سکی۔

پنجاب پولیس کا گلا سڑا نظام اب تعفن زدہ ہوچکا ہے اور پولیس کے نظام کے اس مردے سے اب بدبو اٹھنے لگی ہے مگر خان صاحب جن کے چودہ نکات میں پولیس میں اصلاحات دوسرا اہم نکتا تھا، آج بھی اپنے کسی نکتے پہ عمل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے ماسوائے اس کے کہ انہوں نے چور پکڑ لئے ہیں اور اب ان سے ہزاروں ارب روپے وصول کر کے وہ اس ملک کی معیشت کے ڈوبتے ٹائٹینک کو بچائیں گے۔

وزیراعظم صاحب نے پولیس میں اصلاحات کے لئے سابق آئی جی خیبرپختونخواہ ناصردرانی صاحب کو پنجاب میں پولیس ریفارمز کمیٹی کا سربراہ بنا کے بونگی ماری تھی کہ جیسے کے پی کے میں پولیس میں مثالی اصلاحات کی ہیں ویسی ہی پنجاب میں بھی کریں گے، مگر درانی صاحب سیاسی مداخلتوں اور خان صاحب کی اپنی عدم توجہی کے بنا پر محض ایک ماہ کے اندر ہی مستعفی ہوکر اپنا دامن بچا کر نکل گئے۔

اس کے بعد تین بار پولیس اصلاحات کے لئے کمیٹیاں بنائی گئیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس وقت پنجاب میں پولیس کے نظام کی حالت یہ ہے کے پولیس کے بدمست طاقت و اختیار کے نشے میں چور اہلکار سڑکوں، گلیوں چوراہوں اور شاہراہوں پہ دندناتے پھرتے ہیں جب چاہے کسی بھی عام غریب، بے بس و بے کس کی چھترول کر دیتے ہہں، کسی کی باریشگی کسی کی بزرگی کا خیال بھی گناہ سمجھتے ہوئے انہیں بھی اپنی وحشت و بدمستی کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔

بھلا ہو اس سوشل میڈیا کی ننگی تلوار کا کہ جس نے اس حمام میں ہر ننگے کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ورنہ آج صلاح الدین کی منہ چڑاتی تصویر دنیا کی نظر سے اوجھل ہی رہتی، ساہیوال سانحے کے بے گناہوں کے ساتھ پولیس کی درندگی کا گواہ صرف اللہ ربّ العزّت ہوتا یا درندگی کا ننگا ناچ ناچنے والے درندے، کراچی میں معصوم ریحان کو مارتے پیٹتے اور اس کی معصوم جان لیتے بھیڑیئے ہوتے، ہمیں معلوم ہی نہ پڑتا کہ ریاست مدینہ اور اس کے صوبے کوفہ میں عوام کی عزت و جان مال کے رکھوالے ہی ان کی جانوں عزتوں کے درپے بنے ہوئے ہیں۔

پچھلے کچھ دنوں سے پنجاب پولیس کی درندگی اور بربریت کے کارنامے زبان زدِ عام ہیں جبکہ ان کی فلمیں اب ملک میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئی بدیس میں مشہور ہونے لگی ہیں۔ ہمارے حاکم کشمیر میں ہندستانی حکومت اور مودی کی بربریت انسانی حقوق کی پامالی کا رونا تو رو ہی ہے مگر اپنے ملک میں اپنی ہی رعایا کے ساتھ روا رکھی جانے والی وہشت و بربریت اور انسانی حقوق کا زنا انہیں نظر نہیں آ رہا۔ خان صاحب سے اب قوم یہ پوچھنا شروع ہوگئی ہے کہ

حکمراں تُونے جو یہ شور مچا رکھاہے

نئے پاکستان میں بتا بھی کہ نیا پن کیا ہے

دندناتے ہیں میرے دیس میں خونی قاتل

وہی انساں کی تجارت، وہی لاشہ بسمل

اب بھی قانون غریبوں کو پکڑ لیتا ہے

اور جو دوست نہیں ان کو بھی دھر لیتا ہے

ان رئیسوں کو وزیروں کو یہ پوچھے گا کیا

تیرا ہونا ہی جنہیں پاک بنا دیتا ہے

اقربا آج بھی جاتے ہیں نوازے سارے

اور تکتے ہی گزر جاتے ہیں قسمت کے مارے

جو سُلا دیتے تھے بچوں کو فقط لوری پر

آج بھی بھوک سے مجبور ہیں خودسوزی پر

نعرے تبدیلی کے اور محل سجا رکھا ہے

نئے پاکستان میں بتا بھی کہ نیا پن کیا ہے۔

تبدیلی کی ہوا عوام کے ذہنوں، دلوں دماغوں سے سوچوں اور لفظوں سے ہی ہوا ہوگئی ہے وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ اگر پچھلے چور تھے یا ڈاکو تھے تو ملک کی معاشی صورتحال مہنگائی کی حالت اس طرح دگرگوں کیوں نہ تھی، ملک کا استحکام پکڑتا امن، آہستہ آہستہ پٹری پہ کیوں آ رہا تھا، اگر پچھلے چور تھے یا ڈاکو تھے تو اب تک ملک سے لوٹے دو سؤ ارب ڈالر ملکی خزانے میں کیوں جمع نہیں ہوئے، کیوں ایک سؤ ارب آئی ایم ایف کے منہ پہ مار کر ایک سؤ ارب عوام کی فلاح وبہبود پہ خرچ نہیں کیے گئے۔

جب پچھلے چوروں ڈاکوؤں کے راج میں دس ارب روزانہ کی بنیاد پہ سرکاری خزانے پہ ڈاکہ مارا جارہا تھا تو اب دیسی ریاست مدینہ کے پاک ایماندار حاکم کے آنے کے بعد وہ روزانہ چوری ہونے والے دس ارب جو ایک سال میں 3600 ارب سے زائد بنتے ہیں بچ گئے ہوں گے وہ کہاں خرچ ہوئے ایسے نجانے کتنے ان گنت سوالات ہیں جو قوم اپنے حاکمِ مدینہ سے پوچھ رہی ہے مگر اس وقت ہم اپنے حاکم سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آپ کی دیسی ریاست مدینہ کوفے سے بھی زیادہ جھوٹی منافق اور کربلا سے زیادہ ظالم و جابر آخر کون ہے؟

حاکم وقت کو اس سوال کا جواب بلا تاخیر دینا چاہیے یا پھر اس عوامی غیض و غضب کے لئے تیار رہنا چاہیے جو بڑی بڑی سلطنتیں نیست و نابود کر گیا، کیونکہ ریاست مدینہ کے صوبے کوفہ کی پولیس بے لگام گھوڑے کی طرح بن چکی ہے جو ہر غریب بے پہنچ، ہر بے بس و لاچار، بے گناہ و معصوم کو مسلسل روندتی چلی جا رہی ہے اور اس کی رفتار میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •