صلاح الدین کی بیک گراؤنڈ اور تشدد کی اندرونی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صلاح الدین ولد محمد افضل ایک عادی چور تھا یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں پولیس ایک شتر بے مہار ادارہ ہے جو اپنے اختیارات اور طاقت کے غلط استعمال کے باعث اس قدر بدنام ہو چکا ہے کہ شہریوں میں پولیس کا تصور اب ایک محافظ کا نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ایک ظالم اور جابر ادارے کا بن چکاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اختیارات اور طاقت اگر کسی کو شہری کو اس کا جائز حق دلانے کے لئے استعمال کرنا پڑیں تو پولیس اہلکار انفرادی اور اجتماعی طور پر اس سے گریز کرتے ہیں۔

رحیم یار خان میں گرفتاری کے بعد سرکاری تحویل میں جان دینے والے صلاح الدین کا معاملہ کچھ تو ویسے بھی پیچیدہ ہے اوپر سے سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات میں اس واقعہ کی غیر ذمہ دارانہ اور نامکمل رپورٹنگ نے بھی معاملے کو مزید پیچیدہ بنا کر پیش کیا ہے۔ در اصل کسی بھی ادارے پر تنقید کرتے ہوئے ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے نہ کہ کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف اپنے ذاتی بغض پر مبنی جذبات کی تسکین۔

جیسا کہ سوشل میڈیا پر ایک ٹی وی چینل نے ڈی پی اور رحیم یار خان سے یہ بات منسوب کی کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔ ذاتی طور پر جب میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ڈی پی اور رحیم یار خان نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اسی طرح پوسٹ مارٹم کے لئے میت کی جلداور جسم کے دوسرے حصوں کے نمونے لینے کے بعد والی تصاویر کو اس طرح پھیلایا گیا کہ یہ پولیس تشدد کے نشانات ہیں اور صلاح الدین کے والد نے بھی ویڈیو پیغام میں تقریباً یہی کچھ کہا۔

صلاح الدین کے والد نے تو اسے ذہنی معذور بھی قرار دیا جو کسی طرح قرین قیاس نہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے متعلق بھی یہ بات پھیلائی گئی کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز نے صلاح الدین پر کسی بھی قسم کے تشدد کو خارج از امکان قراردیا ہے حالانکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک آئی ہی نہیں۔ میت سے فرانزک معائنے کے لئے نمونے بھجوائے گئے ہیں جن کی رپورٹ تقریبا ایک ماہ تک متوقع ہے۔

بادی النظر میں تو یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ صلاح الدین ایک عادی چور تھا۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر اہم یا نازک محسوس نہیں ہوتا کہ پولیس ملزم پر اتنا تشدد کرے کہ وہ جان ہار جائے۔ اور یہی بات شروع دن سے میرے لئے اچنبھے کا باعث تھی۔

مقامی صحافیوں سے رابطہ کرنے پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ کافی ہوش ربا ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ پولیس کے ریکارڈ میں موجود ایک شخص کو پکڑا گیا لیکن فنگر پرنٹ یادوسرے ذرائع سے اس کی شناخت کا عمل شروع کرنے کی بجائے اس پر روایتی تشدد کا حربہ آزمایا گیا۔ صحافیوں کوجو ویڈیوز اس وقت تک دستیاب ہوئی ہیں ان میں صلاح الدین ایک شخص کا نام لے کر کہہ رہا ہے کہ وہ میرا استاد ہے اس کو پکڑیں لیکن پولیس نے اب تک اس رخ پر کوئی قدم اٹھانا گوارا نہیں کیا۔

صلاح الدین کا فیملی بیک گراؤنڈ شاید اب تک کسی بھی اخبار یا ٹیلی ویژن چینل نے کھنگالنے کی کوشش نہیں کی۔ مقامی صحافیوں کے مطابق صلاح الدین کا خاندان ایک جہادی تنظیم سے منسلک رہے ہیں اور اس کے دو بھائی عمران اور سکندر کسی معرکے میں ”شہید“ بھی ہو چکے ہیں۔ اے ٹی ایم کارڈز کی چوری سے جو رقم صلاح الدین اور اس کے ساتھی حاصل کرتے تھے وہ اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کرتے تھے یا کہ وہ کسی تنظیم کو ہدیہ کی جاتی تھی اس بارے اگر کسی ادارے نے تحقیق کی ہے تو وہ اب تک عوام کے علم میں نہیں ہے۔

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ صلاح الدین کی گرفتاری کے بعد پولیس کے تفتیشی مراحل کے دوران اس نے خاکی رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم کے لئے لائی گئی میت کو ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنائی گئی تھی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی الزام میں گرفتارہونے والے صلاح الدین جیسے غریب آدمی کو تو پولیس پانی بھی مشکل سے دیتی ہے، یہ لباس کیسے بدل گیا؟ مقامی صحافتی ذرائع کے مطابق ہی صلاح الدین کو گرفتاری کے بعدپولیس سٹیشن سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ لیکن پولیس نے کسی بھی سطح پر اس منتقلی کا کوئی ذکر نہیں کیا نہ ہی میڈیا پر کہیں یہ خبر دیکھنے میں آئی ہے۔

مہذب معاشروں میں جرائم کی تحقیق کے لئے جدید ترین ذرائع موجود ہیں۔ گو پاکستان میں پولیس کو ایسی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں دی جاتی لیکن انٹرنیٹ اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت یہ تو ممکن ہے کہ انفرادی طور پر ایسے پولیس افسران جوجرائم کی تحقیق پر مامور ہیں وہ ان جدید ذرائع سے آگہی حاصل کریں تاکہ روایتی غیرانسانی طریقہ تفتیش جو کہ ادارے اور ملکی بدنامی کا باعث بن رہا ہے اس کا خاتمہ ممکن ہو۔

لیکن اس سارے قصے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ صلاح الدین کے ماورائے عدالت قتل کا کوئی کمزور سا بھی جواز تراشا جا سکتا ہے۔ پولیس سمیت یہ کسی بھی ادارے کا حق نہیں کہ وہ کسی ملزم پر تشدد کرے اور وہ بھی اس قدر کہ انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمارے ہاں ہر ایسے واقعے کے بعد حکام اس کا نوٹس لیتے ہیں، رپورٹ طلب کرتے ہیں اور پھر یہ معاملہ کہیں تحلیل ہوجاتا ہے۔ گزشتہ ایک برس میں وزیراعلیٰ پنجاب بچوں یا خواتین سے زیادتی کے کتنے واقعات کے نوٹس لے چکے ہیں؟ کتنی رپورٹس طلب کر چکے ہیں؟ کسی کومعلوم ہے ان کا کیا بنا؟ نتیجہ یہ ہے کہ آج پھروزیراعلیٰ پنجاب نے شیخوپورہ میں ایک بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔

جس طرح معاشرہ اچھے انسانوں سے خالی نہیں ہوا اسی طرح پولیس میں بھی بعض اچھے افسران موجود ہیں۔ ایسے افسران کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی آڑ میں پورے محکمہ پولیس کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے کیونکہ یہ بعض افسران یا اہلکاروں کے انفرادی افعال ہیں۔ ممکن ہے ان کی یہ بات درست ہو لیکن جب پولیس حراست میں مسلسل ہلاکتیں ہوں، نجی عقوبت خانے منظر عام پر آئیں، جرائم کی سطح مسلسل بلند ہوتی جائے اور عدالتیں ہر دوسرے مقدمے میں پولیس کو ناقص تفتیش پر مطعون کریں تو یہ محکمے کا اجتماعی تصور بن جاتا ہے جس سے چھٹکارہ پانا اتنا آسان نہیں۔

کمزور پر ہر طرح کا تشدداور جبر روا رکھنا ہماری پولیس کا کلچر بن چکا ہے۔ اس کلچر سے چھٹکارے کے لئے میرٹ پر عمل درآمد اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری ہے۔ سیاسی مخالفت کا خاتمہ کیسے ہوجب ملک میں امن وامان کا ذمہ دار محترم وزیر ایک ضلع کے ڈی پی او کو سامنے کھڑا کر کے دُشنام سے نوازے۔ ابھی ابھی فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں ایک باپردہ خاتون (جو اپنا تعارف ایک ڈاکٹر کے طورپر کروا رہی ہیں ) روالپنڈی کے ایک مصروف چوک میں دہائی دے رہی ہیں کہ ویسٹریج پولیس نے علاقے میں مبینہ طور پر فحاشی کا اڈہ بنا رکھا ہے جس سے آس پاس کے شرفا کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ ممکن ہے کچھ دیر میں اس پر کوئی نوٹس لے اور چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لے، یا پھرخاکم بدہن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خاتون ہی کسی دردرناک انجام سے دوچار ہواور نوٹس پھر لیا جائے۔ کیا ریاست ہے یار، ریاست نوٹسیا و رپورٹیا ہی کہیں گے ناں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •